پشاورمیں مسیحی رہنما کا قتل ، علامہ طاہر اشرفی نے اقلیتی برادری کو بڑی یقین دہانی کراتے ہوئے خوفناک سازش سے پاکستانیوں کو خبردار کردیا 

پشاورمیں مسیحی رہنما کا قتل ، علامہ طاہر اشرفی نے اقلیتی برادری کو بڑی یقین ...
پشاورمیں مسیحی رہنما کا قتل ، علامہ طاہر اشرفی نے اقلیتی برادری کو بڑی یقین دہانی کراتے ہوئے خوفناک سازش سے پاکستانیوں کو خبردار کردیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی  برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مسلم و غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا مقصد ملک کے اندر انتشار پیدا کرنا ہے،ایک طرف مذہبی قائدین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں،باہمی اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے، مسیحی اور مسلم رہنما دہشت گردوں کے نشانے پر پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہیں،پہلے بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دی، آئندہ بھی دیں گے، مسیحی مذہبی رہنما سراج کے مجرم جلد گرفتار ہوں گے اور کیفر کردار تک پہنچیں گے،پاکستان دشمن قوتیں افغانستان میں ہونے والی ناکامی کے بعد پاکستان میں انتشا ر پیدا کر کے پاکستان افغانستان تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہیں، پاکستان کے علماء و مشائخ ، مذہبی قائدین ، مسلم عوام اپنی مسیحی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔

کیپٹل چرچ میں بشپ آف پشاور اور مسلم علماء و مشائخ اور تمام مذاہب کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ مسیحی مذہبی رہنماؤں پرہونےوالےحملےپرپورا پاکستان افسردہ ہے اور کسی کو بھی پاکستان کے امن و سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مسیحی قائدین کو پاکستانی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے ، اس سے پہلے جمعیت اہل حدیث کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا،قاتلوں کا مقصد ملک کے اندر بد امنی پیدا کرنا اور پاکستانیوں کو نشانہ بنانا ہے ۔

انہوں نےکہاکہ گذشتہ ایک سال کےدوران بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی میں اضافہ اور تشدد کےو اقعات انتہائی کم ہوئے ہیں ، بیرونی قوتیں پاکستان کے تشخص کو خراب کرنے کیلئے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، گذشتہ روز کے واقعہ پر  وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخوا،آئی جی خیبر پولیس اورملکی سلامتی کےادارے انتہائی محنت سے کام کر رہے ہیں،امید ہے جلد مجرموں تک پہنچیں گے اور مجرم اپنے کیفر کردار تک پہنچیں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پادری سراج کے لواحقین سے تعزیت کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتےہوئے کہا کہ پوری قوم مسیحی برادری کے غم میں شریک ہے، ہم پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، کسی کو بھی پاکستانی کی اقلیتوں کا حق تلف کرنے یا انہیں نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،جن لوگوں نے یہ عمل کیا نہ وہ اسلام کے دوست ہیں ، نہ پاکستان کے دوست ہیں اور نہ ہی انسانیت کے دوست ہیں۔انہوں نے کہا کہ 80 ہزار پاکستانیوں کی قربانیوں کے بعد امن آیا ہے اور ان شاء اللہ اس امن کے قیام کیلئے تمام پاکستانی اپنے سلامتی کے اداروں اور پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔