میانمار اور آسام میں مسلمانوں کا قتل عام دہشت گردی ہے ،سید علی شاہ گیلانی

میانمار اور آسام میں مسلمانوں کا قتل عام دہشت گردی ہے ،سید علی شاہ گیلانی

سرینگر(آ ئی اےن پی ) حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے” میانمار اور آسام میں مسلمانوں کے قتل عام کو دہشت گردی“سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی لیڈران، آنگ سان سوچی اور عالمی اداروں کا دوہرا معیار مسلمانوں کے تئیں عناد اور نفرت کا اآئینہ دار ہے ، میانمار میں جاری مسلمانوں کے قتل ِ عام ریاستی دہشت ہے عالمی برادری کی اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی نہ صرف افسوسناک ہے ، بلکہ انصاف کے علمبرداروں کے دوہرے معیار اور مسلمانوں کے تئیں عناد اور نفرت کی بھی آئینہ دار ہے ، مسلم ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی کی اس حوالے سے بے حسی تشویش ناک ہے ، یہ ادارہ اب ایک بے معنی اور بیکار فورم بن کر رہ گیا ہے اور اس کی حیثیت ایک عضو معطل کی سی ہوگئی ہے ۔۔ گزشتہ روز گھر میں مسلسل نظربندی کے دوران جاری میں سید علی شاہ گیلانی نے برما کی نوبل انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی کے رول پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ نہتے انسانوں کے اس قتل ِ عام پر ان کا بھی کوئی واضح موقف سامنے نہیں ا?یا ہے اور اس سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر جاری منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہے اور وہ بھی ان کو کسی خاص ہمدردی یا مروت کا مستحق نہیں سمجھتی ہے ۔مسٹر گیلانی نے کہا کہ بے گناہ انسان کا خون جہاں بھی بہے اور مرنے والے کا تعلق جس بھی نسل یا جس بھی مذہب کے ساتھ ہو، انصاف کی دہائی دینے والوں کو ا±س پر ا?واز ا±ٹھانی چاہیے اور اس کو روکنے کے لیے اقدام کرنا چاہیے، البتہ مغرب کی پیداوار حقوقِ بشر کی بعض عالمی تنظیمیں اس معیار پر پورا نہیں ا±ترتی ہیں اور 9/11کے بعد سے وہ تمام بنی نوع انسانوں کو یکساں سلوک کا مستحق نہیں سمجھتی ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں ان کا معاندانہ رویہ ان کی اعتباریت اور غیر جانبدارانہ حیثیت کو تیزی سے متاثر کررہا ہے اور یہ انصاف کے تقاضوں کے بھی منافی ہے ۔ حریت(گ) چیرمین نے کہا کہ مغربی دنیا کے اس بدلے ہوئے رویے کے بعد مسلمانوں کی نظریں قدرتی طور پر او آئی سی کی طرف مرکوز ہوتی تھیں کہ وہ اپنے وجود کو منوانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کے خلاف صف آرا ہوگا اور انہیں برابری کا مقام دلوانے کے لیے موثر رول ادا کرے گا۔ البتہ یہ ادارہ اپنی منصبی ذمہ داریاں نبھانے میں ب±ری طرح سے ناکام ہوگیا ہے اور یہ مغربی د±نیا کا طفیلی ہونے کی اپنی پوزیشن میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکا ہے ۔ حریت(گ) چیرمین نے کہا کہ اس پلیٹ فارم میں کوئی جان ہوتی تو برمائی مسلمانوں کا یہ حال نہ ہوتا، وہاں جاکر ان کو نہ بھی بچایا جاسکتا تھ ، ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی تنظیم کے کسی فرد میں ضمیر باقی ہے تو اس سے میری درمندانہ اپیل ہے کہ وہ اب بھی روہنگیائی مسلمانوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی ممکن کارروائی عمل میں لائے اور اس دارے کی لاج رکھیں۔۔ حریت(گ) چیرمین نے کشمیری مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سحری وافطار کی د±عاوں میں اپنے برمی بھائیوں کو بھی یاد رکھیں او ک±، سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت میں تمام اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور حکومتیں ان کے جان ومال اور عزت کو تحفظ فراہم کرانے میں بری طرح سے ناکام ہوگئی ہیں۔ انہوں نے آسام واقعات کو بھارتی میڈیا کے ذریعے سے فرقہ دارانہ فسادات کا نام دینے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فرقہ دارانہ فسادات میں دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف حملے کرتے ہیں، البتہ آسام میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ اکثریتی فرقہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم جنگ ہے ، جس میں فریقِ ثانی کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں ہورہی ہے اور ہجرت کے سوا ان کے پاس کوئی ا?پشن نہیں ہے ۔ریاستی سرکار فوج کے سامنے بے بس

مزید : عالمی منظر