خادم الحرمین الشریفین کی ماہ صیام میں قیمتوں پر کنٹرول کی ہدایت

خادم الحرمین الشریفین کی ماہ صیام میں قیمتوں پر کنٹرول کی ہدایت

ریاض (آئی این پی ) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے وزیر تجارت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماہ صیام میں اشیا صرف کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں، ماہ مقدس میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور مقررہ نرخوں سے زیادہ مہنگی اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پیر کو سعودی وزیرتجارت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہنے بتایا کہ خادم الحرمین الشریفین سے ان کی رمضان المبارک میں تین ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان تینوں ملاقاتوں میں انہوں نے تاکید کی کہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے صرف کو مہنگے داموں فروخت کرنے، ذخیرہ اندوزی کرنے یا بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔سعودی عرب کے موقر اخبار الاقتصادیہ کو انٹرویو میں وزیر تجارت نے کہا کہ وہ صارفین کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں صارفین کے حقوق کے لیے اپنے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی تحسین کی ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر تجارت نے کہا کہ ماہ صیام کے پہلے ایک ہفتے کے دوران انہوں نے بعض مقامات پر پندرہ افراد کےخلاف کارروائی کرکے انہیں لاکھوں ریال کے جرمانے کیے ہیں کیونکہ کارروائی کی زد میں آنے والے تمام افراد ذخیرہ اندوزی اور اشیائے صرف کو مہنگے داموں فروخت کرنے کے جرم میں قصور وار قرار پائے تھے۔ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے بتایا شاہ عبداللہ کے ساتھ ان کی تین ملاقاتوں خادم الحرمین الشریفین نے صارفین کے حقوق کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے ایام میں عوام کو ان کے حقوق ان کی دہلیز پر ملنے چاہئیں اور خلاف قانون کسی بھی اقدام پر سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ڈاکٹر توفیق نے بتایا کہ شاہ عبداللہ بذات خود ملک میں اشیائے خوردو نوش اور ضروری اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کر رہے ہیں، کسی بھی شخص یا فرم کی جانب سے خلاف قانون سرزد ہونے والے کسی بھی اقدام پر سخت کارروائی جایے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں ماہ صیام میں شہریوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کےلیے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ قبل ازیں وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ خلاف قانون کاروبار کرنے والی تین فرموں کو بلیک لسٹ کر دیا گیاہے۔

مزید : عالمی منظر