جنگ شروع تم کرو ختم ہم کرینگے، ترجما ن پاک فوج کابھار ت کو جواب

جنگ شروع تم کرو ختم ہم کرینگے، ترجما ن پاک فوج کابھار ت کو جواب

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غور نے دس روز میں پاکستان کو ختم کرنے کی بھارتی گیدڑ ببھبکی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دینگے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اور ملٹری لیڈرشپ کے بیانات غیر ذمہ درانہ ہیں۔ افواج پاکستان اور عوام آپ کو سرپرائز دیں گے۔ جنگ شروع آپ کریں گے لیکن ختم ہم کریں گے۔ مسلط کی گئی جنگ کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جنگ میں کسی کی ہارجیت نہیں ہوتی، انسانیت ہارتی ہے انہوں نے بھارتی حکمرانوں اور ملٹری لیڈر شپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پرواضح کیا ہے کہ جو فوج آٹھ ملین کشمیریوں کو 71سال سے شکست نہیں دے سکی وہ207ملین پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے؟، مسلط شدہ جنگ کا بھرپور جواب دیں گے،پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے،انڈین سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا ندازہ ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں لگی آگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے، دْنیا کو بھی اس خطرے کا ادراک ہو نا چاہیے، پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے،آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو مضبوط و محفوظ کیا،گر‘بھارتی’میرے جانے پر خوش ہیں تو میرے لیے یہ اعزاز ہے، یکم فروری سے نئے ڈی جی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ جمعرات کو یہاں ڈیفنس رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ڈیفنس رپورٹرز میڈیا میں میری بنیادی ٹیم رہے۔ انہوں نین کہاکہ ڈیفنس رپورٹرز نے بھر پور طریقے سے افواج پاکستان کی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے کہاکہ ڈیفنس رپوٹرز نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے افواج کے جذبہ کو مظبوط کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بقا کی جنگ لڑی۔ انہوں نے کہاکہ اس جنگ میں ڈیفنس رپورٹرز نے افواج کا بھر پور ساتھ نبھایا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کا افواج پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار رہا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا نے افواج اور شہیدوں کے لواحقین کے دل جیتے۔ انہوں نے کہاکہ فروری 2019 میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی۔ انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان کی تیاری، موثر جواب نے امن کا راستہ ہموار کیا۔انہوں نے کہاکہ تینوں سروسز نے اپنے آپ کو قابل فورس کے طور پر منوایا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی قیادت نے اس خطرے کو احسن طریقے سے نمٹایا۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی سْپیریر ملٹری سٹریٹیجی نے جنوبی ایشیا کو بہت بڑی تباہی سے بچایا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت اور ملٹری لیڈر شپ غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں،جو فوج آٹھ ملین کشمیریوں کو 71سال سے شکست نہیں دے سکی وہ207ملین پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ جنگ میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی، انسانیت ہارتی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ مسلط شدہ جنگ کا بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انڈین لیڈر شپ کہتی ہے 7،10دن میں پاکستان کو ختم کر دیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پاکستان اور افواجِ پاکستان ہمیشہ آپ کو اپنےSurprise کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ بات صرف 7،10دِن کی نہیں اس سے پہلے اور بعد کی بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے بھی کہا تھا جنگ شروع آپ کریں گے، ختم ہم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ انڈین سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا ندازہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی لیڈر شپ کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کو بند کریں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں لگی آگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ دْنیا کو بھی اس خطرے کا ادراک ہو نا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل باجوہ کی ملٹری ڈپلومیسی نے اقوامِ عالم میں پاکستان کا مقام بلند کیا۔ انہوں نے کہاکہ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف نے پاکستان کی سلامتی و ترقی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مشکل وقت میں بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 20سال پہلے کیNegative RelevancسےPositive Relevanceمیں جا چْکاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنا ہے،متحد ہو کر مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی دْنیاوی طاقت ایک متحد قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہاکہ افواج اسلحے کے زور پر نہیں، جذبہ ایمانی اور عوام کی حمایت سے لڑتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ذمہ دارافراد ایسے بیانات نہیں دیتے،آرمی چیف نے آپریشن شیر دل سے ضرب عضب تک کی کامیابیوں کو ردالفساد کے ذریعے مستحکم کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ آپریشن ردالفساد سب سے مشکل آپریشن اور دائمی امن کیلئے اہم ترین مرحلہ ہے،خطے میں امن کیلئے آرمی چیف کے تاریخی اقدامات رہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ آرمی چیف نے ملکی امن کیلئے اہم اور مشکل اقدامات کیے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ آرمی چیف نے مذہبی ہم آہنگی و مدرسہ ریفارمز میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ آرمی چیف نے پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو مضبوط و محفوظ کیا،باجوہ ڈاکٹرائن ملکی سلامتی پر کوئی بھی سمجھوتہ کیے بغیر ملک اور خطے میں امن لانا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ آئی ایس آئی دنیا کی مانی ہوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے، آئی ایس آئی اور آئی بی،ایم آئی نے مل کر بہت سے دہشت گردی کے واقعات کو روکا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہمیں اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر فخر ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بطور ترجمان کوئی بات ذاتی رائے نہیں ہوتی،ملٹری ترجمان پالیسی سے مبرا کوئی بات نہیں کر سکتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ اگر‘بھارتی’میرے جانے پر خوش ہیں تو میرے لیے یہ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ سب کے تعاون کا شکریہ، میڈیا کا شکریہ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام بالخصوص سوشل میڈیا پر نوجوانوں کا شکریہ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ہم سب کا ایک عہدِوفا ہے،عہدِوفا وطن، وطن کی مٹی و ہم وطنوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہاکہ عہدِوفا کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ،انشااللہ ہم اس عہد کو وفا کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ یکم فروری سے نئے ڈی جی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ترجمان پاک فوج

مزید : صفحہ اول