افق اسلام کا بے مثل ستارہ پروفیسر علامہ قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ

افق اسلام کا بے مثل ستارہ پروفیسر علامہ قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ

  



علما سے مراد وہ نہیں جو محض تاریخ، فلسفہ اور دنیاوی و مروجہ علوم کے ماہر ہوں بلکہ حقیقی علماء وہ ہیں جن کے دلوں میں خوف خدا کا غلبہ ہو اسی لئے آپ ﷺ نے ایسے علم اور دل سے پناہ مانگی ہے جو غیر نفع آور اور خشیت الٰہی سے خالی ہو۔فرمان رسول اکرم ﷺ ہے:اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع آور نہ ہو ایسے دل سے جو تیری خشیت سے خالی ہو اور ایسے نفس سے جو سیرنہ ہوتا ہو۔بلاشبہ علماء انبیاء علیہ السلام کے وارث ہیں۔حضور پر نور شافع یوم النشور کے بعدعلماء حق عالم انسانی کے لیے مینار نور ہیں۔ انہیں گروہ صالحین نے لوگوں کے دلوں کو قر آن کریم اور احادیث نبوی ﷺ کے نور سے لبریز کیا۔ حضرت پروفیسر علامہ قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ کا شماربھی انہیں نامور علماء اور اولیااللہ میں ہوتا ہے جنہیں اللہ رب العزت نے بیک وقت ان گنت خوبیوں اور صلاحیتیں عطا فر مائیں۔جن کا نام آتے ہی ان کے ہم عصر علماء کرام اور بزرگ ہستیوں کے سر عقیدت و محبت سے جھک جاتے ہیں۔ اللہ کریم نے آپؒ کو لوگوں کی ہدایت،رہنمائی اور تزکیہ نفس کا ذریعہ بنایا۔جب پروفیسر علامہ پیر قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ ؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کی حیات مبارکہ اس آیہ مبارکہ سے مصدقہ نظر آتی ہے۔”بے شک زمین و آسمان کے پیدا کرنے اور دن و رات کے بدلنے میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں جو لوگ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور کروٹ کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔“

دینی تعلیم کے حصول کے لیے پروفیسر علامہ پیر قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ حزب لاحناف سے منسلک رہے، اولیاء اللہ اور اکابر علماء کرام کی صحبت اختیار کی،اور شعبہ اسلامیہ کی تدریس کے دوران بہت سے طلباء کو تقریبا بتیس سال کے عرصے تک مستفید کیا۔پروفیسرصاحبؒ نے دینی تعلیم کے فروغ کے لیے اور اللہ رب العزت کی رضا کے لیے حضرت داتا گنج بخش کے مزار اقدس پر تقریبا پچیس سال درس قرآن کریم اور حدیث سے لو گوں کے دلوں کو منور کیا۔ آپ ؒعالم باعمل اور تعلیمات مجددیہ کے بے لوث مبلغ درد مند دل کے مالک تھے۔ آپؒ کی ہر تحریر عشق مصطفی ﷺ سے لبریز ملتی ہے، ہر محفل میں آقا کریمﷺ کا ذکر خیر محبت، جوش، جذبہ اور پوری توانائیوں سے کرتے تھے۔ عقائد اہل سنت و جماعت کا ذکر بھر پور انداز میں کرتے رہے۔ عقائد اہل سنت و جماعت پر کار بند رہنے اور عمل کرنے کی تلقین کرتے۔آپ ؒکی نمایاں اور قابل ذکر تصانیف میں حسن الاعتقاد فی ذکر المیلاد مع تحقیق البدعتہ، تصوف رُوح اسلام، فیض مُجدد الف ثانی کی چار صدیاں، بہار توبہ اور حُسن و جمال ُ حبیب رب العالمین شامل ہیں۔پروفیسر صاحبؒ کی ذات منبع فیوض و برکات تھی۔ آپؒ دین اسلام کے خاموش سپاہی تھے اور اپنی ذات کی تشہیر کو پسند نہیں کرتے تھے، امام احمد رضا خان بریلوی کے عا شق اور عقیدہ کے داعی تھے۔

آپؒ ایک ایسے مردِکامل،صوفی با صفاء،درویش اور بزرگ تھے،جن کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا،نہ سپاہ،نہ دنیاوی وسائل اور نہ ہی جاہ وحشمت!کہ جس سے لوگ مرغوب ہو کرآپؒ کے پاس آتے،بس ریاکاری سے پاک،اخلاص کے ساتھ کی جا نے والی عبادت وریاضت کی وجہ سے ربِ قدوس کے انوار وتجلیا ت کے نزول کے باعث،اللہ رب العزت نے آپؒ کو وہ شان عطا فرمائی کہ لوگ آپؒ کے پاس کھچے چلے آتے۔لوگوں کے ایمان کی حفا ظت اور جنت کی طرف رہنمائی کا ذریعہ بننے والے علامہ قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددی ؒ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر سے ایسا معمور، روشن اور نورانی دل عطا فرمایا کہ آپؒ جس چہرے پر نگاہ اور دل پر توجہ ڈالتے اس کے دل کی دنیا بدل کر رکھ دیتے تھے۔ علمی اور تحقیقی میدان میں اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو دور رس نگاہ کی خوبی سے مالا مال کیا۔ اصول پسندی اور قواعد و ضوابط کی پاس داری میں آپ ؒاپنی مثال آپ تھے۔

افق اسلام پر طلوع ہونے والا یہ بے مثل ستارہ جس نے تما م عمر دین الٰہی اور محبت رسول ﷺ کی شمع لاکھوں دلوں میں زندہ کرکے 5فروری2019؁ء کواپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔آپؒ کا مزار شریف میانی صاحب قبرستان میں واقع ہے۔ آپ کا پہلا سالانہ عرس مبارک مورخہ 5فروری 2020؁ء کو منعقد کیا جائے گا۔بلا شبہ ربِ قدوس کے پیارے حبیب ﷺ، صحابہ کرام ؓ اور اُس کے بعد یہ اولیاء کرام و بزرگانِ دینؒ کا ہی فیضانِ خاص ہے کہ آج ہم کو قریہ قریہ نگر نگر ”صدائے عظیم“ سننے کو ملتی ہے اور ایسے ہی آپؒ کی تعلیمات بھی صبح قیامت تک مشعل راہ ہیں۔میری دعا ہے کہ رب کریم پروفیسر علامہ پیر قاری مشتاق احمد نقشبندی مجددیؒ ؒ کی فکر رسا سے پوری قوم کو اکتساب فیض کی توفیق بخشے اور علم و عمل کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید : رائے /کالم