ڈیزل کی قلت کے باعث پاور ہاﺅ س بند ہوگیا ‘ریلوے کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا

ڈیزل کی قلت کے باعث پاور ہاﺅ س بند ہوگیا ‘ریلوے کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا

لاہور(سٹاف رپورٹر)ریلوے میں کئی گھنٹے تک ڈیزل کی قلت برقرار رہی جس کے باعث ریلوے کا پاور ہاﺅس بند ہوگیا ۔اور ریلوے کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ریلوے اسٹیشن ،ریلوے اسپتال اور انجن شیڈ سمیت اور ریلوے ہیڈ کواٹر میں بجلی آنکھ مچولی کا کھیل کھیلتی رہی ملازمین سے لے کر افسروں تک کا گرمی میں براحال ہوگیا جبکہ ڈیزل کی کمی کے پیش نظربرانچ لائن پر چلنے والی ٹرین غوری ایکسپریس کی سروس کوایک دن کے لئے منسوخ کرنے سمیت متعد د ٹرینوں کی آمدورفت کو کئی گھنٹے کے لئے روک دیا گیا ۔تاہم ڈیزل آنے کے بعد انہیں ان کی منزل کی جانب روانہ کیا گیا ۔ ڈیزل کے بحران کے ریلوے نے آپریشنل اورانتظامی معاملات کو بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا گزشتہ روز پی ایس او کی طرف سے2لاکھ 30ہزار لیٹرڈیزل کراچی سے لاہور پہنچ تو گیا ہے مگر ڈیزل کا بحران عارضی طور پر حل ہو اہے جس کی وجہ سے ڈیزل کا بحران آئندہ دنوں میں دوبارہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او کی جانب سے ریلوے کو ڈیزل کی سپلائی روک دی گئی تھی جس کے باعث ریلوے میں ڈیزل کا بحران پیدا ہوگیاہے۔گزشتہ روز جو ڈیزل کراچی سے لاہور آرہا تھا وہ راستے میں تھا جس کی وجہ سے صبح سویرے ہی ریلوے کے پاس ڈیزل ختم ہوگیا اورریلوے لاہور ڈویژن انتظامیہ کومجبورا لاہور اور فیصل آباد کے درمیان برانچ لائن پر چلنے والی ٹرین غوری ایکسپریس کی سروس کو معطل کرنا پڑا۔دریں اثنا ءفرید ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس کو بھی کئی ڈیزل نہ ہونے کے باعث روکنا پڑا ۔تاہم دوپہر کو ڈیزل کے آنے کے بعد انہیں ان کی منزل کی طرف روانہ کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ پی ایس اونے ریلوے لاہور ڈیژن کو 2لاکھ 30ہزار لیٹر ڈیزل دیا ہے اور بحران مستقل بنیادوں پر حل ہونے کی بجائے عارضی طور پر حل ہوا ہے ۔ دریں اثناءڈیزل نہ ہونے کے باعث ریلوے انتظامیہ کو بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔ ڈیزل کم ہونے کی وجہ سے ریلوے ہیڈ کواٹر میں جنریٹر لگے ہوئے تھے وہ بھی وقفہ وقفہ سے چل رہے تھے افسروں سمیت ملازمین کا گرمی میں براحال تھا۔ ڈیزل کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل منیجر آپریشنز ریلوے جنید قریشی نے کہا ہے کہ ڈیزل کی کمی ضرور ہے اس کی قلت ہر گز نہیںہے ۔مین لائن پر چلنے والی ایک ٹرین کی بھی سروس معطل یا منسوخ نہیں کی ۔اگلے 10مہینوں میں ٹرینوں کی آمدورفت کی صورتحال مذید بہتر ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ 27انجن مرمت ہوکر جلد ٹریک پر آجائیں گے اس سے ریلوے کے مسائل حل ہونے میں کافی مد د ملے گی۔جبکہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ لاہور ڈویژن ریلوے جاوید انور بوبک نے کہا کہ اس وقت ریلوے کے پاس 2لاکھ 30ہزار لیٹر ڈیزل کا ذخیر ہ موجود ہے جو تین روز کے لئے کافی ہے۔

مزید : صفحہ آخر