صدرزرداری کا وعدہ

صدرزرداری کا وعدہ

صدر آصف علی زرداری نے اتوار کے روز ڈھیجی کوٹ میں وزیرداخلہ سندھ منظور وسان کی رہائش گاہ پر پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوں گے اور مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، یہ اقتدار کے ایوانوں میں کبھی چور دروازے سے داخل نہیں ہوئی اور مستقبل میں بھی عوام کی طاقت کے ذریعے ہی اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے خلاف لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں،لیکن اس نے ہمت کے ساتھ اور عوام کی مدد سے ان کا سامنا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ چند عناصر ٹی وی مذاکروں میں بغیر کسی بنیاد کے حکومت پر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔صدر آصف علی زرداری کے مطابق وہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاشی بحران اور اس کے پاکستان پر اثرات کے باوجود موجودہ دور حکومت میں ملکی معیشت نے ترقی کی ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا انہیں عوام کو درپیش مسائل جیسے کہ بے روزگاری، پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا علم ہے اور حکومت نے ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے مستقبل قریب میں ان کے حل میں مدد ملے گی۔صدر زرداری نے آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔پنجاب کی سیاسی صورت حال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے کا اگلا وزیراعلیٰ جیالا کا ہوگا۔انہوں نے پنجاب کے مختلف علاقوں کے دورے کرکے پارٹی ورکروں سے روابط بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے یہ خطاب ایسے وقت پر کیا ہے جب پورا ملک آئندہ انتخابات کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کی لپیٹ میںہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے میڈیا کے چند حلقوں اور سیاستدانوں کی جانب سے اس قسم کی پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں کہ حکومت نے آئین میں موجود گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام انتخابات ایک سال کے لئے موخر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔کہنے والوں کے مطابق امن و امان کی خراب صورت حال کو جواز بنا کر عام انتخابات ملتوی کردیئے جائیں گے، اس طرح ستمبر2013ءمیں صدر آصف علی زرداری کے عہدہ صدارت کی میعاد ختم ہونے پر انہیں دوبارہ پانچ سال کے لئے ان ہی اسمبلیوں کے ذریعے منتخب کرلیا جائے گا۔متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے اعلان کو بھی اہل سیاست کے چند حلقوں میں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔مسلم لیگ(ن) کے چند سیاست دانوں نے اے پی سی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ کانفرنس دراصل عام انتخابات ملتوی کرنے کے لئے بلائی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو مقررہ وقت پر عام انتخابات کرانے کا صدر آصف علی زرداری کا وعدہ نہایت خوش آئند ہے۔ ان افواہوں کو دفن کر کے انہوں نے قابل تحسین قدم اٹھایا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف الیکشن کا انعقاد ہی ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی قوت بھی بے حد اہم ہوتی ہے۔ آمروں سے تو توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس طرح اپنی میعاد پوری کر چکنے والی اسمبلی سے منتخب ہونے کی خواہش رکھیں (اس کا عملی مظاہرہ سابق صدر پرویز مشرف نے کر کے بھی دکھایا) لیکن کوئی سیاستدان یہ راستہ اختیار نہیں کر سکتا۔ اب صدر آصف علی زرداری نے خود ہی گفتگو کر کے ان قیاس آرائیوں کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔

الیکشن کے مقررہ وقت پر انعقاد کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم موضوع ان کے منصفانہ اور شفاف ہونے کا ہے۔ اس حوالے سے ایک بڑا قدم فخر الدین جی ابراہیم کی بطور الیکشن کمشنر تقرری کی صورت میں اٹھایا جاچکا ہے۔ فخر الدین جی ابراہیم ملک کی چند غیر متنازعہ شخصیتوں میں سے ہیں۔ ان کی تقرری پر پارلیمینٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بھی واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کو غیر جانبدار رہنا چاہئے۔ اب ضروری ہے سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں بھرپور تعاون کریں۔ اس سلسلے میں اب اگلہ مرحلہ نگران حکومت کی تقرری کا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے شفاف انتخابات کا وعدہ کیا ہے تو امید ہے نگران وزیراعظم بھی حزب اختلاف کو اعتماد میں لے کر مقرر کیا جائے گا۔

آئندہ انتخابات کے حوالے سے صدر زرداری نے پیشن گوئی کی ہے کہ پنجاب سمیت تمام صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی۔ اگر عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ جیالا وزیراعظم منتخب کیا گیاہے تو جیالا وزیراعلیٰ بھی منتخب کیا جاسکتا ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ فیصلہ عوام کا ہی ہونا چاہیے۔ پنجاب کسی نے الاٹ کرا رکھا ہے، نہ ہی سندھ کی الاٹمنٹ کسی کے پاس ہونی چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور عوام کے سامنے رکھنا چاہئے اورانہیں فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے پھر نتیجہ جو بھی ہو اسے خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہے۔ صدر آصف علی زرداری اپنی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن اور آنے والے انتخابات کے حوالے سے پُر امید نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب ان کے مخالفین اس بات سے متفق نہیں۔موجودہ دور حکومت میں چند آئینی مسائل سلجھائے گئے لیکن بہت سے اور مسائل ایسے ہیں جو مزید گھمبیر ہوچکے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور بیروزگاری کے مسائل ان میں سر فہرست ہیں۔ پیپلزپارٹی کا موجودہ دور حکومت کس حد تک کامیاب رہا اور کس حد تک ناکام، اس بات کا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ جمہوریت کی یہی خوبی ہے کہ یہ فریقین کو کوتاہیاں دور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ان سے سبق نہ سیکھنے والوں کو انجام تک بھی پہنچا دیتی ہے۔ بس اسے شفاف انداز میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔

مزید : اداریہ