محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا راستہ بند

  محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا راستہ بند

  



لاہور(خبرنگار)محکمہ پولیس میں وزراء اور ارکان اسمبلی سمیت سیاسی شخصیات اب صرف سی پی او، ڈی پی اوز اور ایس پیز کو سفارش کر سکیں گے۔ میرٹ سے ہٹ کر سفارش آئی جی پولیس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو ریفر کی جائیگی۔ محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے محکمہ پولیس میں سیا سی مداخلت کے (بقیہ نمبر46صفحہ12پر)

بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر وزراء اور ارکان اسمبلی کی جانب سے کی جانیوالوں سفارشات پر نیا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔ جس میں وزراء اور ارکان اسمبلی سمیت سیاسی شخصیات پولیس کے متعلقہ کسی قسم کی سفارش ایس ڈی پی او (سرکل افسر) یا ایس ایچ اوز کو نہیں کر سکیں گے اور نئے طریقہ کار کے تحت ارکان وزراء اور اسمبلی کو اپنی سفارش کیلئے سی پی او، ڈی پی او یا پھر ایس پیز سے رابطہ کرنا پڑ یگا اوراس میں ارکان اسمبلی کی جانب سے کی جانیوالی سفارش کا باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائیگا جس میں ارکان اسمبلی کا عہدہ، وز یر کا عہدہ اور نام کیساتھ سفارش جس کام کیلئے سفارش کی گئی اس کا باقاعدہ اندراج کیا جائیگا اور سفارش پر عملدرآمد سمیت کسی قسم کی سفارش سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے اس میں کسی وزیر یا رکن اسمبلی سمیت سیاسی شخصیت کے میرٹ سے ہٹ کر سفارش کو آئی جی پولیس اور آر پی او سمیت سی سی پی او کو ریفر کیا جائیگا، جبکہ زیادہ سنگین فیصلہ ہونے پر وزیر اعلیٰ کو بھی آگاہ کیا جائیگا اور اس کا ایس پی اور ڈی پی او کے دفتر میں باقاعدہ ایک پرفارمہ پر اندراج کر کے روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ مرتب کیا جائیگا،جس کی ایک کاپی آئی جی آفس اور آر پی او دفتر بھجوائی جائیگی، اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا ہے ارکان اسمبلی اور وزراء کی جا نب سے کی جانیوالی سفارش اور عملدرآمد کیلئے ایک نیا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے جس کے تحت ارکان اسمبلی اور وزراء کی سفارشات کا جا ئز ہ لیا جائیگا، ارکان اسمبلی کی پولیس کے بارے میں سفارش نہ ماننے کی شکایات بھی ختم ہو کر رہ جائیں گئیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر