فلاحی اداروں کو غیر سیاسی بنانے کا فیصلہ،احساس کفالت کارڈ پر قائد اعظم کی تصویر

    فلاحی اداروں کو غیر سیاسی بنانے کا فیصلہ،احساس کفالت کارڈ پر قائد اعظم کی ...

  



اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) وزیر اعظم عمران خان کل 31 جنوری کونئے کفالت پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت ملک بھر کی 7 ملین غریب خواتین کو 2000 روپے ماہانہ نقد مالی معاونت فراہم کی جائیگی۔ احساس کفالت کارڈ پر قائد اعظم کی تصویر کا اجراء حکومت کا اہم دلیرانہ فیصلہ ہے۔ ماضی میں بی آئی ایس پی کے تحت لیے گئے فلاحی اقدامات، کارڈ پر سیاسی شخصیات کی تصویر کی وجہ سے سیاسی رنگ لیے ہوئے ہوتے تھے۔سالوں تک بینظیر کی تصویر بی آئی ایس پی کارڈ پر چھپتی رہی۔اس کے بعد نواز شریف اور بینظیر دونوں کی تصویریں اس کا حصہ بنی رہیں۔ احساس کفالت کارڈ پر قائد اعظم کی تصویر کے اجراء سے حکومت نے فلاحی اداروں کو غیر سیاسی بنانے کا اہم قدم لیا ہے۔احساس کفالت پروگرام کے تحت تمام مستحقین کو،وزیر اعظم کے ”راشن وظائف“ اور ”ون وومن و ن بنک اکاؤنٹ“ وژن کے مطابق مخصوص ATMsاور بینک کی شاخوں کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ہر مستحق خاتون کواپنے سیونگ اکاؤنٹ کی سہولت حاصل ہو گی۔ اس پروگرام کے اجراء سے خواتین کو مالی اور ڈیجیٹل نظام میں شمولیت کے مواقع حاصل ہونگے۔”کفالت بی آئی ایس پی کے مالی معاونت کے پچھلے پروگرام سے بہت مختلف ہے،“ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشترنے کفالت کے اجراء کے حوالے سے اس پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔”دس سال بعد بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔مستحقین کی رجسٹریشن کے لیے سروے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا ہے۔ پہلا سروے دس سال پرانہ تھا اور ادائیگی کا نظام بھی دس سال پرانہ تھا۔اب نیاڈیجیٹل ادائیگی کا نظام لایا گیا ہے۔مالی معاونت کی رقم میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اسے افراطِ زر کی شرح سے منسلک کر دیا گیا ہے۔“ڈاکٹر نشتر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا۔ شفافیت اور احساس وفاداری پالیسی پر عملدرامد اس پروگرام کا اہم حصہ ہے۔کل اس نظام کے اجراء سے لاکھوں غریب خواتین کی زندگیوں میں تبدیلی رونما ہوگی جو سابقہ نقد مالی معاونت کی سکیموں میں کسی نہ کسی طرح معاشی استحصال کا شکار ہوئیں اور مالی نظام سے باہر ہوئیں۔اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کے تحت،اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین نہ صرف پوری رقم وصول کریں گی، بلکہ اپنے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کرنے کے بھی قابل ہوں گی اور اپنے گھرانے سمیت غربت سے باہر نکل سکیں گی۔کفالت پروگرام کا اجراء کل کیا جائیگا اور 2020ء کے اختتام تک 7ملین خواتین کے اس پروگرام سے مستفید ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔

کفالت کارڈ

مزید : پشاورصفحہ آخر