اصغر خان کیس ہم تمام شواہد کو منظر عام پر لانا چاہتے ہیں‘شفافیت ہی قوموں کو جنم دیتی ہے :چیف جسٹس

اصغر خان کیس ہم تمام شواہد کو منظر عام پر لانا چاہتے ہیں‘شفافیت ہی قوموں کو ...

اسلام آباد(خبرنگار)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی سیل کے حوالے سے اٹارنی جنرل پاکستان سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت چارہفتوں کے لیے ملتوی کردی جبکہ جنرل اسد درانی کی جانب سے عدالت مےں پےش کی گئی سےاستدانوں کے ناموں کی فہرست بھی واپس کردی چےف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رےمارکس دےتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات کو شفاف انداز مےں سامنے لانے سے قومےں بنتی ہےں اور اس کےس مےں ہم تمام چےزےں منظر عام پر لانا چاہتے ہےں،تاکہ حقائق سب کے سامنے آسکےں جہاں تک آئی اےس آئی کے سےاسی سےل کے قےام کی بات ہے تو وہ1975ءسے باتےں ہورہی ہےں،لہذا آپ ان تارےخوں کی بھی جانچ پڑتال کرےں، عدالت نے سابق سربراہ آئی اےس آئی جنرل رےٹائرڈ اسد درانی کی جانب سے جمع کرائے گئے سر بمہر لفافے کو کھولتے ہوئے قرار دےا ہے کہ ہم ان خفےہ چےزوں کو منظر عام پر لانا چاہتے ہےں،اس پر اسد درانی نے کہا کہ مےرے پاس جتنے شواہد اور دستاوےزات موجود تھےں وہ عدالت مےں جمع کرا دی ہےں اور مےری عدالت سے استدعا ہے کہ ان دستاوےزات کو خفےہ رکھا جائے،جبکہ سےاستدانوں کی جانب سے رقم لےنے کے حوالے سے رسےدےں منظر عام پر نہےں ہےں، ،سوموار کو چےف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہ مےں قائم 3رکنی بنچ نے اصغر خان کےس کی سماعت کی،سماعت کے دوران آئی اےس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے سربمہر لفافہ عدالت مےں پےش کےا اور استدعا کی کہ ان ناموں کو پڑھنے کے بعد خفےہ رکھا جائے،اس پر چےف جسٹس نے ان سے استفسار کےا کہ وہ کون سی وجوہات ہےں جس پر ان ناموں کو راز مےں رکھا جائے اور سادھا کاغذ پر لکھے گئے ناموں کے علاوہ اور کونسی دستاوےزات ہےں،جو ان مخفی شرائط کی سپورٹ کرتی ہےں،اس پر درانی نے کہا کہ اس کاغذ کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ثبوت موجود نہےں،البتہ اگر ان افسران سے جنہوں نے کوئٹہ اور کراچی مےں پےسے تقسےم کئے سے پوچھا جائے تو شاےد ان کے پاس ثبوت موجود ہوں،اس پر چےف جسٹس نے رےمارکس دےتے ہوئے کہا کہ جنرل درانی کی صاف گوئی کی تعرےف کرتے ہےں،لےکن اگر ان تمام چےزوں کو صاف اور شفاف طرےقے سے نہ دےکھا گےا تو کچھ بھی آگے نہےں بڑھے گا،ہم تمام شواہد کو منظر عام پر لانا چاہتے ہےں،کےونکہ شفافےت ہی قوموں کو جنم دےتی ہے ،اس موقع پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتاےا کہ آئی اےس آئی کے سےاسی سےل کے قےام سے متعلق تلاش جاری ہے ،آج سےکرٹری دفاع نے چارج سنبھال لےا ہے اور کل اس حوالے سے کوئی پےشرفت سامنے آئے گی،اس پر چےف جسٹس نے کہا کہ جہاں تک آئی اےس آئی کے سےاسی سےل کے قےام کی بات ہے تو وہ1975ءسے باتےں ہورہی ہےں،لہذا آپ ان تارےخوں کی بھی جانچ پڑتال کرےں،اس موقع پر اصغر خان کے وکےل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتاےا کہ اس وقت جنرل درانی اپنے بےان مےں پےسے دےنے کا اعتراف کر چکے ہےں اور انہوں نے پےسے لےنے والوں کے نام بھی بند لفافے مےں پےش کردئےے ہےں،تو ان ناموں کو اوپن کےا جائے،جسٹس جواد اےس خواجہ نے اپنے رےمارکس مےں کہا کہ آئی اےس آئی سے فنڈز لےنے والوں مےں سے اےک سےاستدان نے تو پےسے لےنے کا اعتراف کرلےا ہے ،ہمےں شواہد کی روشنی مےں آئےنی طرےقے سے ان معاملات کا جائزہ لےنا ہے ،تاہم عدالت نے وقت کی کمی پر سماعت چار ہفتے کےلئے ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول