ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل کے خلاف مبینہ طور پر ملزمان سے تین کروڑ روپے کی رقم مانگنے اور قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے سے متعلق درخواست خارج

ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل کے خلاف مبینہ طور پر ملزمان سے تین کروڑ روپے کی رقم ...

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)ایڈیشنل سیشن جج ملتان محمد نواز بھٹی نے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل کے خلاف مبینہ طور پر ملزمان سے تین کروڑ(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

روپے کی رقم مانگنے اور قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے سے متعلق درخواست کو خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ فاضل عدالت میں دو قیدیوں شہزاد اور مقصود کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے مطابق جیل میں ہر نئے قیدی سے 3 ہزار اور بال کٹوانے کے لیے بھی ڈیڑھ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ قیدی فیصل کو تشدد کا نشانہ بننے سے بچانے پر ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل دشمن بن گیا ہے اور مقدمہ کے مدعیوں سے ساز باز کرکے انھیں اپنے کمرے میں بلاکر صلح کے لیے مبینہ طور پر 3 کروڑ کی رقم طلب کررہا ہے اور نہ دینے پر انکا جیل ٹرائل کرانے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ انکی ملاقات اور گھر کا کھانا بھی بند کردیا ہے،ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ شیخ عارف امتیاز نے جیل میں بدمعاشوں کے ذریعے دہشت قائم کررکھی ہے، اور بھتہ وصول کرتا ہے،ہر نئے قیدی سے 3 ہزار اور یہاں تک کہ بال کٹوانے کے ڈیڑھ ہزار وصول کیے جاتے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ جیل حکام کو دائرہ قانون میں رہنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست خارج

مزید : ملتان صفحہ آخر