جمہوریت کا غیر یقینی مستقبل

جمہوریت کا غیر یقینی مستقبل

پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست قرار دیا جاسکتا ہے جس کا نظم و نسق ایک منتخب حکومت کسی حد تک لبرل جمہوری آئین کے تحت چلاتی ہے۔ اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم نے صوبائی خود مختاری کے دائرہ ِ کار کو بڑھادیا ہے اور صدر ِ مملکت کی طاقت کو کم کر دیا ہے ۔ 2010ءسے فعال این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو مالی طور پر مزید استحکام بخشا ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں جمہوریت زوال پذیر ہے۔ یہ فوجی آمریت کے ہاتھوں ٹکسال کردہ سیاسی نظام سے ایک منتخب سول حکومت کی طرف اقتدار کی مکمل طور پر منتقلی کے قابل نہیںہے۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی مکمل بحالی کا خواب کبھی بھی شرمندہ¿ تعبیر نہ ہونے پائے، کیونکہ جمہوریت دراصل لبرل آئین، مساوی شہریت، ہر گروہ کے لئے بغیر کسی امتیاز کے سماجی اور سیاسی حقوق کی برابری اورقانون کی حکمرانی کی بنیاد پر پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان میںیہ منزل حاصل کرنے کی راہ میں پانچ بڑے چیلنج حائل ہیں۔

جمہوریت کے مستقبل کے لئے سب سے پہلا چیلنج ان افراد یا گروہوںکی طرف سے سامنے آتا ہے جو انتخابات اور جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مخصوص سیاسی اور ذاتی مفاد کی بجا آوری چاہتے ہیں یا پھر وہ ایک سخت گیر اسلامی نظام نافذکرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے جمہوریت کا مطلب محض اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ہے۔ ایک مرتبہ جب ان کو سیاسی قوت حاصل ہوجاتی ہے ، وہ اپنی انتخابی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ریاست ِ پاکستان کو اپنے نظریات کے تنگ پیمانوں تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افراد جمہوریت کے ذریعے کسی اور مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔    

 پاکستان میں جمہوریت کو دوسرا بڑا چیلنج غیر منتخب اداروں، جیسا کہ فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ، کی طرف سے درپیش رہتا ہے۔ جہاں تک بیوروکریسی کا تعلق ہے تو اس نے ہمیشہ غیر منتخب اداروںکے ساتھ تعاون کرتے ہوئے منتخب اداروں اور عوام کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ دفاعی اداروںنے براہِ راست یا پس ِ پردہ اقدامات کے ذریعے جمہوری عمل کی جڑیں کھوکھلی کی ہیں۔فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش میں سیاسی نظام کو اس نہج پر ڈھال دیا ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ سیاسی قوت اور غلبے کے لئے آج بھی فوج کی طرف ہی دیکھتا ہے(اگرچہ آج دفاعی ادارے خود کو سیاسی عمل سے لاتعلق کر چکے ہیں).... سیاسی عمل اداروںکی اس کمزوری کو دور کرنے میںناکام ثابت ہوا ہے، جس کو بنیاد بنا کر ماضی میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرچہ فوج 2008ءسے سیاست سے دور ہے، مگر سائیڈ لائن سے اب بھی ایک طاقتور سیاسی عامل کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔

 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں عدلیہ نے ہمیشہ فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی چاروں کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔ 2009ءمیںموجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چودھری صاحب کی بحالی کے بعد سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی طرف سے پُرامن طور پر عدالتی فعالیت دیکھنے میں آئی ہے۔ اس نے پارلیمنٹ اور منتخب حکومت پر دباﺅ قائم کر رکھا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان سے منسوب بیانات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر قومی اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر بیانات ہمارے سیاسی طورپر کشیدہ ماحول کے حوالے سے سیاسی مضمرات رکھتے ہیں۔ عزت مآب چیف جسٹس صاحب نے ایک سے زیادہ مواقع پر فرمایا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ نہیں ہے اور سپریم کورٹ ا س پر آئینی حوالے سے بالا دستی رکھتی ہے۔ ان بیانات نے اس بات کو ابہام میں ڈال دیا ہے کہ پارلیمنٹ کیاکر سکتی ہے اور کیا نہیں؟.... خاص طور پر جب سپریم کورٹ ایک منتخب شدہ وزیر ِ اعظم کو توہین ِ عدالت کیس میں نااہل قرار دے کر گھر بھیج چکی ہو۔اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن پر یقین رکھتی ہے، نا کہ ایک ادارہ دوسرے اداروں، خاص طور پر منتخب اداروں، پر حکم چلانے کی کوشش کرے۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذآرائی ، جو ہمارے ملک میں روز افزوں ہے، جمہوریت کے لئے کوئی اچھا شگون نہیںہے۔

جمہوریت کے لئے تیسرا خطرہ سیاستدانوںکے درمیان قابو سے باہر ہوتی ہوئی محاذآرائی ہے۔ اگرچہ اس وقت تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتیں.... مرکز یا صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں ہیں، مگر محاذآرائی کا فوکس پی پی پی کی وفاقی حکومت ہے۔ کشمکش اس قدر شدید ہے کہ پی پی پی اور اس کے اتحادی گزشتہ چار سال سے بڑی مشکل سے اپنے بچاﺅ کا سامان کررہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں، خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) ہر ممکن طریقے سے وفاقی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ چونکہ یہ جماعت پارلیمانی طریقے سے وفاقی حکومت کا خاتمہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لئے اس نے سٹریٹ پاور کے ذریعے بھی یہ مقصد پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح احتجاجی سیاست اور تشدد کا عنصر ایک خطرناک پیش رفت ہے اور مستقبل میں یہ روایت جمہوریت کے حق میں زہر ِ قاتل ثابت ہوسکتی ہے۔

جمہوریت کے لئے چوتھا خطرہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے ۔ ان کی وجہ سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ اب تو مذہبی انتہا پسندی صرف پاکستان کے دور دراز کے علاقوں تک ہی محدود نہیں رہ گئی، بلکہ یہ شہری علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو ظاہر کر رہی ہے۔ کسی مذہبی مسئلے پر جنونی ہجوم کے ہاتھوں کسی شخص کی ہلاکت پاکستان میںکوئی انوکھا واقعہ نہیںہے۔ مذہبی اقلیتوں کو انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ آج کل فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل ایک معمول کی بات ہے۔ اس مسئلے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مرکزی سیاسی لیڈر اور مذہبی رہنما بھی ایسے گروہوں، جو اس قتل وغارت اور تشدد کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، کی مذمت سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ تشدد اور فرقہ واریت کی بالعموم مذمت کریںگے اور اس بات پر زور دیںگے کہ ” اسلام تشدد کی اجازت نہیں دیتا“.... مگر وہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف چپ سادھے رکھیںگے۔ مذہبی اور نظریاتی عدم برداشت جمہوریت کی روح کے منافی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوںکی ناقص کارکردگی سے بھی جمہوریت کو خطرہ ہے۔ اگر منتخب حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کو تحفظ دینے میںناکام رہیںگی تو عوام کا جمہوری اداروںسے اعتما د اٹھتا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عام آدمی ،جو جمہوریت کا روحِ رواں ہے، کو ریلیف دیا جاسکے۔ فی الحال تمام حکومتوںنے اپنی ناقص کاکردگی کے ذریعے عوام کو خود سے اور اس کے نتیجے میں سیاسی عمل سے دور کر لیا ہے۔

پاکستان کی معیشت شدید خطرے سے دوچار ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اپوزیشن رہنما معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہیںتوان کے پیشِ نظر صرف وفاقی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا ہوتا ہے۔ وہ اس کی بہتری کے لئے کوئی حل پیش نہیںکرتے ....اورشاید ان کے پاس کوئی حل ہے بھی نہیں۔ وہ ملکی مفاد میںبھی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر معاشی مسائل سے نمٹنے کے لئے کوئی مشترکہ حکمت ِ عملی بنانے کے لئے تیار نہیںہیں۔کچھ مرکزی سیاسی اور مذہبی جماعتیں چاہتی ہیںکہ مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائی جائے، تاہم وہ اس بات کی تفہیم کرنے سے قاصر ہیںکہ اس کے نتیجے میںنہ صرف ملک عالمی تنہائی کا شکار ہو جائے گا، بلکہ ہماری ہچکیاںلیتی ہوئی معیشت بھی دم توڑجائے گی۔ اس وقت پاکستان ان مسائل کا شکار ہے، جن کے نتیجے میں اس کا سیاسی ڈھانچہ انہدام کا شکار ہو سکتا ہے یا پھر یہ اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ اپنے فعال سرانجام دینے سے قاصر نظر آئے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے مل کر کام کریں اور اپنے آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ اگر اقتدار کے لئے موجودہ محاذآرائی جاری رہتی ہے تو پھر نہ تو جمہوری حکومت اور نہ ہی ”ماہرین “ پر مبنی کوئی حکومت ملک کو اس گرداب سے نکال سکے گی۔

کالم نگار، معروف سیاسی مبصر اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر امریطس اور بین الاقوامی شہرت کے ماہر تعلیم ہیں۔

مزید : کالم


loading...