پنجاب کی جیلوں میں موبائل فون کا استعمال ‘قیدیو ں کو رشوت کے عوض سہولت ملنے لگی

پنجاب کی جیلوں میں موبائل فون کا استعمال ‘قیدیو ں کو رشوت کے عوض سہولت ملنے ...

لاہور(رپورٹ: یونس باٹھ) پنجاب بالخصوص لاہور کی جیلوں میں موبائل کا استعمال عام ہوگیا ہے قیدیوں کو جیلوں میں گھروں جیسی سہولتیں دی جارہی ہیں سپاہی سے لے کر سپرنٹنڈنٹ تک سبھی نے ”جیل“ کو آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے لاہور کی جیلوں میں تعیناتی کے لئے اسسٹنٹ ڈپٹی اور سپرنٹنڈنٹ صاحبان کو بھاری نذرانے دینا پڑتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور لاہور ریجن کے ڈی آئی جی ملک مبشر کی ہدایت کے باوجود لاہور کی دونوں جیلوں میں موبائل فون کا استعمال قیدیوں اور حوالاتیوں میں بند نہیں ہوسکا۔ جرم کی دنیا میں بدنام اور ٹاپ ٹین کا درجہ حاصل کرنے والے ملزموں کے لئے جیلیں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ بدنام ملزم جیلوںمیں بیٹھ کر فون پر بھتہ وصول کر رہے ہیں اور جیلوں میں موبائل فون کا استعمال بیرک کے وارڈن، ڈپٹی اسسٹنٹ ، سپرنٹنڈنٹ، چیف اور منشی کی مشاورت سے کیا جاتا ہے جیلوں میں قیدیوں کو گھروں جیسی سہولتیں دینے کے عوض قیدیوں اور حوالاتیوں کو روزانہ ہزاروں روپے نذرانہ دینا پڑتا ہے جبکہ جیلوں میں منشیات، قمار بازی اور دیگر جرائم بھی عام ہیں اور جیل انتظامیہ ان جرائم کی پشت پناہی خود کرتی ہے لاہور میں ڈپٹی اور سپرنٹنڈنٹ صاحبان کو تعیناتی کے لئے اثرورسوخ کے ساتھ ساتھ بھاری نذرانے بھی دینا پڑتے ہیں لاہور کی جیلوں میں تعینات دونوں سپرنٹنڈنٹ صاحبان کی شہرت اچھی نہیں ہے اور انہوں نے جیلوں کو ہی اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے واضح رہے کہ سپرنٹنڈنٹ صاحبان کی تعیناتی آئی جی جیل نہیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی مرہون منت ہے آئی جی جیل میاں فاروق نذیر نے اس بارے میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ پنجاب بالخصوص لاہور کے دونوں سپرنٹنڈنٹ صاحبان کو سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ جیل میں موبائل فون کا استعمال ہرگز نہیں ہونا چاہیے وہ شکایت ملنے پر خود بھی اور اپنے ڈی آئی جی صاحبان کو بھی چھاپے مارنے کہ ہدایت کرتے ہیں اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...