گینگ ریپ کا شکار ارم عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے بیہوش ہوگئی

گینگ ریپ کا شکار ارم عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے بیہوش ہوگئی

لاہور(اپنے نمائندے سے) اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی 19 سالہ ارم ضلع کچہری میں سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بجلی کی عدم دستیابی اور دم گھٹنے کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑی حالت تشویشناک ہونے پر بھائی بہن کو کندھوں پر اٹھا کر بھاگ نکلا شہریوں کی بڑی تعداد کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ کے باعث واپڈا کو بدعائیں مزید معلوم ہوا ہے کہ شاہدرہ کی 19 سالہ مریم نواز کو اس کے بھائی کے سامنے علاقے کے اوباش نوجوان اٹھا کر زبردستی بہاولپور لے گئے اور کئی دنوں تک لڑکی کے ساتھ زبردستی بداخلاتی کرتے رہے جبکہ چند روز قبل اوباش نوجوانوں کی قید سے موقع پا کر فرار ہونے والی لڑکی ارم نے تھانہ شاہدرہ پولیس کو بیان دیتے ہوئے زبردستی بداخلاقی کرنے والے ملزمان محمد اشتیاق، اعجاز احمد اور منیر احمد کے خلاف تھانہ شاہدرہ میں مقدمہ درج کروادیا ہے پولیس نے 19 سالہ ارم کے بیانات ریکارڈ کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف اغواءزبردستی بداخلاقی کا مقدمہ نمبر1159 درج کرلیا ہے جبکہ گزشتہ روز جب ارم اپنے بھائی عمران کے ساتھ میڈیکل کروانے کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ سرمد تحمور کی عدالتو میں پیش ہوئی تو بجلی کی لمبی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کمرہ عدالت میں ہی دم گھٹنے کی وجہ سے ارم بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بے ہوش کر گر پڑی جبکہ چند لمحموں بعد ہی ارم کی حالت تشویشناک ہوگئی ۔ جس پر ارم کے بھائی عمران نے اپنی بہن کو کندھوں پر اٹھا کر دوڑ لگا دی اور میوہسپتال ایمرجنسی میں داخل کروا دیا جبکہ اس موقع پر شہریوں کی بڑی تعدا نے اذیت ناک لوڈشیڈنگ پر واپڈا کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا اور جھولی اٹھا کر بدعائیں بھی دی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...