جس طرح لاہور کی حدود کو پھیلایا گیا اس کا نام ایل ڈی اے رکھ دیاجائے

جس طرح لاہور کی حدود کو پھیلایا گیا اس کا نام ایل ڈی اے رکھ دیاجائے

  



لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے درختوں کی کٹائی، سموگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ جس طرح لاہور کی حدود کوپھیلایاگیا ہے،اس کا نام بدل کرایل ڈی اے رکھ دیا جائے،پیسے درختوں کا متبادل نہیں ہے، درخت جیتے جاگتے اور ہمیں زندگی دیتے ہیں۔فاضل جج نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سموگ کے تدارک کے لئے سفارشات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے،عدالت نے قرار دیا کہ اگر ساہیوال پلانٹ ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہے تو عدالت حکم صادر کرے گی، طے شدہ حفاظتی اقدامات نہ کرنے پر سزاء کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ساہیوال کول پاور پلانٹ کے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ سموگ کی خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے تدارک کے لئے اجلاس کیوں نہیں کئے گئے؟ کارروائی کرنے کی بجائے کمیٹی بنائی، بتایا جائے کہ تدارک کے لئے کام کب شروع کیا جائے گا؟ عدالت نے نجی ہوٹل کے سامنے درختوں کی کٹائی کے حوالے سے پی ایچ اے افسر کی لاعلمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہوٹل انتظامیہ نے کس اختیار کے تحت درخت کاٹے، درختوں کا معاملہ جب سے محکمہ آبپاشی سے محکمہ جنگلات کے پاس گیا ہے بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ ایل ڈی اے کے وکیل نے 2050 تک کا ماسٹر پلان پیش کرتے ہوئے کہا کہ 5.16 ملین درخت چار برسوں میں لگانے کا منصوبہ ہے،ایک کینال کے گھر میں دس درخت لگانا لازمی قرار دینے کا قانون بنایا جا رہا ہے،پچاس ملین روپے کی رقم درخت لگانے کیلئے مختص کی گئی ہے،عدالت نے مذکورہ بالا احکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی۔

درخت کٹائی

مزید : صفحہ آخر