برما میں انسانیت سوز واقعات پر حکومتی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے : راولپنڈی چیمبر

برما میں انسانیت سوز واقعات پر حکومتی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے : راولپنڈی ...

راولپنڈی (پ ر)راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید اختر بھٹی نے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برما میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات پر حکومتی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے ،ظلم یہ ہے کہ برما کہ مسلمان ریاستی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں جس میں برما حکومت اور فوج دونوں ملوث ہیںافسوسناک صورتحال میں تمام مسلمان ممالک اور خاص طور پر میڈیا کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے حکومت اس ضمن میں اپنی خارجہ پالیسی کو واضح کرے تا کہ عام مسلمان کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔ان خیالات کا ظہار انہوں نے چیمبر میں تا جروں و صنعتکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سینئر نائب صدر راجہ عامر اقبال،نائب صدر چوہدری اقبال احمد ، گروپ لیڈر نجم الحق ملک، سابق صدر نجم ریحان اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔جاوید اختربھٹی نے کہا کہ پاکستان میں عام سے واقعہ پر چیخنے والے انسانی حقوق کے علمبردار اس گھناونی سازش پر چپ کیوں ہیں ،کیا انہیں اس ریاستی دہشت گردی پر بولنے سے ڈالر نہیں ملیں گے؟راولپنڈی چیمبر ان مظالم پر مسلم امہ کے درد کو محسوس کر سکتا ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور اعتماد کے فقدان کے باعث مسلمان پوری دنیا میں پس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی چیمبر ایک بزنس ایسو سی ایشن ہونے کے باوجود مسلمانوں کی اس نسل کشی پر خاموش نہیں رہ سکا تو ہماری حکومت کیوں تما شائی بنی بیٹھی ہے اور دنیا کے دیگر ممالک بھی خاموش ہیں ،محسوس ہوتا ہے موجودہ واقعات مسلمانوں کے ساتھکسی عالمی سازش کا حصہ ہیں ۔کاروباری برادری حکومت کو برما پر فوجی محاذ آرائی کا نہیں کہ رہی بلکہ سفارتی سطح پر تو کم از کم حقوق کی آواز کو بلند ضرور کیا جائے تا کہ اس گھناﺅ نے فعل کو جلد سے جلد روکا جا سکے۔صدر آر سی سی آئی نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی اس بات کی غماز ی کرتا ہے کہ ان انسانیت کش واقعات میں ان کا اپنا ہی ہاتھ ہے ،اگر صورتحال پر جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور جہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں اس قسم کے واقعا ت پھیلنے کے امکانات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ برما کے حوالے سے سفارتی سطح پر بھر پور طریقے سے جنگ لڑے اور مسلمانوں کی سلامتی کو یقینی بنائے۔

مزید : کامرس