بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 8ارب روپے کے گھپلوں کا انکشاف

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 8ارب روپے کے گھپلوں کا انکشاف

  



اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 8ارب روپے کے گھپلوں کا انکشاف،حکام کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے،جس این جی او کے ذریعے مردم شماری کی جا رہی ہے اس کی اپنی ساکھ مشکوک ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اظہار برہمی، حکام انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ سروے نامی این جی او کا ایڈریس نہ دے سکے، رکن کمیٹی مشاہد حسین سید نے ایڈریس کا پتہ کمیٹی کو بتایا، نیب حکام نے تفصیلات اکٹھی کرنی شروع کردیں۔جمعرات کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس منعقد ہوا۔ اجلا س میں سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر سیمی ایزدی،ثنااللہ مستی کھیل اور سید حسین طارق کے علاوہ متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلا س میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ اعتراضات 2015 - 2016 کا جائزہ لیا گیا۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام نے اجلاس کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آٹھ لاکھ بیس ہزار لوگوں کو سروے کے ذریعے بی آئی ایس پی سے نکالا گیا ہے اگر ایک خاندان کے تین لوگوں نے ایگزیکٹو فیس سے شناختی کارڈ بنایا ہو تو اسے بھی بی آئی پی سے خارج کیا گیاہے یہ لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ بی آئی ایس پی بورڈ نے کیا ہے حکام کے مطابق اگر کوئی فرد حج پر یا کسی سفر میں ڈیڑھ سے 3 لاکھ خرچ کر سکتا ہے تو وہ پی آئی ایس پی سے مستفید نہیں ہونا چاہئے ٹوٹل 16 فیصد لوگوں کو نکالا گیا ہے۔

سپورٹ پروگرام

مزید : صفحہ آخر