گیس چوروں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرینگے‘پیپلز پارٹی کی بھی کوئی شخصیت ملوث ہوئی تو چور چور ہے :ڈاکٹر عاصم حسین

گیس چوروں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرینگے‘پیپلز پارٹی کی بھی کوئی شخصیت ...

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین نے عوام کو آئندہ موسم سرما میں بھی گیس بحران کی نوید سناتے ہوئے کہا ہے کہ گیس چوروںکےخلاف بلا جواز کارروائی کی گئی ہے اور اگر پیپلزپارٹی کی کوئی شخصیت بھی ملوث ہوئی تو چور چور ہے ‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک ہفتے میں ریگولیٹ کرنے اور این ایل جی کی درآمد کےلئے ای سی سی کے اجلاس میں سمری پیش کی جائیگی ‘ ایران کی طرف گیس پائپ لائن ابھی مکمل نہیں ہوئی اور یہ بارڈر سے ابھی 100کلو میٹر دور ہے جبکہ پاکستان نے اس کے لئے فنڈز کا بندوبست کر لیا ہے ‘ جو سی این جی سٹیشنز اپنی معاہدے کی میعاد پوری کر چکے ہیں انہیں مزید توسیع نہیں دی جائیگی اور اس سیکٹر کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سوئی گیس کے ہیڈآفس میں پریس کانفرنس میںکیا۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ پاکستان موجودہ حالات میں توانائی کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان میںگیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن انہیں دریافت کر کے استعمال میں نہیں لایا جا سکا ،حکومت نے اس حوالے سے پالیسی بنائی ہے اور ایک دو سال تکلیف کے بعد صورتحال بہتر ہو جائےگی۔ پنجاب کی صنعتوں کو گزشتہ سال کی نسبت امسال زیادہ گیس فراہم کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ این ایل جی کی درآمد کےلئے قطر اور الجیریا سے بات چل رہی ہے او راسے دو حصوں میں درآمد کیا جائےگا جس میں سوئی سدرن کے ٹرمینل پر سٹڈی کر رہے ہیں اسکے لئے ایک شارٹ ٹرم منصوبہ جس میں اسے چھ سے آٹھ ماہ میں استعمال کیا جا سکے جبکہ لانگ ٹرم منصوبے میں 2سال کا عرصہ درکار ہے اور اسکے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کی جائینگی۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے گیس پائپ لائن کو ابھی مکمل نہیں کیا اور یہ ابھی بارڈر سے 100کلو میٹر دور ہے ‘اسکے لئے فنڈز فراہم کرنے کی پیش ہوئی ہے اور ہم نے اسکا بندوبست کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی سٹیشنز کے لئے مزید لائسنس نہیں دئیے گئے البتہ اسکی طلب میں اضافہ ہوا ہے ‘ یہ فیول کا سستا ذریعہ ہے لیکن اسکے معیشت پر انتہائی برے اثر ات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے ہماری انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے ‘ جو سی این جی سٹیشنز اپنی معاہدے کی میعاد پوری کر چکے ہیں انہیں ہرگز توسیع نہیں دی جائے گی بلکہ سی این جی سیکٹر کو مرحلہ وار ختم کر دیاجائیگا۔ انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے سی این جی پر چلنے کے حوالے سے کہاکہ 16سے 18بسیں چلانے سے اسے پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ موسم سرما میں ایل جی پی گیس آ جائے گی اور ہمارے پاس اسکا انفراسٹر اکچر بھی موجود ہے اور جہاں تک قیمتوںکے تعین کا سوال ہے تو جب یہ ہمارے سسٹم میں آجائے گی تو اسکا تعین کر لیا جائےگا۔ انہوںنے کہا کہ جو بھی گیس چوری میں ملوث ہوگا اسکے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں گے اور ہم نے ایسا کیا ہے اگر کوئی پیپلز پارٹی کا بھی اس میںملوث ہوا تو چور چور ہے۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میںکہا کہ لیوی اور سیلز ٹیکس پارلیمنٹ لگاتی ہے اور وزارت کا کام اس فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں روزانہ کی بنیادوںپر ریگولیٹ ہوتی ہیںپاکستان میں ایسا تو ممکن نہیں البتہ اسے ایک ہفتے پر لانے کے لئے سمری ای سی سی کے اجلاس میں پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گیس جنریٹرز کے حوالے سے بھی پالیسی بنا رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر