سیاسی جماعتیں اپنا معاشی ایجنڈا نجی شعبے کے ساتھ شیئر کریں: لاہورچیمبر

سیاسی جماعتیں اپنا معاشی ایجنڈا نجی شعبے کے ساتھ شیئر کریں: لاہورچیمبر

لاہور(پ ر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا معاشی ایجنڈا نجی شعبے کے ساتھ شیئر کریں تاکہ نہ صرف ملک کو معاشی مشکلات سے چھٹکارا دلانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں بلکہ صنعتی و معاشی انقلاب کی راہ بھی ہموار کی جاسکے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ ملک تاریخ کے نازک دور پر کھڑا ہے اور اسے سیاسی استحکام اور بہترین معاشی پالیسی کی اشد ضرورت ہے جو سیاسی جماعتوں کے بہترین اور فعال کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری کے حصول کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے دامن چھڑانا ہوگا۔ پاکستان کو پالیسی سازی کا عمل بہتر اور اداروں کو مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے سیاستدانوں اور نجی شعبے کو مل بیٹھ کر مشترکہ معاشی ایجنڈا قائم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کو مخلص اور بصیرت رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو مسائل سے چھٹکارا دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ بلاتاخیر نجی شعبے کی مشاورت سے پلان آف ایکشن مرتب کریں جس کا مقصد غیرملکی معاونت پر انحصار کم اور معاشی استحکام حاصل کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالی خسارہ کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں لہذا اس پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاری قرضوں نے نہ صرف بہت سے معاشی مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ صنعت سازی کے عمل کو بھی نقصان پنچایا ہے لہذا حکومت قرضوں پر انحصارکم کرے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے بہترین حکمت عملی وضع کرے۔ عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ بے روزگاری بہت سی معاشی برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر نجی شعبے کے مسائل ختم کیے جائیں تو وہ بے روزگاری کا گراف نیچے لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کالاباغ ڈیم پر جلد از جلد اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کا بحران سنگین اور قیمتیں بہت زیادہ ہوگئی ہیں لہذا کالاباغ ڈیم فوری طور پر تعمیر کرنا ہوگا تاکہ سستی اور وافر بجلی حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی فریم ورک کی وجہ سے نہ صرف غیرملکی بلکہ ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو سہولیات دے جس سے غیرملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری پر آمادہ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے اپنا بہترین کردار ادا نہ کیا تو پھر معاشی مسائل مکمل طو رپر حاوی ہوجائیں گے۔

مزید : کامرس