بی بی سی پر شیکسپیئرکے ڈرامے

بی بی سی پر شیکسپیئرکے ڈرامے

 شیکسپیئر کے ساتھ میرا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب مَیں ساٹھ کی دھائی کے اوائل میں کراچی یونیورسٹی میں سال ِ اول کا طالب علم تھا اور چند ایک نوجوان لیکچراروںنے مشہو ر ڈرامے ” جولیس سیزر“ کو سٹیج پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ڈرامے کی ریہرسل شروع کر دی ، پھر دو ماہ بعد اسے پیش کیا گیا۔ ناظرین میں زیادہ تر دوست اور ان کے اہل ِ خانہ شامل تھے۔ مَیں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایک عمدہ پیش کش تھی درحقیقت ایک ماہنامے ” Mirror“ میں نسرین اظہر نے اس ڈرامے پر اپنے تبصرے کا عنوان یہ رکھا:”جولیس سیزر کا قتل“، تاہم اس ڈرامے کی پیش کش کے دوران بہت لطف آیا اوراس موقع پر بہت سے افراد سے دوستی بھی ہوئی جو تادیر جاری رہی۔ افسوس، ان میں سے کچھ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

ہم میںسے اکثر پہلی مرتبہ سٹیج پر آئے تھے۔ جاوید جبار صاحب نے پہلی مرتبہ سٹیج پر جو کردار ادا کیا، وہ سازشی کیسیز(Cassius) کا تھا۔ ایچ ای سی کے سابقہ سربراہ عطاءالرحمن صاحب نے ایک نجومی کا کردار ادا کیا۔ جاوید علی خان، بروٹس (جس نے سیزر کو پیچھے سے خنجر مارا) بنے۔ مَیںنے بھی چند ایک چھوٹے مو ٹے کردار ادا کئے اور ان سے حوصلہ پاتے ہوئے کچھ اور ڈراموں میں بھی حصہ لیا۔ انور مقصود صاحب نے ڈرامے کا سیٹ لگانے اور لباس کا انتخاب کرنے میں مدد کی۔ اب جب بھی ہم لوگ ملتے ہیں تو اُس پیش کئے گئے ڈرامے کی باتیںکرکے محظوظ ضرور ہوتے ہیں۔

تب سے لے کر اب تک مَیںنے شیکسپیئر کے بہت سے ڈرامے سٹیج پر اور فلم کی صورت میں دیکھے ہیں۔ ہر مرتبہ اُس عظیم ڈرامہ نویس کی تخلیقی صلاحیتوں اور زبان کے انوکھے استعمال پر عقل حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکی ۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ آج انگریزی زبان کی بہت سی اصلاحات ، محاورے اور روزمرہ استعمال کی تراکیب ان کے ڈراموں سے لی گئی ہیں۔

شیکسپیئر کے ڈرامے ”کنگ ہنری IV“کا ایک جملہ ہے ”وہ سر جو تاج پہنتا ہے، وہ مصائب کا شکار رہتا ہے“....یہ جملہ بی بی سی ٹیلی ویژن پر حال ہی میں پیش کئے گئے پروگرام ”کھوکھلا تاج “ کی سیریز کا موضوع ہے۔ چاروں ڈراموں میں، جن کا دورانیہ دو گھنٹے ہے، انگلستان کے اُس دور کی جھلک دکھائی گئی ہے، جب بغاوتوں کا دور دورہ تھا اور تاج پہننے والے سر کو بہت سے مسائل سے نمٹنا ہوتا تھا۔ شیکسپیئر کے تخلیق کردہ سینکڑوں یادگار کرداروں میں سے شاید فالسٹف سب سے پسند کیا جاتا ہے۔ یہ کردار ، جو بالکل جیتا جاگتا لگتاہے ، ”کنگ ہنری IV“کے دونوں حصوں میںبہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔گزشتہ سال مَیںنے ایک ہی دن میں اس ڈرامے کے دونوں حصوں ،جن کو پیٹر ہال پیش کررہے تھے، ”تھیٹر رائل“ میں دیکھا۔ ان ڈراموں میں فالسٹف کا کردار ڈیسمونڈ بیرنٹ نے ادا کیا تھا۔ اس نے اپنی جاندار اداکاری سے اس جوشیلے کردار کو، جو پرنس آف ویلز ،ہیری ، کا ہم مشرب تھا، مزید ہنگامہ خیزبنا دیا۔

جب بادشاہ ہنری IV کا ڈرامے کے دوسرے حصے کے اختتام پر انتقال ہوتا ہے اور شہزادے کو تاج پہنایا جاتا ہے تو توقع ہوتی ہے کہ اس کے دوست فالسٹف کو شاہی دربار میں بہت اہمیت حاصل ہوجائے گی، تاہم ہیری نے فوراً ہی اُسے ڈانٹ دیا ”مجھے احمقوںکی طرح گستاخانہ لہجے میںجواب نہ دو یہ گمان نہ کرنا کہ تمہارا دوست اب بادشاہ بن گیا ہے (اور تم من مانی کرنے کے لئے آزاد ہو ) خدا جانتا ہے اور دنیا بھی دیکھ لے گی کہ مَیں اپنے ماضی کو بھول کر ایک نیا انسان بن گیا ہوں“۔برینٹ کی کارکردگی اس قدر جوش و جذبے سے بھر پور تھی کہ میرا خیال تھا کہ اس طرح کی کوئی اور کارکردگی نہیں دکھا سکتا ،تاہم حیران کن حد تک رسل بیلے کا فالسٹف، جو بی بی سی پر پیش کیا گیا، بھی ہنگامہ خیزی کے ساتھ ساتھ اداسی کا عنصر بھی لئے ہوئے ہے۔ اس کے کردار سے بانکے چھبیلے شہزادے ہیری کے ایک سنجیدہ اور مدبر نوجوان بادشاہ کے روپ میں ڈھلنے کا پتا چلتا ہے(کیا کہنے شیکسپیئر کے کہ ایک کردار کے رویے سے دوسرے کی تبدیل ہوتی ہوئی فطرت کا پتا چلتا ہے)۔ ٹی وی کی یہ مختصر سیریز ناظرین کو موقع دیتی ہے کہ وہ کرداروںکے ان خدوخال کو بھی جان سکیں، جن کو آپ سٹیج ڈرامے کے دوران مس کر دیتے ہیں ، خاص طور پر اگر آپ سٹیج سے دور بیٹھے ہوں۔ انگلینڈ میں بہت سے ایسے پرانے قلعے، چرچ، گلیاں اور دوسرے مقامات ہیں جو فلم سازوںکو ”بنے بنائے “ سیٹ فراہم کردیتے ہیں، تاہم سٹیج پر ان کو تخلیق کرنا پڑتا ہے اور سیٹ ڈیزائنر کے لئے بیرونی عکاسی کرنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ اس لئے ٹی وی سکرین پر یہ تمام مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔

ٹی وی ڈرامے کی اس خوبی کے باوجود سٹیج کا ایک اپنا ہی لطف ہے۔ اس میں ناظرین کرداروںکو قریب سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ایک اچھا ہدایت کار ایک اچھے ڈرامے سے ایسی دنیا تخلیق کرسکتا ہے جو ناظرین کو زمان و مکان کی حدود سے دور اُس کی تخیلاتی دنیا میں لے جاتی ہے ، تو یقین کرنا ہی پڑتا ہے کہ سٹیج ابھی زندہ ہے۔ سٹیج ڈرامے کے جاندار ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ سٹیج اداکار کے پاس غلطی کا کوئی چانس نہیںہوتا ، جبکہ فلم میں ایک منظر کو کئی مرتبہ فلمایا جا سکتا ہے۔ اگر سٹیج پر کوئی اداکار ایک سطر بھی بھول جائے تو تمام منظر خراب ہوجائے گا، چنانچہ فالسٹف کا کردار ادا کرتے ہوئے ڈیسمونڈ بیرنٹ نے جس طرح چار گھنٹے مسلسل سٹیج پر ہنگامہ خیز اداکاری کے جوہر دکھائے ، کہنا پڑتا ہے کہ وہ کسی فلم اداکار کے بس کی بات نہیں تھی۔

بہرحال بی بی سی پروگرام ”کھوکھلاتاج“ چودہویں اور پندرویں صدی کے دوران انگلینڈ میںجاری طاقت اور اقتدار کی کشمکش کی کہانی بیان کرتا ہے۔ بے شک انسانی تاریخ ایسی رسہ کشی سے بھری ہوئی ہے، مگر ایک آفاقی تخلیق کار ، شیکسپیئر ، نے کرداروں کو امر کرتے ہوئے تاریخ کے بے روح صفحات کو ایک نئی توانائی عطا کردی ہے۔کئی سال سے بی بی سی پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کے پروگرام ناظرین کے ایک مخصوص طبقے کے لئے ہی ہوتے ہیں ۔ ا س کے حریف چینل یہ الزام بھی تواتر کے ساتھ لگاتے ہیںکہ یہ عوام سے لائسنس فیس وصول کرکے ایسے پروگرام بناتا ہے جو صرف چند ایک ناظرین کی پسند پر پورا اترتے ہیں۔ ان الزامات میں ممکن ہے کہ کچھ صداقت ہو،مگر بی بی سی کے متعدد پروگرام عوام کی ایک بڑی تعداد کو تفریح مہیاکرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی ذہنی آبیاری بھی کرتے ہیں۔ اگر پروگرام بنانے کے پیچھے صرف کمرشل مقاصد ہی ہوتے تو ہم یقینا ”کھوکھلاتاج “ جیسے پروگرام نہ دیکھ پاتے۔

اپنے بہت سے تاریخی ڈراموںمیں شیکسپیئر نے اُس دور کی عکاسی کی ہے ،جس میں زیادہ تر لاقانونیت کاراج تھا، اس لئے اس کے ڈراموںمیں پاکستان کے لئے بھی بہت سا سبق ہے۔ جب شہزادے ہیری کی تاج پوشی ہوتی ہے تو وہ جس طرح اپنی سابقہ عمر کو یاد کرتا ہے ، اس سے ہمیں ہمارے عزت ماب چیف جسٹس صاحب یاد آتے ہیں.... (یاد رہے کہ چیف صاحب نے ماضی میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا تھا).... شہزادہ ہیری بادشاہ بننے پر اُس وقت کے جج سے پوچھتا ہے ” ایک میرے جیسا شہزادہ اُس توہین کو کیسے بھلا سکتا ہے جو تم نے میرے ساتھ روا رکھی تھی“.... جج صاحب جواب دیتے ہیں”تم اپنے باپ کے سرکش تھے، اس لئے مَیںنے اپنی اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے تمہیں سزا دی....(یعنی اس وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا)....بادشاہ کوتسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جج صاحب نے عقلمندی کا مظاہر ہ کیا ہے اور وہ ان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھتا ہے۔ دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دونوںعہدوں کے درمیان ہم آہنگی ریاست کے معاملات چلانے کے لئے ضرور ی ہے۔ کیا اسلام آباد میں ایسی کسی ہم آہنگی کی فضا بننے جارہی ہے ؟ افسوس کہ ایسا نہیںہے۔

مصنف، نامور کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں ،جن کے کالم ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...