ٹرمپ، مواخذہ، سابق مشیر جان بولٹن کی گواہی اور کتاب سے ہاؤس پریشان

    ٹرمپ، مواخذہ، سابق مشیر جان بولٹن کی گواہی اور کتاب سے ہاؤس پریشان

  



وشنگٹن(اظہرزمان، خصوصی رپورٹ) صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لئے اس وقت سینیٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس میں سابق مشیر سلامتی جان بولٹن کا جو موقف سامنے آنے اولا ہے اس سے وائٹ ہاؤس بہت پریشان ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے اختلافات کی بناء پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جن کا موقف مواخذے کے مقدمے میں بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے ایوان نمائندگان کی اکثریتی ڈیموکریٹک پارٹی نے مواخذے کے جو دو بل منظور کئے تھے اس کا مرکزی نکتہ صدر ٹرمپ کا یوکرین پر دباؤ ڈالنے کا معاملہ تھا اور جان بولٹن نے سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے موقع پر اس کا مشاہدہ کیا تھا۔ سینیٹ میں مقدمہ جیتنے کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے جبکہ سوارکان کے ایوان میں مقدمے کا استغاثہ دائر کرنے والی ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس دو آزاد ارکان سمیت کل 47ووٹ ہیں جبکہ ری پبلکن پارٹی کو53ووٹوں سے اکثریت حاصل ہے۔ تاہم کسی گواہ کو طلب کرنے کے لئے سادہ اکثریت چاہئے ہوتی ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے ارکان پارٹی لائن کے مطابق مقدمے کو رد کر سکتے ہیں لیکن کچھ ان میں سے ایسے ہیں جوحقائق کو سامنے لانے کے لئے اہم گواہوں کو طلب کرنے کے حق میں ہیں۔ اس لئے چند ری پبلکن ارکان کی حمایت سے ڈیمو کریٹک پارٹی جان بولٹن سمیت کچھ مزید گواہوں کو طلب کرنے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ میں اکثریتی لیڈر مچ میکانل اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ جان بولٹن کو گواہی دینے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس دوران جان بولٹن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے تعلق کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جو جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔ ان کا ٹرمپ مخالف موقف بہت واضح ہے جس کی بناء پر وہ مستعفی ہوئے تھے۔ لیکن اس کتاب کے جو چند اقتباسات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق یوکرین پر دباؤ ڈالنے میں صدر ٹرمپ کا مرکزی کردار تھا۔ اس لئے اس کتاب کی اشاعت اور جان بولٹن کی سینیٹ میں شہادت ڈیمو کریٹک پارٹی کے موقف کو مضبوط سہارا دے گئی۔ سینیٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث وہ مواخذے کا مقدمہ شاید نہ جیت سکے لیکن اس کا رائے عامہ اور 2020ء کے صدارتی اور کانگریس کے انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا۔ اسی خطرے کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل نے جان بولٹن کے وکیل کے نام ایک مراسلے کے ذریعے دھمکی دی ہے کہ ان کی متوقع کتاب میں سے یوکرین سمیت تمام ”حساس مواد“ نکال دیا جائے کیونکہ انہیں وائٹ ہاؤس کے دور کے کلاسیفائڈ یا خفیہ حساس مواد کو پبلک کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مراسلے میں لکھا ہے کہ ”وفاقی قانون اور راز فاش نہ کرنے کی پابندی کے معاہدوں کے مطابق، جو کلاسیفائیڈ اطلاعات تک رسائی کے لئے لازم ہیں، ان پر آپ کے موکل نے دستخط کئے ہیں۔ مسودے میں کلاسیفائیڈ اطلاعات کو حذف کئے بغیر انہیں شائع نہیں کیا جا سکتا۔“ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس جان بولٹن کے وکیل سے رابطے میں رہے گا اور مسودے پر نظرثانی کے لئے تفصیلی ہدایت نامہ جلد ہی جاری کیا جائے گا۔ اس دوران سینیٹ میں استغاثہ اور دفاع کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جمعرات کے روز سینیٹرز کا تحریری طور پر سوال پوچھنے کا دو روزہ سلسلہ ختم ہو گیا، جمعہ کے روز سینیٹ میں جان بولٹن سمیت مزید گواہوں کو طلب کرنے پر ووٹنگ ہو گی۔

وائٹ ہاؤس پریشان

مزید : صفحہ اول