کینیڈا ، شامی خاتون انجینئر کا بشار الاسد کے خلاف لڑنے کا اعلان

کینیڈا ، شامی خاتون انجینئر کا بشار الاسد کے خلاف لڑنے کا اعلان

ٹورنٹو(آ ئی اےن پی ) کینیڈا میں مقیم ایک شامی خاتون انجینئر ثوبیہ کنفائی نے ملازمت ترک کر کے صدر بشار الاسد کی آمریت کے خلاف لڑنے والے باغیوں میں شامل ہونے اور باقاعدہ جنگ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتک روز جاری بےان مےں ثوبیہ کنفائی نے کہا کہ شامی اپوزیشن قوتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات انقلاب کی جلد کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کینیڈا کی شہریت کی حامل ثوبیہ کنفائی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے ملک میں جاری خون خرابے بالخصوص سرکاری فوج کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل پر گہرا دکھ اور صدمہ ہے۔ اس نے بتایا کہ شام میں بغاوت کی تحریک کے کئی ماہ کے بعد میں انقلابیوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا جائزہ لینے اور انقلاب کی تاخیر کا باعث محرکات کی جان کاری کے لیے ترکی میں قیام کیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچی کہ فری سیرین آرمی اور جنگجو تو اپنے محاذ پر کامیابی سے لڑ رہے ہیں لیکن سیاسی محاذ پر پائے جانے والے اختلافات نے انقلاب کی کامیابی کو تاخیر سے دوچار کیا ہے۔ انہی اسباب کی بناءپر میں نے بھی فری آرمی کے ساتھ مل کر بندوق اٹھانے اور استبدادی حکومت کے خلاف صف آراءپر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2007 کو جب وہ اپنے وطن آئی تھی اس وقت شامی حکومت نے اس کے ساتھ جو بدسلوکی کی تھی اس کے بعد بشار الاسد کے حوالے سے اس کی سوچ تبدیل ہو چکی تھی۔ فری آرمی میں شمولیت کے بعد خاتون بندوق بردار انجینئر نے بتایا کہ اس نے باغیوں کے ساتھ مل کر شمالی شام کے شہر ادلب میں کئی معرکوں میں حصہ لیا ہے۔ شامی فوج کو سخت پسپائی کا سامنا ہے اور باغی فوجی کم وسائل کے باوجود تیزی کے ساتھ شہروں پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔کنفائی نے عالمی برادری کی جانب سے باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی میں مدد نہ کرنے کا بھی شکوہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ثوبیہ کنفائی نے کہا کہ اگر شام کے سیاسی محاذ پر متحدہ قوتیں انتقال اقتدار کے کسی ایک فارمولے پر متفق ہو جائیں تو باغیوں کی تحریک جلد اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتی ہے۔ انقلاب کی کامیابی میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے تضادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں اپوزیشن رہنماو¿ں کے اجلاسوں کو میں نے قریب سے دیکھا۔ ابھی تو حکومت بننے کا عمل بہت دور ہے لیکن ہمارے رہنما عہدوں اور مناصب کی تقسیم پر الجھتے رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر