ارشادات عالیہ

ارشادات عالیہ

صدر زرداری پنجاب میں شہباز شریف کووزارت اعلیٰ کی خیرات دینے کا تذکرہ یوں کر رہے ہیں جیسے انہوں نے کبھی کوشش ہی نہ نہیں کی ہو کہ پنجاب میں ان کا یا ان کی حلیف پارٹی ، یعنی مسلم لیگ ق ، کا وزیر اعلیٰ بن جائے ، اگر ایسا ہے تو پھر مرحوم سلمان تاثیر، اور پیپلز پارٹی کے لئے مرحوم بابر اعوان اور پرویز الٰہی کے درمیان جو کھچڑی پکی تھی ، کیوں پکی تھی، رحمٰن ملک کو شہبا ز شریف کی جانب سے جھوٹوں کے آئی جی کا خطاب کیوں ملا تھا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے شہباز شریف نے وٹو کا چٹو بنانے کا عزم کیوں کیا تھا؟صدر زرداری لڑتے بھی ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں رکھتے!انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ پنجاب سمیت چاروں صوبوں میں ہمارے وزیر اعلیٰ ہوں گے ، یہ بات انہوں نے خیرپور کے جلسے میںکی، سندھ میں پنجاب کا ذکر چہ معنی دارد!...ہوسکتا ہے کہ وہاں کی مقامی قیادت نے ان سے پوچھا ہو کہ سائیں کیا آئندہ انتخابات کے نتیجے میں سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کا کوئی چانس ہے یا پھر ہم تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں ، اسی لئے جناب آصف زرداری نے سندھ میں بیٹھ کر پنجاب فتح کرنے کی بشارت دی ہے ، کمال تو یہ کیا ہے کہ سندھ میںکھڑے ہو کر جناب صدر نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ پی پی نوکریوں کی پارٹی نہیں اور وہ نوکریاں نہیں دے سکتے، ہم ان سے کہتے ہیں کہ نوکری نہیں دینی نہ دیں، بجلی تو دیں، وہ تو عوام کا بنیادی حق ہے، اورپھرجناب گیلانی صاحب نے تو پانچ سال تک قید اس لئے بھگتی تھی کہ انہوں نے جیالوں کو نوکریاں دی تھیں اور دھڑلے سے کہا تھا نوکریاں دینا جرم ہے تو وہ یہ جرم بار با ر کرتے رہیں گے ،اس لئے نوکریوں کے حوالے سے یہ منطق ناقابل فہم ہے کیونکہ یہ بات طے ہے کہ اگر جناب زرداری صاحب نے اگلا الیکشن یہ کہہ کر لڑا کہ وہ نوکریاں نہیں دے سکتے تو پنجاب تو کجا سندھ بھی فتح ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پنجاب میں پہلے ہی بقول رانا ثناءاللہ کے ایسی ’اونگی بونگی‘ قیادت موجود ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینٹ الیکشن میں اسلم گل کی یقینی فتح شکست میں تبدیل ہو گئی تھی!

ویسے زرداری صاحب کو ایک ہی بار بتادینا چاہئے کہ آئندہ پنجاب میں اور کیا کیا کچھ ان کی پارٹی کا ہوگا، ایک زمانہ تھا جب پورا پنجاب پیپلزپارٹی کا ہوتا تھا ، اب صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں چھپی ہوئی ہے ، اور پنجاب کے لیڈر اسے وہاں سے بھی بھگانے کے چکر میں ہیں!

انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اگلی حکومت بننے کے بعد پنجاب میںجا کر بیٹھوں گا، یعنی نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی ، ویسے انہوں نے گورنر سلمان تاثیر کے ہوتے ہوئے بھی پنجاب میں بیٹھنے کی کوشش کی تھی لیکن پھر ایک جیالے کو شٹ اپ کہہ کر چلے گئے ، انہوں نے جنوبی پنجاب کا نعرہ لگایا تو مہاجر صوبے کا نعرہ لگ گیا، لہٰذا خاموشی کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا، سنا ہے اب جنوبی پنجاب کے اعلان کو پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ بنادیا گیا ہے!

سب سے دلچسپ بات خیر پور کے جلسے میں جناب زرداری صاحب نے یہ کی کہ ان سے گیلانی چھینا گیا تو انہوں نے ایک جیالے کو وزیر اعظم لگا دیا، تو کیا گیلانی صاحب جیالے نہ تھے ، اگر ایسا تھا تو یہ کیوں نہیںکہا کہ ایک جیالے کو ہٹایا تو دوسرے کو لگادیا، ہو سکتا ہے کہ گیلانی صاحب اس بات کا برا مناتے کہ وہ تو حضرت غوث الاعظم کی اولاد ہیں، جیالے تھوڑی ہیں کہ ان کی توہین کی جائے!

انہوں نے یہ ارشاد بھی فرمایا ہے کہ پاکستان میں نئی سیاست آرہی ہے جس پر ان کی نظر ہے، نئی سیاست کا تو ہمیں علم نہیں البتہ ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ پاکستان میں نئی سیاسی قیادت ضرور ابھر رہی ہے، چنانچہ اگر اس بات سے جناب زرداری صاحب کامطلب یہ ہے کہ ان کی نظر عمران خان پر ہے اور وہ اس سے بھی اگلے چالیس سال کے لئے اتحاد کی سیاست کرنے کا سوچ رہے ہیں تو الگ بات ہے ، وگرنہ پاکستان میں جس قسم کی نئی سیاست آرہی ہے ، اس میں پیپلز پارٹی کے لئے کم از کم اگلے پانچ سال کی گنجائش کم ہی نکلتی نظر آتی ہے !

خیرپور میں جناب صدر زرداری ایسی خوش کن باتیں کر رہے ہیں اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں سحر اور افطار کے موقع پر اندھیروں کے راج کے خلاف شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، عوام سڑکوں پر ہیں اور توڑ پھوڑ اور پتھراﺅ سے حکومت کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں، ان حالات میں اگر معیشت کمزور ہونے کے باوجود چل رہی ہے تو وہ پنجاب کی شکر گزارہوں جہاں پر زراعت نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھا ہوا ہے!

مزید : کالم