عدالت ضمانت لیتی ہے، نیب اسکا نام ای سی ایل ڈال دیتا ہے،جسٹس طارق

        عدالت ضمانت لیتی ہے، نیب اسکا نام ای سی ایل ڈال دیتا ہے،جسٹس طارق

  



لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائیکورٹ نے این ٹی ڈی سی کے فنانس ڈائریکٹر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی دائردرخواست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کو درخواست پر 15 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قراردیاہے کہ عدالت ضمانت لیتی ہے اور نیب اس کا نام ای سی ایل ڈال دیتا ہے، اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ؟ مسٹرجسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے عبدالماجد کی درخواست پر سماعت کی،نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرنے کی استدعاکی گئی جس پر فاضل بنچ نے قراردیا کہ اگر ہائیکورٹ نے ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ہے تو آپ کو اعتراض کیوں ہے؟جسٹس محمد طارق عباسی نے کہا کہ عدالت ضمانت لیتی ہے اور نیب اس کا نام ای سی ایل ڈال دیتا ہے، اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ؟ عدالت شہری کی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا کہتی ہے اور نیب والے یہ حق سلب کرتے ہیں۔

نام،ای سی ایل

مزید : پشاورصفحہ آخر