حکومت پنجاب عوامی خدمت میں سرگرم عمل

حکومت پنجاب عوامی خدمت میں سرگرم عمل
 حکومت پنجاب عوامی خدمت میں سرگرم عمل

  



اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ دین اسلام میں حقوق اللہ، حقوق العباد، امور مملکت چلانے کے اصول، خارجہ امور، ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے، غریب و مستحق افراد کے ساتھ حسن سلوک، یتیموں، بیواؤں کے حقوق، کاروبار کو چلانے، رزق حلال کمانے سمیت تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ہم جس دین اور نبیؐ کے ماننے والے ہیں اس کی بنیادی تعلیمات اور اساس سچائی و ایمانداری پر مبنی ہے۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جو حقوق العباد کا خیال رکھتا ہو۔ دھوکہ، فریب، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ نہ کرتا ہو۔ ذخیری اندوزی، گرانی، حرام کی کمائی سے بچتا ہو۔ افسوس کہ ہم میں وہ تمام برائیاں سرایت کر چکی ہیں جن سے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدؐ نے منع فرمایا ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات کو یکسر فراموش کر کے ہوس زر اور فرضی مرتبہ کے حصول کے لئے شیطان کے چنگل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اشیاء میں ملاوٹ کر کے فروخت کررہے ہیں۔ ناپ تول میں کمی ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ چند روپے کی خاطر اشیاء ضروریہ کا ذخیرہ اور مصنوعی مہنگائی کر کے ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ غریب آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس غیر مسلم نے ہمارے اوصاف اپنا لئے ہیں اور دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کر لیا ہے۔

حضور اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ”سچا تاجر روز قیامت صدیقین اور شہداء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔“

ایک اور جگہ پر ارشاد ہے کہ ”جس نے چالیس دن تک غلہ روکے رکھا اس سے اللہ تعالیٰ بری الذمہ ہے۔“ایک اور جگہ پر فرمایا ہے کہ”ذخیرہ کرنے والا گنہگار ہے۔“ ملاوٹ کرنے والوں کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔“ ایک مسلمان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا بدنصیبی ہو سکتی ہے کہ وہ مال کمانے کے لالچ میں آ کر کفار کی صف میں شامل ہو جائے۔

گزشتہ چند دنوں سے ملک میں آٹے کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔ عوام دشمن عناصر نے ناجائز منافع کمانے کے چکر میں آ کر آٹے کی نہ صرف قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ آٹے کی سپلائی روک کر عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چند روپوں کی خاطر سرکاری اہلکار بھی ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یہ عناصر حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حالات کا نوٹس لیتے ہوئے آٹے کے بحران کے خاتمے کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کیا ہے اور ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام کی سہولت کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے فرائض میں غفلت برتنے اور بے ضابطگیوں میں ملوث محکمہ خوراک کے 4 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر آٹے کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں میں آٹے سپلائی کے 482سیل اور 207 ٹرکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔ آٹے کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے۔ سرکاری گندم کا آٹا اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے والی فلور ملوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ 1137فلور ملوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 14 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ 88 فلور ملوں کے لائسنس معطل کرنے کے علاوہ 553 فلور ملوں کا گندم کا کوٹہ معطل کیا گیا ہے۔ حکومت نے 10 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 402.5روپے جبکہ 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 805 روپے مقرر کی ہے۔ عوامی شکایات کے اندراج اور ازالہ کے لئے ٹال فری نمبر 0800-60606 کا آغاز کیا ہے۔ شہری آٹے کی عدم دستیابی یا زائد قیمت وصولی کی صورت میں ٹال فری نمبر پر اطلاع دے سکتے ہیں۔خیبرپختونخوا میں گندم و آٹے کی قلت کو دور کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر اضافی گندم روزانہ کی بنیاد پر بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب بھی کسی صوبے میں کوئی بحران پیدا ہوا تو پنجاب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے وسائل سے ہر ممکن مدد کی ہے۔ کے پی کے میں آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لئے پنجاب نے روزانہ کی بنیاد پر کے پی کے کو گندم بھجوانے کا جو اعلان کیا ہے وہ خوش آئند اور قابل تحسین ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے جڑانوالہ اورسمندری کے اچانک دورے کیے۔ آٹا سیل پوائنٹس اورہسپتالوں پر چھاپے مار کرصورتحال کا جائزہ لیا اوردونوں شہروں میں صفائی کے انتظامات بھی چیک کیے۔وزیراعلیٰ نے ناقص کارکردگی کی عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کوعہدے سے ہٹا دیاجبکہ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اورایس ایچ اوکو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے سیل پوائنٹ پرعوام کو آٹے کی فراہمی کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر بعض شہریوں کی جانب سے آٹے کی کم دستیابی کی شکایت پرفوری ایکشن لیا اوراسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرجمیل گجرکو معطل کردیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے پاس وافر گندم موجود ہے۔

آٹے کی قلت کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔میں عوام سے ہوں اورعوام کو آٹے کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے فیلڈ میں نکلا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے شہر میں آٹے کے سیل پوائنٹس میں اضافہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے سیل پوائنٹس پر آٹا مقررکردہ نرخوں پردستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مختلف شہروں کے دورے کر کے آٹے کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہوں گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تھانہ سٹی جڑانوالہ کا اچانک دورہ کیا۔وزیراعلیٰ نے حوالات میں بند ملزموں سے ہاتھ ملایا اوران کے مسائل پوچھے۔وزیراعلیٰ نے تھانے کے مختلف حصوں کاجائزہ لیا اور صفائی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ حوالات میں بند ملزموں کوقواعد و ضوابط کے مطابق سہولتیں ملنی چاہیے جو ان کاحق ہے۔وزیراعلیٰ نے شکایات پر ایس ایچ او تھانہ سٹی جڑانوالہ کو معطل کر دیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال جڑانوالہ کا بھی اچانک دورہ کیا۔وزیراعلیٰ نے ایمرجنسی وارڈ میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جڑانوالہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔انہوں نے ہدایت کی کہ مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جڑانوالہ شہر کی گلیوں کی صفائی کو بھی بہتر بنایا جائے۔صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے خالی آسامیوں پر فوری بھرتی کی جائے۔بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارجڑانوالہ سے اچانک سمندری پہنچ گئے۔آٹا سیل پوائنٹ اورتحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال کادورہ کیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شہر میں صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سیل پوائنٹ پر شہریوں میں خود آٹے کے تھیلے تقسیم کیے۔وزیراعلیٰ نے آٹے کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کیلئے انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں۔میں خود آٹے کی دستیابی کا جائزہ لینے کیلئے فیلڈ میں نکلا ہوں۔ کسی کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دوں گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمندری کا دورہ کرکے ایمرجنسی وارڈ میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اوردستیاب طبی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔وزیراعلیٰ نے ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل سٹاف کے مسائل بھی پوچھے۔وزیراعلیٰ نے دو خواتین کو ان کے بچوں کے علاج کیلئے مالی امدادبھی دی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایمرجنسی کو 24گھنٹے فنکشنل ہوناچاہیے۔ ایمرجنسی بلاک کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں گندم اورآٹے کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ہم نے فلور ملوں کیلئے آٹے کی سپلائی میں اضافہ کردیا ہے۔میں خود فیلڈ میں موجود ہوں اورزمینی حقائق سے باخبر ہوں۔کسی کو بھی اپنے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کرنے دوں گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کی گئی ہے۔سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 93 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ مالی سال 2019-20 (دسمبر تک) گاڑیوں کی مرمت کی مد میں صرف71 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2016-17 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حکومت کے دور میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی۔مالی سال 2018-19 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہمالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک) محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔سابق حکومت نے مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرڈالے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہرواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہم نے شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے۔ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا۔سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں۔غیر ضروری اخراجات کوبہت حد تک کنٹرول کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول اورسکیورٹی کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔ قومی وسائل بچا کر عوام کی فلاح وبہبود پر صرف کررہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پنجاب وزیراعلی سردار عثمان بزدار کی قیادت میں کفایت شعاری اور سادگی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔وزیراعلی نے سب سے پہلے وزیراعلی ہاؤس سے بچت کی تحریک کا آغاز کیا۔ان کا خیال ہے کہ عوام کو پیسے کو عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونا چاہیے نہ کہ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر۔

٭article-aata.inp٭

مزید : رائے /کالم