بے دین قوتیں پاکستان کی اصل شناخت مٹانے پر تلی ہوئی ہیں‘ مولانا خلیل الرحمان

  بے دین قوتیں پاکستان کی اصل شناخت مٹانے پر تلی ہوئی ہیں‘ مولانا خلیل ...

  



وہاڑی(بیورورپورٹ+نمائندہ خصوصی) معروف سکالرآل پاکستان مشائخ کونسل کے راہنما مولاناخلیل الرحمان نے کہاہے کہ پاکستان اس وقت مختلف مسائل کاشکاہے حکومت کی طرف سے(بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

واضح پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے بے دین قوتیں پاکستان کی اصل شناخت مٹانے پرتلی ہوئی ہیں مذہبی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ قوم کواصل حقائق سے آگاہ کریں وہ مبارک مسجداہل حدیث میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے اس موقع پرڈاکٹرعامررشید،قاری یحی کریم،عبدالمنان ایڈووکیٹ،قاری عبدالرحمان عزیز،قاری اسدللہ اسلم،شیخ محمدنعیم،ارشاداحمد،محمدعثمان،شیخ محمدعرفان،حافظ محمدادریس انصاری سمیت شہریوں کی کثیرتعداد موجودتھی مولاناخلیل الرحمان کاکہناتھامشرق وسطی پرٹرمپ کی پالیسی پرپاکستان اورایران کاموقف درست ہے جبکہ سعودی عرب کاموقف ابھی واضح نہیں ہے سعودی عرب کے کسی بھی راہنماکابیان بھی سامنے نہیں آیابیت المقدس کے مسئلہ پرپوری دنیاکامسلمان ایک پیج پرہے ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ ریاست مدینہ کاجوخواب وزیراعظم نے اقتدارسے پہلے دکھایاتھاوہ خواب خواب ہی رہ گیاہے اب صرف ریاست مدینہ کانام لیاجارہاہے عملی کام نظرنہیں آرہاموجودہ دورحکومت میں قادیانیوں کوکھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جبکہ مسلمانوں کونئی مساجدبنانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ان کایہ بھی کہناتھاکہ میڈیاپرعریانی اورفحاشی پھیلائی جارہی ہے لیکن پیمرااس کاکوئی نوٹس نہیں لے رہامیڈیاکے ذمہ داران اگرچاہیں تومیڈیاکودین پھیلانے کاذریعہ بنایاجاسکتاہے لیکن میڈیاکاقبلہ درست نہیں ہے ان کایہ بھی کہناتھامذہبی جماعتوں کے اختلافات میں اوران کویکجانہ ہونے میں عوام کازیادہ قصورہے کیونکہ عوام کی اکثریت مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ان کامزیدکہناتھاکہ اتحادبین المسلمین اس وقت ہوسکتاہے جب ایک دوسرے کے مشاہیرکااحترام کیاجائے کسی کے اکابرکوتنقیدکانشانہ نہ بنایاجائے مذہبی تناؤعلمامیں نہیں ہے بلکہ نچلے طبقہ میں ہے نچلہ طبقہ اگراپناقبلہ درست کرلے توکسی مذہبی راہنماکی جرات نہیں ہے کہ اختلافی باتوں کواچھالے۔

خلیل الرحمن

مزید : ملتان صفحہ آخر