شیطان جنات کی چالیں اور ان کا توڑ

شیطان جنات کی چالیں اور ان کا توڑ

  



رانا شفیق خان پسروری

اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہر طرح کی مشکلات، آلائم،مصائب اور تکالیف سے نجات دینے والا ہے۔ مصیبتوں سے بچانے والا صرف وہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں لیکن کچھ لوگ عوام کی جہالت اور دین سے نا واقفی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے مقاصد اور مفادرات پورے کرتے اور نیک صفت بزرگوں اور اللہ کے ولیوں سے عقیدت رکھنے والوں کے بھول پن سے کھیلتے ہیں۔ عوام کے ایمان، عوام کی جیبوں اور عوام کی عزتوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور ہمارے بھولے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ شا ید یہ لوگ اپنے دم کی وجہ سے، اپنے تعویذوں کی بنا ء پر، اپنے ٹوٹکوں اور شعبدوں کے باعث ہماری تکلیفوں کو دور کرنے والے ہیں اور مصیبتوں سے ہم کو بچانے والے ہیں۔

جان لیجئے عجیب عجیب حرکتیں اور عجیب عجیب باتیں ولایت نہیں، بلکہ ولایت مدینے والےؐ کی اطاعت و اتباع کرنے سے ملتی ہے حضرت جنید بغدادیؒ کا قول محترم پیر کرم شاہ بھیرویؒ نے لکھا ہے کہ ”ولی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ پر قرآن اور دوسرے پر نبی کریم ؐکی حدیث ہو اور اس کی ساری زندگی ان دونوں کے تابع گزرے“شرعی احکام کے خلاف زندگی گزارنے والا دھوکہ باز ہو گا اور بزرگوں کی بد نامی کا باعث بھی۔یہی بات حضرت شیخ علی ہجویریؒ نے اپنی کتاب”کشف الحجوب“ کے ”باب ولایت“ میں بڑی تفصیل سے لکھی ہے اور بتایا ہے کہ ولی شریعت مطہرہ کا پابند اور نماز، روزے اور دیگر دینی احکامات کا خصوصی خیال رکھنے والا ہوتا ہے، پاکی و پاکیزگی اس کی زندگی کالازمہ ہوتی ہے۔

رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایاکہ شیطان جن مختلف انداز اور ہتھکنڈے استعمال کر کے مسلمانوں کوبہکاتے ہیں، ان کے درمیان اختلاف پیدا کرتے ہیں، ان کو لڑاتے ہیں، ان کو تکالیف دیتے ہیں، اور پھر ان کو توحید سے شرک کی طرف لے جاتے ہیں، خاندانوں میں لڑائیاں اکثر شیطان کے وسوسوں سے پڑتی ہیں اور حدیث پاک میں ہے کہ بڑا شیطان ہر روز اپنا دربار منعقد کرتا ہے اور پھر اس کے چیلے آکر اس کے پاس اپنے سارے دن کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہیں وہ سب کی باتیں سن کر انہیں شاباش دیتا ہے، لیکن جو کہتا ہے کہ میں نے ایک گھر کے اندر جھگڑا داخل کر دیا ہے، میاں بیوی کو لڑا دیا ہے، شیطان پہلوں کو صرف شاباش دیتا ہے لیکن جو کہتا ہے لہ میں نے ایک گھر میں جھگڑا کروا دیا ہے یا میاں بیوی کو لڑا دیا ہے، خاندانوں میں اختلاف پیدا کر دیا ہے تو بڑا شیطان اُٹھ کر اس کے ساتھ مصافحہ کرتا اورگلے سے لگا لیتا ہے۔ اِسی طرح رسول ُاللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اکثر شیطان گھروں کے اندر چوریا ں کر کے گھر والوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر دیتے ہیں اور اُن غلط فہمیوں کی وجہ سے گھروں کے اندر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، کسی شخص نے کسی جگہ پیسہ رکھا ہوا ہے،شیطان جن وہاں سے اُٹھا کر کسی اور جگہ رکھ دیں گے یا غائب کر دیں گے، تا کہ غلط فہمی پیدا ہو اور گھر کے اندر لڑائی شروع ہو جائے۔

اِسی طرح شیطان لوگوں کو چبھن دے دے کر تکلیفوں میں مبتلاکر دیتے ہیں اور پھر ان کے دلوں میں وسوسے پیدا کر دیتے ہیں کہ تمہاری یہ تکلیف صرف اسی صورت ختم ہو گی کہ تم فلاں کے پاس جا کر فلا ں عا مل کے پاس جا کر اپنا علاج کرواؤ، وہ عامل جادو ٹونے سے کام لینے والا ہوتا ہے اور جادو ٹونا وہ ہے جِس کو بالا جما ع کفر کہا گیا ہے۔

رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ جو جادو ٹونے سے کام لیتا ہے اُس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ اُس نے اس شریعت کے ساتھ کفر کیا ہے جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ہے“۔ جبکہ ہمارے ہاں تو اکثر جادو ٹونا کرنے والے عامل اپنے اشتہارات میں خود کو فخر سے چوہرا جادوگر اور غیر مسلم عامل لکھتے ہیں

اِسی طرح شیطان جن، آسیب کی صورت انسان کو چمٹ جاتے ہیں۔

اِسی طرح شیطان مختلف لوگوں پر جادو کر دیتے ہیں اور پھر اس کے حل کے لئے مختلف طریقے اختیار کرنے کی طرف رغبت دلاتے ہیں، جو طریقے جادو اور ٹونا ہوتے ہیں

اللہ کے رسولؐ نے اور خود اللہ نے ان سارے شیطانی ہتھکڈوں سے بچنے کے طریقے بتائے ہیں، شیطانی ہتھکنڈوں سے آگاہ بھی فرمایا ہے اور بچنے کے طریقے بھی بتائے ہیں، سب سے پہلا کلیہ جو اللہ نے ہمارے سامنے رکھا، وہ یہ ہے کہ کسی بھی صورت کسی جن کو اپنے سے طاقتور نہیں سمجھنا چاہیے، ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ مختلف گھروں میں چلے جائیں تو ایک خاص کونے میں انہوں نے اگر بتیاں جلائی ہوتی ہیں، ہر شام کو وہاں دیا جلایا جاتا ہے، کیا ہے؟ یہاں جن بابا رہتا ہے۔ اُس کمرے کو اتنا تقدس دیا جاتا ہے کہ مسجدوں کو اتنا تقدس نہیں دیا جاتا، جتنا ان کمروں کو۔چنانچہ اس کا خوف سارے گھر پر، سارے خاندان پراور سارے محلّے پر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اِنسان کو اِس خوف سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ سورۃالجن میں مرقوم ہے جب انسان کو پیدا کیا گیا تو جنّوں نے بستیوں کو چھوڑ دیا، ویرانوں میں جا کر پناہ لے لی، جہاں انسانوں کا قدم پڑتا جن وہا ں سے بھاگ کھڑے ہوتے جِن انسانوں سے خوف محسوس کرنے لگے، ڈرنے لگے، گھبرانے لگے۔ لیکن کچھ مشرکوں اور غلط عقائد کے حاملین نے کیا کیا کہ جب ویرانوں اور جنگلوں میں جاتے، سفر کرتے ہوئے کسی بے آباد علاقے میں جاتے تو کہتے، ہم اِس علاقے، اِس جنگل، اِس بیابان اور اِس ویران جگہ کے سردار جن کی پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ کی پناہ چھوڈ کر جنّوں کی پناہ مانگنے لگے جنوں نے دیکھا کہ ہم انسان سے گھبراتے ہیں اور یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں، چنانچہ جنوں نے زیادہ انسانوں کو ڈرانا شروع کر دیا۔ پہلے جن انسانوں سے ڈرتے تھے اور اب انسان جنوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی پناہ چھوڑ کر جن کی پناہ مانگنی شروع کر دی۔ اللہ نے سورۃالجن میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ”انسانوں میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جو جنّوں سے پناہ مانگتے ہیں اُن کے اِس کام نے جنّوں کی سرکشی میں اضافہ کر دیا ہے“۔

سب سے پہلے یہ ذہن بننا چاہئے کہ انسا ن اشرف المخلوقات ہے اس لئے جنوں سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ لیکن آج صورتِ حال کیا ہے، آ ج جنّوں سے صرف پناہ ہی نہیں لی جاتی بلکہ ان سے تعلق قائم کرنے کے عمل بھی کئے جاتے ہیں ان کے نام کے باقائدہ عمل کئے جاتے ہیں اور وظیفے کئے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک عامل تھا۔ کچھ لوگ ہیں جو انگوٹھے پہ سیاہی لگا کر بچوں کے ذریعے سے دیکھتے دکھاتے ہیں، اس نے کیا کیا کہ انگوٹھے کی سیاہی کی طرح سیاہی ایک چارٹ پر لگا دی اور چھوٹے سے معصوم بچے کو پکڑ کر اس پر عمل کرتا اور شیطانوں کے ساتھ گفتگو کرتا، مجھے پتہ چلا، میں نے اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیا اور وہاں جا کے میں نے اس سے وہ چارٹ لے لیا، اس نے چارٹ کے کونے بنائے ہوئے تھے، ایک پہ لکھا تھا ”یا ابلیس“ ایک کونے پہ لکھاتھا ”یا فرعون“ ایک پر ”یاقارون“ اور ایک پر ”یا شدادِ“ میں نے اسے پکڑ کے جھنجھوڑنا شروع کر دیا میں نے کہا کہ تو عامل اور صوفی کہلاتا ہے، تجھے علم بھی ہے کہ فرعون، ابلیس، قارون اور شداد وغیرہ یہ سب اللہ کے دشمن ہیں اور تو ان کے وظیفے کر کے ان کے عمل بناتا ہے، کہنے لگا جی یہ آتے ہیں میں نے کہا یہ شیطان ہیں وہ تو آئیں گے، لیکن یہ اگر اتنے ہی طاقت ور ہیں تو انہیں کہو کہ یہ بتائیں کہ میری جیب میں کیا ہے؟ کس کس طرح یہ لوگ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور شیطان تو دلوں میں وسوسے ڈالتا ہی ہے۔ شیطان ہی تھا جس نے بہروپ بھر بھر کے لوگوں کو گمراہ کیا تھااور آج بھی کرئے گا اور شیطان اور ہر جن کو اللہ نے یہ تا ثیر دی ہے کہ وہ پوشیدہ رہتا ہے چنانچہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ظاہری دشمن سے تو تم بچ جاتے ہو خفیہ دشمن سے بچنے کے لئے اللہ نے کئی ہتھیا ر دیے ہیں۔ فرمایا،

ترجمہ:

”شیطان کی طرف سے جب بھی تکلیف ہو تو فورا ً اللہ کی پناہ لے لیا کرو“، شیطان یا جن کی پناہ نہیں اللہ کی پناہ لینی چاہئے۔

ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے لوگ جاتے ہیں، فلاں ڈیرے پر گئے ہیں اور فلاں ڈیرے کی مٹی لے آئے ہیں اور بچوں کو چٹانا شروع کر دی ہے۔

ایک بیری ہے اسکے ساتھ کپڑے کے ٹکڑے باندھ رہے ہیں ٹاکیاں لپیٹ رہے ہیں، کیا ہے؟ ان درختوں پہ اگر کپڑوں کی ٹاکیاں لپیٹی جائیں تو مرادیں پوری ہو جاتی ہیں، بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ آسیب دور ہو جاتے ہیں۔

اللہ کے رسول ؐ حنین کے مقام پر گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے دیکھا کہ حُنین کے رہنے والے ایک خاص بیری پر ٹاکیاں لپیٹتے ہیں، کپڑے کے ٹکڑے، جسم کے لباس اور بیری کی ٹہنیوں پر گانٹھ دے دیتے، باندھ دیتے، اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ اِس بیری کی برکت کی وجہ سے ہم پر آنے والی مصیبتیں دور ہو جائیں گی۔

اُس بیری کو ”ذاتِ انواط“ کہا جاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ میں سے بعض بھولے لوگوں نے رسُولؐ اللہ سے کہا،آپ ہمارے لئے بھی ذات ِ انواط مقرّر کر دیجئے،جس کی وجہ سے ہم تبرک حاصل کر سکیں،اللہ کے رسُول نے ارشاد فرمایا،تم کیسی بات کر رہے ہو،تم نے بالکل وہی بات کی ہے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑسے کی تھی،کہ انہوں نے جب بنی اسرائیل کو مختلف معبودوں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ موسیٰ ؑ ہمارے لئے بھی کوئی معبود بنا دے،تم نے وہی بات کی ہے،یاد رکھو تمھیں ذاتِ انواط کی کوئی حاجت نہیں،اس لئے کے تم جب بھی دعا کرو گے تو تمھارا رب تمھاری دعاؤں کو سنے گا۔

کسی پتھر میں، کسی مٹی میں،کسی انسان کی قسمت پوشیدہ نہیں ہے، ساری شفائیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں،نجات اللہ کے ہاتھ میں،تحفّظ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو شفاء اللہ ہی دیتا ہے۔

اگر کسی پتھر کی وجہ سے شفاء ملنا ہوتی، قسمت بدلنا ہوتی،پتھر سے تحفظ ملنا ہوتا،تو اس کائنات میں سب سے افضل اور بہترین پتھر حجرِاسود ہے،باقی سارے پتھر زمین کے ہیں حجرا سود آسمانوں سے آیا ہے۔

حضرت عُمرِ فاروق ؓ،ایک روزبیتُ اللہ کا طواف کرتے ہوئے حجرِ اسود پہ آئے اور آکر حجرِ اسود کا بوسہ لیا،بوسہ لے کر کہا کہ ”حجرِاسود میں جانتا ہوں،تُو ایک پتھر ہے،تُو نہ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ میں تجھے اس لئے چومتا ہوں کہ میں نے اپنے رسولؐ کو دیکھا کہ وہ تجھے چوم رہے تھے،صرف اس لئے چومتا ہوں کہ میرے آقا تجھ کو چومتے تھے۔“

یہ گلیوں کے پتھر کسی انسان کی قسمت کیا بنائیں گے،میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ بازاروں میں،گلیوں میں اور مکانوں کے دروازوں پر اکثر مانگنے والے وہ ہوتے ہیں جن کی انگلیوں میں تین تین چار چار انگوٹھیاں ہوتی ہیں،اِن کے پتھر انہیں مانگنے سے کیوں نہیں بچالیتے؟ وہ در در پہ ٹھوکریں کھاتے ہوئے پیسہ پیسہ جمع کرتے ہیں اسی طرح آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک شخص جس کے پاس ایک صندوقچی ہوتی ہے،قسمت بنانے والے سینکڑوں پتھر صندوقچی میں ہوتے ہیں اور وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہی پتھروں کو بیچ کر روزی کماتا ہے، گلی و بازار میں خوار ہو رہا ہوتا ہے۔ایسا اس لئے ہے کہ سب کچھ دینے والا صرف اللہ ربُّ العزت ہے۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عامل جو بعض باتیں سچ بتا دیتے ہیں، یہ کس طرح بتا دیتے ہیں؟

رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ جن شیطان آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں، اللہ جب زمین والوں کے لئے کوئی حکم دیتے ہیں، اُن پر برکات کی تقسیم کے لئے، سلامتیوں اور رزق کی تقسیم کے لئے جب اللہ فرشتوں کی ڈیوٹی لگاتے ہیں تو فرشتے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کو اپنے لئے شرف سمجھتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کو بتا دیتے ہیں تو شیطان جن ان میں سے کچھ نہ کچھ سن لیتے ہیں اور پھر بڑھا کر اپنے دوست کا بنوں کو بتا دیتے ہیں اور وہ کاہن باتوں کو بڑھا کر یا کمی کر کے لوگوں کو بتاتے ہیں۔ لیکن ساری باتیں سچ نہیں ہوتیں، ہم خود دیکھتے ہیں کہ کتنے حساب لگانے والے ہر سال کے آغاز میں زائچے بنا بنا کر کتنے دعوے کرتے ہیں، لیکن وہ دعوے سچے ثابت نہیں ہوتے۔ ہر ہفتے اخبارات کے میگزینوں میں اور رسائل میں گوشوارے شائع ہوتے ہیں کہ یہ دن کس طرح گزرے گا، یہ ہفتہ کس طرح گزرے گا۔ یہ دعوے کہاں پورے ہوتے ہیں۔ جب معاملہ الٹ ہو، ان سے پوچھیں تو کہتے ہیں کہ عین وقت پر ستارے اپنی جگہ تبدیل کر گئے تھے، اور پھر اللہ فرماتا ہے۔ ترجمہ:

اے جنوں، تم مختلف انسانوں کو بہکاتے ہو، لہک لہک کر ان کے کانوں میں باتیں ڈالتے ہو۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔ ترجمہ:

”جنوں اور انسانوں کے شیطان ایک دوسرے کے ذہنوں میں باتیں ڈالتے ہیں“ چنانچہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان سے پناہ مانگتے رہنا چاہئے،تعوّذ کو اختیار کرنا چاہئے اور اسے ہر دم پڑھتے رہنا چاہئے۔ جب بھی کوئی بہکنے کی بات کرے تو فوراً تعوذ پڑھنا چاہیے اسی طرح مختلف دعائیں سکھلائی گئی ہیں۔ حضرت ابو ہر یرہؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے بیت المال کے سامان پر میری ڈیوٹی لگا رکھی تھی، میں نے دیکھا کہ ایک چور بیت المال کی کھجوروں کے ایک ڈھیرر میں سے چوری کرکے نکل رہا ہے، میں نے اس کو پکڑ لیا، وہ رونے لگا، منتیں کرنے لگا کہ بڑا غریب آدمی ہوں، بھوکا ہوں، میرے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں، آج مجھے چھوڑ دو میں آئندہ ایسانہیں کرو ں گا، کہتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔ اگلی رات وہ پھر آگیا، میں نے اسے پھر پکڑ لیا، اس نے پھر رونا شروع کر دیا، کہنے لگا آئندہ کبھی نہیں آؤں گا، کہتے ہیں میں نے رحم کھا کر چھوڑ دیا۔ تیسرا دن ہوا تو وہ پھر آگیامیں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ اب تو میں تجھے رسولؐ اللہ کے پاس لے کر ہی جاؤں گا۔ اُس نے بڑی منت سماجت کی لیکن حضرت ابو ہریرہؓ نے چھوڑا نہیں۔بعض روایات میں ہے کہ جب منت سماجت کام نہ آئی تو اس نے زور آزمائی شروع کر دی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کچھ بھی ہو جائے میں آج تجھے نہیں چھوڑو ں گا۔ اس نے کہا اچھا، میری ایک بات سن، کہا سناؤ، کہنے لگا میں انسان نہیں ہوں میں جن ہوں، تو مجھے چھوڑ دے میں تجھے ایک ایسی دعا بتاتا ہوں کہ جب بھی اسے پڑھا جائے تو کوئی جن اور انسان تجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کہا بتاؤ، کہا وہ آیت الکرسی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا صبح رسول ؐاللہ نے مجھ سے پوچھا تمہارے رات والے چور کا کیا بنا؟تو میں نے یہ سارا واقعہ سنایا تو آپ نے کہا وہ شیطان جھوٹا ملعون تھا مگر بات سچی کر گیا ہے۔ جب بھی کوئی آیت الکرسی پڑھ لے تو پھر کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

اسی طرح ارشاد فرمایا لوگو! اپنے گھروں کو قبرستان نہیں بننے دینا، اپنے گھروں میں (کم از کم) سورۃ البقرہ ضرور پڑھتے رہا کرو۔ اس لئے کہ جس گھر میں سورۃالبقرہ کی تلاوت کی جائے وہاں کوئی شیطان نقصان نہیں پہنچاتا۔ اسی طرح مختلف اوقات کے مختلف وظیفے اور مختلف دعائیں ہیں، اب شیطان سب سے زیادہ جو تکلیف پہنچاتا ہے وہ آسیب کی صورت میں پہنچاتا ہے،اور چمٹتا ہے، آسیب کی صورت تب اختیار کرتا ہے جب لوگ گندی جگہوں پر چلے جائیں۔ شیطان کی آماجگاہ گندی جگہیں ہی ہوتی ہیں، اسی لئے اللہ کے رسول ؐنے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بیت الخلاء میں قضائے حاجت کے لئے جائے یا اپنی گندگی کو دور کرنے کے لئے کسی جگہ پر بھی جائے تو اس کو فوراً دُعا پڑھ لینی چاہیے۔

ترجمہ:”اے اللہ میں خبیث جنوں سے اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔

اسی طرح نماز فجر اور نماز مغرب کے بعد کے وظائف اور دعائیں ہیں، جن کے پڑھنے سے اس دوران میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ قرآن پاک کی آخری دونوں سورتیں جن کو معوذ تین کہا جاتا، ان کو اور ان کے ساتھ سورہ اخلاص اور آیت الکرسی شامل کر کے اپنے اوپر پھونک مار لی جائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے۔ جو پانچوں وقت کا نمازی اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا ہو، پاک صاف رہنے والا ہو اس کو کوئی جن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ غسل واجب کا خاص خیال رکھنا، باوضو رہنا، قرآنی اورمسنون دعائیں پرھنا، ہر حال میں فائدہ مند ہی فائدہ مند ہیں۔ جو ذکر اذکار کرتا رہے وہ یوں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہتا ہے جیسے کوئی محفوظ اور مضبوط قلعہ میں ہو۔

مزید : ایڈیشن 1