خواتین کے باعزت مقام کیلئے پارلیمنٹ کی کوششیں قابل تحسین ہیں: خواتین رہنما

خواتین کے باعزت مقام کیلئے پارلیمنٹ کی کوششیں قابل تحسین ہیں: خواتین رہنما

لاہور( دیبا مرزا سے) خواتین کو معاشرے میں عزت و وقار کا مقام دینے کے لئے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اب تک جو قانون سازی کی ہے اس سے خواتین کے تحفظ کو منزل تو نہیںملی لیکن نشان منزل ضرور واضح ہوئے ہیں کیونکہ قانون سازی سے متاثرین کو قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے اور عدالتوں سے انصاف پانے کی راہ ہموار ہوئی ہے تاہم ان قوانین پر عمل درآمد کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے انہیں تعلیم اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا بے حد ضرور ی ہے خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان خیالات کا اظہار جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال‘ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ذکیہ شاہنواز‘ رہنما پیپلزپارٹی بیلم حسنین نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خواتین کے تحفظ کے متعدد قانونی اقدامات کئے ہیں ۔ جن میں خواتین کوہراسا ں کرنے کے خلاف ایکٹ 2010 فوجداری قوانین ترمیمی ایکٹ 2010 فوجداری قانون (دوسری ترمیم)ایکٹ جس میں تیزاب ڈالنے کے عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے اور فو جداری قانون (تیسری ترمیم )2011ء شامل ہیں ‘ اس ضمن میں پارلیمنٹ کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ پنجاب حکومت نے خواتین کے لئے ویمن ڈویلپمنٹ کا قیام کیا جو کہ خواتین کے لئے مظبوط سہا را ہے ،پنجا ب حکو مت خواتین کومعاشرہ میں ان کا مقام دلا نے کے لئے ہر ممکن اقدا ما ت کرے گی۔ حکومت خواتین سے ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے سول سوسائٹی سے مل کر مر بوط کو شش کر رہی ہے ۔ تاہم مردوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے خلاف امتیاز کی جڑیںمعاشرے کے تمام شعبوں میں گہری ہیں جبکہ عدلیہ اور پولیس میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت بھی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خواتین افسران اور ما تحت عملہ پر مشتمل تھانوں اور دارلامان کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے ۔ ان تھانوں اور دارلامان کی مانیٹرنگ کے لئے خواتین پر مشتمل ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں تاکہ خواتین کے حقو ق کے تحفظ میں پائی جانے والی مر دانہ رکاوٹوں کو یکسر دور کیا جاسکے۔ انہو ں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہنر مند خوا تین کو ملازمتوں کے حصول میں بے پناہ مسائل کا سامنا ہے ۔ خوا تین کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی اور ملازمتوں کے کو ٹہ میں اضا فہ کے باوجود خوا تین اپنے حقوق سے محروم ہیں ۔مستحق بے روزگار خوا تین اعلی سفارش اور رشوت نہ ہونے کے با عث ” اوور ایج“ ہو کر گو رنمنٹ نوکری کے دائرہ کا ر سے با ہر ہو جا تی ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1