بنوں، سب انجینئرز کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی مظاہرہ

  بنوں، سب انجینئرز کا مطالبات کے حل کیلئے احتجاجی مظاہرہ

  



بنوں (بیورورپورٹ) بنوں سب انجینئرز کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ، مظاہرین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سول سیکرٹریٹ پشاور کے دفاتر کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر دھرنا دینے کی دھمکی دید ی بنوں محکمہ انہار کے دفتر میں سب انجینئرز ویلفیئر ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا نے ٹیکنیکل الاؤنس، سکیل 16 اور سروس سٹراکچر نہ دینے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں سول سیکرٹریٹ اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی سطح پر احتجاج بدستور جاری رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرے سے سب انجینئرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک بشیر احمد، جنرل سیکرٹری مختیار حسین، ملاکند ڈویژن کے صدر اختر حسین، بنوں ڈویژن کے صدر محمد صفی اللہ، جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل پبلک ہیلتھ ورکر یونین کے صوبائی صدر پیر گل علی شاہ، فنانس سیکرٹری ضیاء اللہ و دیگر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام سب انجینئر ز گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے جائز مطالبات کے حق میں قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں لیکن کسی حکومتی عہدیدار نے ان کی کوئی شنوائی نہیں کی ہے ٹیکنیکل ملازمین سے ٹیکنیکل کام تو لیا جا رہا ہے لیکن اُنہیں ٹیکنیکل الاؤنس نہیں دیا جا رہا حالانکہ سب انجینئرز ڈیپارٹمنٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر محکمہ جات میں ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے تاہم انجینئر ز کو مراعات دیئے جا تے ہیں جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں اُنہوں نے کہا کہ سب انجینئرز سکیل 11میں بھرتی ہو کر اسی ہی سکیل میں ریٹائرڈ ہو جا تا ہے جبکہ باقی محکمہ جات میں تمام سرکاری ملازمین لوئر سکیل میں بھرتی ہو کر اگلے گریڈ میں ترقی کر لیتے ہیں ہم چیف انجینئرز نہیں بننا چاہتے ہمیں اپنا حق دیا جائے کیونکہ سب انجینئرز تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ پی سی ون سروے، ایم بی اور فیلڈ ڈیوٹی سر انجام دینے کی ذمہ داری بھی ادا کرتا ہے لیکن آج تک سب انجینئر ز کو کسی بھی سرکاری ادارے میں مراعات کا مستحق نہیں ٹھہرایا گیا سائیٹ ڈیوٹی کیلئے سب انجینئرز کوکوئی ٹرانسپورٹ یا پول کی سہولت میسر نہیں جوکہ سب انجینئر ز کا جائز بنتا ہے اُنہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل الاؤنس کی منظوری، حاضر سروس تمام سب انجینئرز کو سکیل 16 اور سروس سٹرکچرر دیا جائے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے توسول سیکرٹریٹ پشاور میں بھوک ہڑتال اور دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر