ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟

ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟

 ہمارے ہاںٹریفک کا حال یہ ہے کہ سڑکوں پر آنے کی جرات کرنابری قسمت کو للکارنے کے مترادف ہے ۔ ٹریفک پر عملی طور پر کسی کا بھی کوئی کنٹرول نہیں اور اگر کہیں کوئی ایسی کوشش بھی کرتا ہے تو صحرا کومشک بھر پانی سے تر کرنے کی سعی ہی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری سڑکیں ہر کسی کی طبع آزمائی کے لئے حاضر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ ٹریفک انتظامیہ کو ہر لحاظ سے مورد ِ الزام ٹھہرایا جاتاہے اور سچی بات یہ ہے کہ ان پر ترس آتا ہے ، کیونکہ ہمارے ہاںکی بے قابو ٹریفک دنیا کی بہترین ٹریفک انتظامیہ کو بھی چکرا کر رکھ دے گی....ملک کی کسی بھی سڑک کا ذکر کر لیں، آپ کو ایک دوسرے سے تقریباً الجھتی ہوئی بے ہنگم گاڑیوںکا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آئے گا۔ لاہور، حکومت کی آنکھ کا تارا ہے ، چنانچہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ”تاروں “ کو نہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ پانی کی۔ شہر کا حال یہ ہے کہ اس کی سڑکوں پر اُونٹ، بیل، گھوڑا اور گدھا گاڑیاں خراماں خراماں ”ٹہلتی “ رہتی ہیںاور ٹلنے کا نام نہیں لیتیں۔ آ پ ان سے راستہ لے کر دکھائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی کوبھی بنیادی قوانین کا احساس یا پروا نہیں ہے ۔ اپنے من کا ہر کوئی مہاراج بنا ہوا ہے ۔ جمودکی ان عملی تصویروں کے درمیان سے جس طرح رکشے ، سائیکل اور موٹر سائیکل والے ہنگامہ خیز انداز میں بل کھاتے ،لہراتے اور مسلسل ہارن بجاتے گزرتے ہیں، وہ منظر مضبوط سے مضبوط اعصاب کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتا ہے ۔

اس طوفان ِ بلاخیز میں ویگنوں، بسوں، پک اَپ، وینوں، ٹرکوں اور دیگر باربرداری والی گاڑیوں کے قافلے بھی شامل ہیں ۔ کار ڈرائیور ، جنہوںنے نہ کبھی کوئی ڈرائیونگ ٹیسٹ دیا ہے اور نہ ہی اس سرزمین پر اس طرح کی ”خرافات “ ، جیسا کہ ڈرائیونگ لائسنس ، یا ٹریفک کے قواعد وضوابط ، سے ان کو کچھ سروکار ہے ۔ ہماری سڑکوں پر رواں دواں چنگیز خانی لشکر کے ہراول دستے ہیں۔ گاڑیوں نے عملی طور پر ہماری سڑکوںکو ایک سرے سے دوسرے تک جام کر رکھا ہے ۔ اس ”سونامی “ کو ٹریفک کنٹرول کرنے والے ادارے، جن کا واحد اختیار نصف دائرے میں لہراتا ہوا ایک ”بازو “ ہے، بے بسی کی تصویر بنے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہتے ہیں دیتے رہیں، کسی کا کیا جاتا ہے ۔ آخر میں ، جو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے بڑے جھوٹ کی جڑ ہے ، وہ لاتعداد لوگ ہیں جو باقی ملک کی طرح ، سڑکوںکے بھی ایک ایک مربع انچ میںپائے جاتے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںہے کہ ہمارے ملک میںہر کسی کا ہر وقت بہترین اور دل پسند مشغلہ ایک ہی ہے .... (بچوںکی تعداد دیکھ لیں، نام لینے کی ضرورت نہیں).... بچوں کی تعداد میں دولت کا تناسب معکوس کارفرما ہوتا ہے ۔ یعنی آپ جتنے خوشحال ہوںگے، اتنے ہی کم بچے ہوںگے اورجتنے غریب ہوںگے، اتنے ہی زیادہ بچے ہوںگے۔ عزیز قارئین، یہ کوئی الہامی پابندی نہیںہے ، جیسا کہ ہمارے ملک میں سمجھا جاتا ہے کہ مشیت نے جس روح کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے ، اس نے اس دنیا میں ضرور آنا ہے ، چنانچہ اس کی فلاح و بہبود کی کلی ذمہ داری بھی مشیت پر ہی ڈال دی جاتی ہے ۔

اس سوچ کی وجہ سے حال یہ ہے کہ لاکھوں بچے آج سکول نہیںجاسکتے ۔ جب ان کو نہ تعلیم ملے گی، نہ ان کے سامنے کوئی روشن مستقبل ہوگا اور نہ ہی باعزت زندگی گزارنے کا کوئی سامان ، تو یہ لوگ جرائم کی طرف راغب نہیںہوںگے تو اور کہاںجائیں گے؟.... پولیس کے پاس ایسی سرگرمیوںسے نمٹنے کا ایک ہی سنہرا اصول ہے کہ جب جرائم کا گراف بڑھے، گراف کو الٹا کر دو ، جرائم خود بخود پیوند ِ خاک ہوجائیںگے۔ بہرحال آبادی میں اس ہوشربااضافے پر بات پھر کسی اور کالم میںہوگی۔ ویسے بھی جو بچوںکی فصل ہم آج بورہے ہیں، اس کے مضمرات ہم کل ضرور کاٹیںگے۔ اس ضمن میں محکمہ ¿ بہبود ِ آبادی کے جھوٹ بہت سن چکے ہیں، ان پر اب کسی کو کوئی اعتبار نہیںہے، تاہم ، یہ بات بھی ماننا پڑے گی کہ اس ضمن میںکوئی پلاننگ ہمارے ملک میںتو کام نہیںدے گی۔ہمارے ملک میں قوانین بناکر ان کو نافذ کرنا ایسا ہی ہے ، جیسے برف کے گولے بنا کر صحرائے گوبی میں سجانے کی زحمت کرنا۔ میرے بھائی خالد حسن اس کو Mug's Game لکھا کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے ”نری حماقت“....(حالانکہ معاملات اس وقت اتنے خراب نہ تھے۔)

لاہور ، جو دیگر تمام شہروں سے بہتر ہے ، میں ٹریفک مینجمنٹ دو اہم فیکٹرز پر مشتمل ہے ۔ ایک تو چودھری پرویز الٰہی دورمیں بنائے گئے انڈرپاس ۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈر پاس بنوانا چودھری صاحب کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ اور ان کی ذہین وفطین ٹیم سمجھتی تھی کہ ٹریفک کے تمام مسائل حل ہوجائیںگے ،اگر زیادہ سے زیادہ انڈر پاس یا اوور ہیڈ برج بنائے جائیں۔ ان کے بنائے گئے ڈئزائنز آج بھی سڑک استعمال کرنے والوںکے لئے ایک معمہ ہیں۔ مغلیہ تعمیرات کی زمین دوز گلیوںکی طرح ، کچھ سیدھے جاتے ہیں، کوئی سڑک دائیں جاتی ، کوئی بائیں اور ابھی مسافر بیچارہ اس دائیںسڑک پر ہی ہوتا کہ اگلا انڈر پاس آجاتا ہے جہاںیہ سڑک بائیں طرف چلی جاتی ہے ۔ میر تقی میر کی محبوبہ کی زلفوںکے پیچ و خم ان کے مقابلے میں نہایت سلجھے ہوئے ہوتے ہوں گے۔ اُس وقت بہت سے لوگوںنے مشورہ دیا تھا کہ ایسے منصوبے صرف پریشانی ہی پیداکریںگے، مگر سیاست دانوںکو دیئے گئے مشوروںکی جگہ صرف ردی کی ٹوکری ہی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد لاہور ”لوہے کے دور “ میں داخل ہوتا ہے ۔ اب لاہور کی سڑکوں پر لوہے کے جنگلوںکو تحفظ دینے کے لئے مزید جنگلے اور پھر اس کے بعد مزید جنگلے لگائے جارہے ہیں۔ ان جنگلوںکے جنگل کے اوپر لوہے کے بدنما پل بنائے گئے ہیں۔ کسی نے ان کو استعمال نہیںکرنا ۔ ان میںسے اکثر کی ساخت دیکھ کر ذوق ِ لطیف ، خیر یہ چیز ہمارے ہاں عشروں پہلے واصل بحق ہو چکی ہے ، کی رہی سہی جان بھی نکل جاتی ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سی پلان کی گئی چیزیں مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم بنیادی معاملات پر توجہ دیں۔ ایسا کئے بغیر محض رقم ضائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تمام اہم کاموںکی طرح، حل کے لئے ضروری ہے کہ درستگی کے عمل کابنیادی چیزوںسے آغاز کیا جائے ۔ یہ بات عقل کو حیران کر دیتی ہے کہ ٹریفک کے قوانین سکول کے نصاب میں شامل نہیں ہیں....(غالباً پچاس میں سے ایک درجن کے قریب کسی جماعت کی انگریزی کی نصابی کتاب میں ہیں)۔ اگر دس سالہ بچوںکو بتایا جائے کہ دائیں طرف مڑنے کے لئے کن باتوںکا خیال رکھا جانا ضروری ہے تو کیا اس سے کچھ فرق پڑے گا یا نہیں؟ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے کہ ڈرائیوروںکے ٹیسٹ لئے جائیں اور ناکام رہنے والوںکو کسی بھی صورت میں گاڑی چلانے کی اجازت نہ ہو، تاہم ہمارے ملکی نظام میںیہ الف لیلوی افسانہ معلوم ہوتا ہے ۔ وہ ڈرائیور، جنہوںنے سڑکوں کو ریس رنگ سمجھا ہوتا ہے ، ان کے پاس لائسنس ہی نہیںہوتا۔

ڈرائیونگ ٹیسٹ لینا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ یہ مانا کہ پولیس مجموعی طور پر بدعنوان ہے ، مگر چیکنگ کا کوئی اور نظام وضع کیاجا سکتا ہے ۔ ہم نے ابھی تک گاڑی پر لائسنس نمبر آویزاںکرنے کا نظام وضع نہیں کیا، جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ کیا ڈرائیور لائسنس یافتہ ہے اور کیا اس نے واجبات جمع کرائے ہیں یا نہیں؟ہم سے ایسے کام کیوں نہیں ہوتے ہیں؟ یا پھر ہماری ترجیحات لیپ ٹاپ کی لوٹ سیل لگانا ہی ہے ۔ کیا ہمارے ہاں بغیر نمبر پلیٹ یا دھواں چھوڑتی ہوئی یا بغیر لائٹس کے یا ونڈوز شیشوںکے بغیر گاڑیوں کو پکڑا جاتا ہے ؟ کیا ٹریفک قوانین کی پامالی کرنے والوںکو جرمانہ (مک مکا نہیں ) کرنے کا رواج ہے ؟ٹریفک پولیس کو اختیارات کیوں نہیں دیئے جارہے ؟ جب لوگوںکو پتا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کی کوئی سزا نہیںہے تو وہ بڑی ڈھٹائی سے ایسا کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ روایتی ٹریفک پولیس بدعنوان تھی، اس لئے جرمانے اس کی جیب میںچلے جاتے تھے ، چنانچہ ٹریفک کا برا حال ہو گیا ۔ کیا ڈرائیور معصوم فرشتے ہیں ؟ اور یہ جو نیلی وردی والے نوجوان سڑکوںپر لائے گئے تھے (اورواقعی چند ہفتوں کے اندر انہوں نے بہت سے معاملات درست کردیے تھے) ان کا کیا بنا ؟ اب ان کو کوئی بھی سنجیدگی سے کیوں نہیںلیتا ؟ یہ معاملات درست کرنے کے لئے ہمیں کیا آئن سٹائن کی ضرورت ہے ؟ اس کے لئے صرف شعور درکارہے اور یہ ہمارے ہاں شجر ِ ممنوعہ ہے ۔  ٭

مزید : کالم


loading...