قومی اسمبلی، سی پیک اتھارٹی سمیت 2ترمیمی آرڈیننس میں توسیع منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی، سی پیک اتھارٹی سمیت 2ترمیمی آرڈیننس میں توسیع منظور، اپوزیشن ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں سی پیک اتھارٹی اورٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس میں 3ماہ کی توسیع کی قراردادیں منظور کروا لیں جبکہ ایوان زیریں میں قومی احتساب بیورو (نیب)ترمیمی آرڈیننس، نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین اور ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس پیش کر دئیے گئے،فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی توثیق کابل 2019 بھی منظور کر لیا۔اپوزیشن نے 2آرڈیننس میں توسیع اور3آرڈیننس پیش کرنے کیخلاف واک آؤٹ کیا،وفاقی وزراء کی جانب سے مذاکرات کے باوجود ایوان میں آنے سے انکار کرتے ہوئے آرڈیننس کی توسیع اور پیش کرنے کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہمارا بنیادی کام ملک کیلئے قانون سازی کرنا ہے،ہم یہاں آرڈیننس پاس کرنے نہیں آتے،حکومت نے آرڈیننس کی مدت میں توسیع کیلئے قبل ازوقت اجلاس بلایا،حکومت آرڈیننس میں توسیع کی بجائے ان کے بل پیش کرے نیب قانون میں ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت جاری ہے مگر پھر وہی نیب آرڈیننس پیش کیا جا رہا ہے،ہم اسطرح کی قانون سازی کا حصہ نہیں بنیں گے۔قبل ازیں اپوزیشن کی غیر حاضری میں پارلیمانی سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی کنول شوزب نے چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی آرڈیننس 2019 کو 2فروری 2020 سے مزید 120 دن کی توسیع کی قرار داد پیش کی جو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلی جبکہ وفاقی وزیر ریونیو حماد اظہر نے قوانین محصولات ترمیمی آرڈیننس 2019 کو 3 فروری 2020 سے مزید120 دن کی توسیع کی قرار داد پیش کی جو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلی۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے قوانین محصولات ترمیمی آرڈیننس 2019(نمبر بابت26) پیش کیا جبکہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین ترمیمی آرڈیننس 2019اور قومی احتساب بیورو(نیب)(دوسری ترمیم) آرڈیننس 2019 ایوان میں پیش کیا۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے وفاقی پبلک سروس کمیشن کی جانب سے منعقدہ مسابقتی امتحان کو منضبط کرنے کیلئے قواعد کی توثیق کا بل(فیڈرل پبلک سروس کمیشن قواعد کی توثیق بل 2019) منظوری کیلئے پیش کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بل کی شق وار منظوری کے بعد رائے شماری کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی فضل محمد خان،ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ اور شیراکبر خان کی جانب سے پیش کئے جانے والے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری عندلیب عباس نے کہا کہ چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا ہے اور حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں احتیاطی تدابیر کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے مگر اپوزیشن محض سیاست کر رہی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ یہ مسئلہ نہایت اہم اور توجہ طلب ہے،یہ ایک نیا وائرس ہے ہمیں اس پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانہ تمام تر حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے وہاں یہ صرف ایک پاکستانی طلباء میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باقی میں ابھی شبہ ہے،ان تمام طلباء کو خوراک سمیت دیگر ضروریات کیلئے سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،ان کا علاقے سے باہر نکلنا منع ہے اور وہ جب بھی نکلتے ہیں تو ان کو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں یہ وائرس پہنچا ہے انہوں نے اپنے شہریوں کو جلدی میں وہاں سے نکال لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وائرس سے نمٹنے کیلئے این آئی ایچ مکمل انتظامات کر رہی ہے۔رکن اسمبلی ملک احسان اللہ ٹوانا نے کہا کہ حکومت کے اقدامات سے ہم مطمئن ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ مزید بھی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔رکن اسمبلی شیراکبر نے کہا کہ چین کے شہر ووہان میں پھنسے طلباء کے والدین پریشانی کا شکار ہیں،کیا حکومت ان طلباء کو واپس لانے کیلئے اقدامات کرر ہی ہے؟۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ان طلباء کو وہاں سے نکالنا درست نہیں ہے اور یہ ان کیلئے اور انکے خاندان کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے ائیرپورٹس پر وائرس کی چیکنگ کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔اس طرح بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے انتظامات کئے جارہے ہیں تاکہ یہ وائرس پاکستان میں نہ پھیل سکے۔رکن اسمبلی راجہ ریاض نے کہا کہ پنجاب میں ٹڈی دل نے فصلوں کو تباہ کیا ہے اور کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت غریب کاشتکاروں کے نقصانات کا ازالہ کرے۔انہوں نے کہا کہ لاہور سے ملتان اور فیصل آباد کے اہلیان گزشتہ6ماہ کے دوران موٹروے پر سہولیات نہیں ہیں اور نہ ہی پٹرول دستیاب ہے،جس سے مسافروں کو مشکلات کاسامنا ہے، وزارت مواصلات اس سلسلے میں فوری اقدامات کرے۔جس پر وزارت مواصلات مراد سعید نے کہا کہ موٹرویز کی تکمیل کے بعد اس پر دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے طریقہ کار کے مطابق ٹینڈر کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملتان سکھر موٹروے کا منصوبہ6ماہ قبل مکمل کیا گیا اور ایوان میں مطالبے کے بعد اس کو مقررہ وقت سے پہلے کھولا گیا ہے،جس کی وجہ سے مسائل ہیں،ان مسائل کو حل کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول