شوکت خانم ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیصی سہولت جلد فراہم ہوگی،ڈاکٹر عون

    شوکت خانم ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیصی سہولت جلد فراہم ہوگی،ڈاکٹر ...

  



لاہور (پ ر)کرونا ایسے جراثیم ہیں جو جانوروں اور پرندوں میں پائے جاتے ہیں لیکن یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کر انہیں بیمار کر سکتے ہیں اور ایک متائثرہ انسان سے دوسرے انسان کو بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں جس کرونا وائرس کا ذکرہو رہا ہے اس کو (2019-nCoV) یعنی 2019 کا منفرد کرونا وائرس کا نام دیا گیا ہے۔ اس وائرس کاپھیلاؤ چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا اور اور اب تک 16مختلف ممالک میں اس کے کیس سامنے آچکے ہیں۔ صرف چین میں 7000سے زائد افراد میں اس مرض کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس سے قبل کرونا وائرس کی دو اقسام میڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم (MERS)اور سوئیر ایکیوٹ ریسپیریٹری سینڈروم (SARS) کا پھیلاؤ-3 2002 کے دوران ہوا تھا۔ ان خیالات کا اظہار شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کے کنسلٹنٹ انفیکشس ڈیزیز اینڈ جنرل میڈیسن، ڈاکٹر عون رضا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عون رضا نے اس مرض کی علامات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ وائر س انسان کے نظام تنفس کومتائثرکرتا ہے جس کی وجہ سے مسلسل بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دقت ہو سکتی ہے۔یہ علامات اس وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے فوراً بعد ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ اس میں دو دن سے دو ہفتے تک کا وقت لگ سکتا ہے اور یہی بات اس کے پھیلاؤ کا بھی ایک بہت بڑ اسبب ہے کیونکہ اس دوران مریض غیر ارادی طور پر بیماری کو آگے منتقل کر چکا ہوتاہے

۔ عام طور پر یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو کھانسی یا چھینک کے ذریعے منتقل ہو سکتاہے۔ اسی طرح متائثرہ شخص سے ہاتھ ملانے یا ساتھ کھانے پینے سے بھی جراثیم منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کے اگر کسی شخص میں اس طرح کی علامات ظاہر ہوں تو وہ اپنے چہرے پر ماسک پہن کر رکھے اور کھانستے یا چھینکتے وقت چہرے کو کسی کپڑے سے ڈھانپ لے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صفائی کے بنیادی اصولوں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اس وائرس سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔ خاص طور پر جب باہر سے گھر میں داخل ہوں تو پہلے اپنے ہاتھوں کی صفائی یا کسی ایسی جگہ سے ہو کر آئیں جہاں لوگوں کی آمدو رفت زیادہ ہو تو پہلے ہاتھوں اور چہرے کو صابن سے دھوئیں۔وائرس سے متائثرہ افراد سے دور رہیں اور گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا ستعمال کریں۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹرمیں وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے موجود سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عون نے بتایا کہ کینسر کے مریضوں کے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ہسپتال میں ایسی صورتحال سے بچاؤ کا ایک مکمل نظام اور پالیسی موجود ہ ہے۔ کسی بھی وبائی مرض میں مبتلا مریض اگر ہسپتال لایا جاتا ہے تو اس کے ہسپتال میں داخل ہونے سے لے کر ڈاکٹر تک پہنچنے کے عمل کو محفوظ بنانے کی با قاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے جس میں گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ، نرسز، ڈاکٹر اور دیگر سٹاف شامل ہوتے ہیں تا کہ ہر وہ شخص جس کا مریض سے رابطہ ہو سکتاہے وہ خود کو محفوظ رکھ سکے۔ انہوں نے بتایا کے ایسے مریضوں کو خاص طور پر بنائے گئے نیگیٹو پریشر رومز میں رکھا جاتاہے جس سے ہوا کے ذریعے جراثیم کا پھیلاؤ بھی کنٹرول کیا جا سکتاہے۔ کیونکہ یہ ایک نیا وائرس ہے اس لیے پاکستان میں اس کی تشخیص کی سہولیات دستیاب نہیں تھیں لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہسپتال کی طرف سے کروناوائرس کی ٹیسٹنگ کٹس منگوائی جا رہی ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں ہسپتال میں اس مرض کی تشخیصی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے ڈاکٹر عون رضا کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی مخصوص علاج تا حال دستیاب نہیں ہے تا ہم کیس آنے کی صورت میں علامات کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف قدرتی طور پر ایک مدافعتی نظام موجود ہوتا ہے اور یہ وائرس بھی اس خوکار مدافعتی نظام کے تحت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتاہے اس وائرس سے متائثرہ افراد کی شرح اموات صرف تین فیصد ہے۔تا ہم کم عمر بچوں، ضعیف افراد یا ایسے لوگ جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہوں ان کے لیے یہ وائرس زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتاہے۔ کرونا وائرس کے اب تک جتنے بھی کیسز سامنے آئے ہیں وہ یا تو چین کے شہریوں کے ہیں یا پھر وہ ایسے افراد ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں چین کا سفر کیا یا پھر وہ کسی ایسے چینی شہری سے ملے ہیں جو وائرس میں مبتلا تھا اس لییعام پاکستانی شہریوں کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ احتیاطی تدابیر اور صفائی خاص خیال رکھیں تا کہ کسی بھی قسم کی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔

مزید : کامرس