وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں؟

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں؟

اگست کا ماہ مقدس آگیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جب 65 برس پہلے یہ مملکت خداداد معرض وجود میں آئی، اس دن سے لے کر آج تک ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ جب قائد اعظمؒ بات کہا کرتے تھے تو ان کی بات کا ایک جواز تھا کہ نوزائیدہ مملکت کے روشن مستقبل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، مگر یہ کیا کہ ہمارے حکمرانوں نے 65 برسوں سے اس بات کو اپنا تکیہ کلام بنا رکھا ہے۔ یہ روشن مستقبل کب ہمارا حال بنے گا؟پاکستان کے ساتھ جو ممالک آزاد ہوئے تھے، وہ اپنے حال کو روشن، تابندہ اور خوشحال بنا چکے ہیں، لیکن ہم ابھی تک مستقبل کے سہانے خوابوں میں گم ہیں اور انہیں حقیقت میں دیکھنے کی حسرت لئے زندگی گزار رہے ہیں۔ ناصر کاظمی نے شاید اسی دکھ کا اظہار اس شعر میں کیا ہے۔

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

ذرا سوچئے کہ گزرے ہوئے برسوں میں کتنے پاکستانی خوشحال اور فلاحی معاشرے کی خواہش لئے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں، جو سب کچھ لٹا کر پاکستان آئے تھے اور ان کی آنکھوں میں یہ امید رقصاں تھی کہ بالآخر وہ ہندوﺅں سے نجات پا کر ایک ایسے ملک میں جارہے ہیں، جو ان کا اپنا ہے۔ اس نسل کے افراد تو خیر مستقبل کے روشن ہونے کی باتیں سن کر صبر کر لیتے تھے کہ اس کے سوا ان کے پاس چارہ بھی کوئی نہیں تھا، لیکن بعد میں آنے والی نسلیں ایسے وعدوں پر کیونکر یقین کریں؟ ان کے ذہن میں تو اب بار بار یہ سوال گردش کرتا ہے کہ مستقبل ان کی زندگی میں کبھی آئے گا بھی یا نہیں۔ انہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ پنساری کی اس دکان پر کھڑے ہیں، جس نے ”آج نقد کل اُدھار“ کی تختی لٹکا رکھی ہے۔ اس تختی کے مطابق کل کبھی نہیں آتا۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کا روشن مستقبل ہم سے دُور ہوتا جارہا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو غربت کسی کو تنگ نہیں کرتی تھی۔ ایک آنے میں روٹی بھی مل جاتی تھی اور دال بھی۔ غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشی کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ٹھیک ہے اس وقت گاڑیوں کی اتنی ریل پیل نہیں تھی۔ سڑکیں بھی اتنی چوڑی نہیں ہوتی تھیں، بلند و بالا عمارتیں بھی زیادہ نہیں تھیں،موبائل فون بھی ندارد تھے، مگر اس کے باوجود معاشرہ غریب نظر نہیں آتا تھا۔ آج تین چار دہائیوں کے بعد ہم نام کے خوشحال ہیں، صرف چند فیصد کے حصے میں خوشحالی کے ثمرات آئے ہیں۔ باقی ہر طرف غربت ہی غربت ہے۔ ٹریفک سگنل پر گاڑی رکتے ہی سوالی ہاتھوں کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار ہماری خوشحالی کا منہ چڑاتی ہے۔ خوشحالی کی مصنوعی چکا چوند اس وقت گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے، جب کچی آبادیوں یا بوسیدہ مکانوں میں رہنے والے ایک ہلکی سی بارش کے بعد بے گھر ہو جاتے ہیں، یا کسی کچے مکان کی چھت گرنے سے غریبوں کے بچے زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں۔ ترقی ہم نے بے شک کی ہے، خوشحالی ہم نے بلاشبہ پائی ہے، مگر اسے عوام تک نہیں پہنچا سکے۔ وہ طبقے جنہو ںنے قیام پاکستان کے بعد کلیموں کا ڈرامہ رچا کر ملک کے وسائل پر قبضہ کیا تھا، انہی کے لئے ترقی بھی آئی اور خوشحالی بھی، باقی کروڑوں عوام ابھی تک روشن مستقبل کا انتظار ہی کر رہے ہیں۔

مَیں نے ایک ارب پتی شخص سے خوشحالی کی بات چھیڑی تو وہ اس نکتے پر آگ بگولہ ہو گیا کہ خوشحالی قوم کے ہر فرد کا حق ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسی خوشحالی تو امریکہ اور یورپ میں بھی نہیں۔ وہاں بھی بل گیٹس جیسے چند لوگ ہی ہیں۔ ہمارے بالادست طبقوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بات میں ان ملکوں کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں ہمارے جیسا استحصالی طبقہ ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ خوشحالی صرف یہی نہیں ہوتی کہ آپ کے پاس ایک خوبصورت بنگلہ، بڑی گاڑی، شاہانہ آمدنی اور انواع و اقسام کے کھانوں سے مزین دستر خوان کی سہولت موجود ہو، بلکہ خوشحالی یافلاحی معاشرہ اپنی ہئیت میں ہر قسم کے استحصال، عدم مساوات اور ظلم و جبر سے آزاد ہوتا ہے۔ اس میں فرد کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی مملکت کی ذمہ داری ہوتی ہے، فرد کے بنیادی حقوق ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ وہی تصور ہے جو ہمیں اسلام نے دیا اور تمیز بندہ و آقا ختم کر دی، لیکن ہمارے ہاں کیا ہوتا رہا اور کیا ہو رہا ہے؟ نہ عدل و انصاف اور نہ مساوات، غریبوں کے لئے قانون پتھر اور امیروں کے لئے موم کی ناک۔ طبقہ اشرافیہ کے لئے مراعات ہی مراعات اور محروم طبقات کے لئے محرومیاں ہی محرومیاں.... امیرو ںکے لئے مفت علاج گاہیں اور غریبوں کے لئے اسپرو کی گولی تک شجر ممنوعہ۔

 ہم ترقی نہیں کر سکے، خوشحالی کی منزل نہیں پا سکے۔ کوئی بات نہیں۔ یہ تو ہمارا مشترکہ دکھ ہے، لیکن تکلیف اس وقت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے، جب اس محروم اور غریب ملک میں کروڑوں روپے کے پلاٹ کوڑیوں کے بھاﺅ بانٹے جاتے ہیں۔ غریبوں کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مال غنیمت سمجھ کر اللے تللوں پر اڑایا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں۔ سرکاری وسائل سے بیرونی دورے کئے جاتے ہیں۔ کک بیکس اور کمیشن کے ذریعے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کی چھٹی ے دی جاتی ہے۔ ایسے میں بڑے بڑے محلات اور ٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھ کر جب یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے، تو عوام کے سینے پر برچھی سی چل جاتی ہے۔ عوام کے لئے مستقبل اور اپنے لئے حال کی خوشحالی کا انتخاب کرنے والے بھلا کس منہ سے کروڑوں غریب پاکستانیوں کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے؟

ویسے تو انتظار کی ایک حد ہوتی ہے، لیکن لگتا ہے پاکستانی عوام کے انتظار کی کوئی حد نہیں۔ انہیں 62برس ہو گئے ہیں۔ اس صبح کا انتظارکرتے ، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا، مگر یوں دکھائی دیتا ہے، جیسے ابھی اس سمت میں سفر ہی شروع نہیں کیا گیا، جو منزل کی طرف جاتی ہے، ابھی تو ہم اسی مسئلے میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ نظام کیسا ہونا چاہئے؟ صدر مضبوط ہونا چاہئے یا وزیراعظم، پارلیمنٹ کافی ہے یا قومی سلامتی کونسل بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ہم نیرو کی طرح بانسری بجانے والوں میں گھرے ہوئے ہیں، جنہیں اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کہ عوام کا پیمانہ صبر کس سطح کو چھو رہا ہے۔ انہیں تو بس اس بات سے غرض ہے کہ وہ سیکیورٹی کے حصار میں محفوظ و مامون بیٹھے ہیں، ان کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ عوام کو مستقبل کے سنہری خواب دکھانے کا فریضہ خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جس طرح صبر کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح انتظار کی بھی ایک حد ہے۔ عوام 62 برسوں سے انتظار کر رہے ہیں ،لیکن منزل سے کوسوں دور ہیں۔ کیا ان کا یہ انتظار کبھی ختم ہو گا، کیا وہ منزل آئے گی، جس کے لئے قربانیاں دی گئیں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟ شاید کوئی نہیں کہ سب کو اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی توفیق نہیں ، مگر کیا یہ طفل تسلی کا رویہ اس انقلاب کے آگے مزید بند باندھ سکے گا، جو دبے پاﺅں آگے بڑھ رہا ہے اور کسی بھی وقت لاوے کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔  ٭

مزید : کالم