روئی کی قیمتوں میں معمولی کمی

روئی کی قیمتوں میں معمولی کمی

کراچی (اکنامک رپورٹر)ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ) اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن شروع نہ کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی روئی کی قیمتوں میں معمولی مندی کا رجحان دیکھا گیا جس سے روئی کی قیمتوں میں دو سے تین سوروپے فی من کمی واقع ہوئی۔ ایگزیکٹو ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) احسان الحق نے ”ایکسپریس“ کو بتایا کہ بھارت میں کپاس کی نئی فصل نہ آنے کے باعث بھارتی روئی درآمد کنندگان کی جانب سے پاکستان سے روئی درآمد کرنے میں غیر معمولی دلچسپی کے پیش نظر توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان سے ملکی تاریخ میں پہلی بار جولائی اگست کے دوران بھارت کو بڑے پیمانے پر روئی کی درآمد شروع ہوجائے گی اور عملی طور پر پاکستانی کاٹن ایکسپورٹرز نے بھارت سے ابتدائی طور پر تقریباً ایک ہزار ٹن روئی کے برآمدی معاہدوں کو بھی حتمی شکل دیدی تھی لیکن ٹی ڈیپ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ستمبر 2009ءمیں جاری ہونے والی تجارتی پالیسی کو غیر موثر قرار دے کر روئی کے برآمدی سودوں کے رجسٹریشن کرنے سے انکار کردیا جبکہ ایس آر او 767(I) کے تحت 4 ستمبر 2009ءمیں جاری ہونیوالی تجارتی پالیسی میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ یہ پالیسی 3 سال تک قابل عمل رہے گی لیکن اس کے باوجود ٹی ڈیپ کی جانب سے روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ اس سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مزید مندی کا رجحان سامنے آنے کے ساتھ ساتھ پاکستان لاکھوں ملین ڈالر زر مبادلہ سے بھی محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی ٹریڈ پالیسی کے تحت سوتی دھاگے سمیت باقی اشیاءکی برآمد متواتر جاری ہے لیکن غیر متوقع طور پر روئی کی برآمدی سودوں کی رجسٹریشن نہیں کی جارہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت تجارت کی جانب سے اب 31 اگست کو نئی تجارتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے اسلام آباد میں ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں نئی تجارتی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔ احسان الحق نے مزید بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کے وائس چیئرمین کا عہدہ پرائیویٹ سیکٹر کو دیا گیا ہے اور اپٹما کے سابق وائس چئرمین کو اس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ملک بھر میں کپاس بارے حقیقی معنوں میں تحقیقی عمل شروع ہونے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں آئندہ کچھ عرصہ کے دوران خاطر خواہ اضافہ سا منے آئے گا۔ یاد رہے کہ کپاس کی تحقیق کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق کرنے کے لئے اپٹما نے کاٹن سیس 20 روپے فی بیل سے بڑھا کر 50 روپے فی بیل دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب میں روئی کی قیمتیں 300 فی من مندی جبکہ سندھ میں 200 روپے فی من مندی کے بعد 5700 روپے فی من تک گرگئیں جبکہ نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلیوری روئی کے سودے 2.11 فیصد کمی کے بعد 83.45 سینٹ فی پاﺅنڈ‘ اکتوبر ڈیلیوری روئی کے سودے 1.85 فیصد مندی کے بعد 70.73 سینٹ فی پاﺅنڈ‘ چائنا میں 1.75 فیصد کمی کے بعد 18ہزار 510 یوآن فی ٹن‘ بھارت میں 300 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 37 ہزار 500 روپے فی کینڈی تک گرگئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کے باعث روئی کی سپاٹ ریٹ 200 روپے فی من مندی کے بعد 5ہزار 600 روپے فی من تک گر گئے انہوں نے مزید بتایا کہ بعض پاکستانی ٹیکسٹائل ملز نے پچھلے کچھ عرصہ سے برازیل اور مغربی افریقی ممالک سے آلودگی سے پاک روئی کی درآمد بھی شروع کر دی ہے جو اسی سے بیاسی سینٹ فی پاﺅنڈ کے حساب سے درآمد کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2012-13ءمیں دنیا بھر میں کپاس کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا رجحان چائنا کی جانب سے سٹریٹیجک ریزروز کیلئے نئی روئی کی خریداری‘ پرانے ریزروز میں پڑی ہوئی روئی کی فروخت اور بھارت کی جانب سے روئی کی برآمدی پالیسی کے حتمی فیصلوں کے بعد سامنے آئے گا۔ اگر چائنا کی جانب سے پرانے ریزروز سے روئی کی فروخت کا فیصلہ سامنے آیا تو اس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

مزید : کامرس


loading...