رمضان المبارک اور یونیورسٹی آف گجرات

رمضان المبارک اور یونیورسٹی آف گجرات

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ” سکتہ کے مریض کا آخری امتحان اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کی ناک کے پاس آئینہ رکھتے ہیں ۔ اگر آئینہ پر کچھ دھندلاہٹ پیدا ہو تو سمجھتے ہیں کہ ابھی جان باقی ہے ،ورنہ اس کی زندگی کی آخری امید بھی منقطع ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہو تو اسے رمضان کے مہینے میں دیکھو، اگر اس مہینے میں اس کے اندر تقویٰ، کچھ خوف خدا، کچھ نیکی کے ابھار کا جذبہ نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے اور اگر اس مہینے میں نیکی کا بازار سرد ہو ، فسق و فجور کے آثار نمایاں ہوں اور اسلامی حس مردہ نظر آئے تو ’انا للہِ و اِنّا الیہ راجعون‘ پڑھ لو ۔ اس کے بعد زندگی کاکوئی سانس مسلمان کے لئے مقدر نہیں ہے “ مولانا کے یہ خیالات مجھے 20 جولائی کو جمعة المبارک کے روز اس وقت شدت سے یاد آئے جب یونیورسٹی آف گجرات کے درویش منش وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے مجھے میٹنگ کے لئے بلوایا اور کہا کہ رحمتوں اور برکتوں کے مہینے رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اس کے استقبال کی جامعہ میں کیا تیاریاں ہیں؟ ماہ صیام کے قیام کے لئے خصوصی اقدامات ہونے چاہئیں۔

بظاہر مغربی وضع قطع کے ڈاکٹر نظام الدین نے زندگی کا زیادہ تر حصہ امریکہ میں گزارا ہے لیکن چونکہ انکی والدہ نے ان کا نام حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءکے نام کی نسبت سے رکھا تھا اس لئے ان کے قلب و نظر کو مغرب کی چکا چوند روشنی خیرہ نہ کر سکی وہ جدت پسند، متوازن خیال اور کردار و ایمان پر کامل یقین کے حامل شخص ہیں۔ ان کی اس بات نے حوصلہ بڑھایا تو میں نے عرض کی جناب والا! جامعہ گجرات میں تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ دینی حمیت اور اسلامی اقدار کی پاسداری پہلے سے جاری ہے ۔ جامعہ گجرات میں دیگر نمازوں کے ساتھ باقاعدہ تہجد کی جماعت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے استقبال کا مطلب ہے کہ لوگوں میں قیام رمضان اور صیام رمضان کا حقیقی شعور بیدار کیا جائے۔ہم نے استقبال رمضان مذاکرہ کا اہتمام کیا تو ڈاکٹر نظام الدین نے کہا رمضان المبارک انفرادی اور اجتماعی حوالے سے تجدید ایمان کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ رمضان تزکیہ نفس اور اصلاح معاشرہ کی میزان ہے ۔ یہ ماہ مبارک تربیت کرتا ہے اور حواس خمسہ پر قابو پانے کا درس دیتا ہے ۔ ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ رمضان المبارک کواﷲ تعالیٰ اپنی طرف خاص نسبت کرتا ہے ۔حدیث میں ہے کہ رمضان المبارک ”اﷲ کا مہینہ “ہے اس لئے دوسرے مہینوں سے جدا اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے ۔ ہمیں اس ماہ مبارک پر قربان جانا چاہئے کہ اس میں پروردگار عالم کی تجلیات خاص موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں ۔

رمضان محض بھوک کاٹنے کا نام نہیں بلکہ روزہ انسان کے اندر خدا ترسی کی طاقت کو مستحکم کرتا ہے ۔ جو روزہ دار جھوٹ بولے، ملازمت میں آداب ملازمت اور احکام ملازمت کا خیال نہ رکھے اس کا روزہ کیا ہے ؟ رمضان تو کردار سازی کا مہینہ ہے ۔ اگر ہمارے ہاتھ، زبان اور آنکھوں کا روزہ نہیں تو محض کھانا پینا چھوڑ دینے کا کیا فائدہ۔ وقت آگیا ہے کہ غفلت کی دلدل سے نکل کر دائمی اطاعت کی پوشاک پہن لیں ۔ صدر شعبہ اسلامیات ڈاکٹر محمد نواز، صدر شعبہ تاریخ ڈاکٹر اختر سندھو اور پروفیسر سید شبیر حسین شاہ مشیر رئیس الجامعہ گجرات نے اتفاق کیا کہ ہم سب رب کی رضا ، بخشش و مغفرت اور عطا کو حاصل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جائیں کیونکہ رمضان کریم پیامِ عافیت اور نوید مغفرت لئے ہوئے ہے ۔ جامعہ گجرات میں اس ماہ مقدس میں بالخصوص نوجوانوں، اساتذہ ، طالبعلموں اور سٹاف کو فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ کردار کی پختگی اور دین کے فہم کے لئے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں گے ۔ جامعہ گجرات کی مسجد میں مردوں کے ساتھ ساتھ طالبات و خواتین کے لئے بھی باجماعت نماز تراویح اور درس قرآن کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ روح پرور ماحول میں کثیر تعداد میں نمازیوں کی شرکت نے محفلوں کو وجد آفریں بنا رکھا ہے ۔ اب یکم اگست بروز بدھ ”فضیلت رمضان “ سیمینار ہو گا جس میں روزہ دیگر ادیان میں ، فضائل رمضان ، روزہ کے طبی فوائد، روزہ اور آج کے مسلمان جیسے موضوعات پر ممتاز اساتذہ، محققین، ماہرین طب اور علمائے کرام خطاب فرمائیں گے ۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ روزہ رکھنا مذہبی حکم ہے جو مسلمانوں پر فرض ہے تاہم احترام رمضان انسانی ، اخلاقی معاملہ ہے تمام انسانوں پر واجب ہے کہ وہ روزہ کا احترام کریں ۔

بلاشبہ جامعہ گجرات کو ڈاکٹر نظام الدین کے وژن نے ایسی دانشگاہ میں بدل دیا ہے کہ جہاں دین کی حقیقی روح اور روح عصر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے ۔ رمضان المبارک میں جامعہ گجرات میں احترام رمضان کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ جامعہ گجرات سے منسلک ہر فرد اِن ”ہلاکت زدہ“ لوگوں میں شمار ہونے سے بچ جائے جو اس ماہ صیام کو پاتے ہیں مگر اپنی بخشش نہیں کرواتے۔ اس جامعہ میں جو ایمان افراوز ماحول ڈاکٹر نظام الدین کی کاوشوں سے قائم ہوا ہے امید کرنی چاہئے کہ تمام ادارے اسی رنگ میں ڈھلے ہوئے ہوں گے ۔ یہاں ملازمین میں فرائض کی ادائیگی کا شعور اور پختہ ہو گیا ہے روزہ کام میں آڑے نہیں آرہا بلکہ روزہ کی حالت میں کام مسرت میں بدل گیا ہے یہی روزے کا حقیقی پیغام ہے کہ سماج میں متحرک فرد کے طور پر خدا کی رضا کا حصول ممکن بنایا جائے ۔ مولانا مودودی کے خیال کے مطابق یونیورسٹی آف گجرات میں ماہ صیام اور قیام رمضان کے لئے احترام رمضان کی کاوشیں لائق تحسین اور اس کے زندہ اسلام کے حامل ہونے کی نمایاں دلیل ہے:

ہدایت کے صحیفے سب اس ماہ میں اترے

اسی ماہ مبارک میں کلاموں کا امام آیا

اسی میں رات اک آئی ہزار رات سے بہتر

کہ جس میں چشمہ رحمت سے بندے کو سلام آیا

مزید : کالم


loading...