لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج،حکومتی اتحادی بھی ناراض ،شہباز شریف پھرسڑک پرنکل پڑے،توڑپھوڑ ،سڑکیں بند،مقدمات درج

لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج،حکومتی اتحادی بھی ناراض ،شہباز شریف پھرسڑک پرنکل ...
لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج،حکومتی اتحادی بھی ناراض ،شہباز شریف پھرسڑک پرنکل پڑے،توڑپھوڑ ،سڑکیں بند،مقدمات درج

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے منگل کے روز بھی جاری رہے جس دوران مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی جس دوران کئی زخمی اور درجنوں گرفتار کر لئے گئے جبکہ حکومتی اتحادی اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی حکومت سے ناراض ہیں جنہوں نے عوام کا ساتھ دینے کی دھمکی دے دی ہے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ایک بار پھر لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے حاجی عدیل اور ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی نے کہا کہ حکومت بجلی بحران پر قابو پائے بصورت دیگر ان کے پاس عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس موقع پر حاجی عدیل نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبہ خیبر پختونخواہ میں بجلی کے منصوبے لگائے ہم پوری بجلی بغیر کسی معاوضے کے انہیں دینے کو تیار ہیں جس کی نفی کرتے ہوئے ن لیگ کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ حکومت بجلی پیدا کرنے والوں کے پانچ سو ارب روپے ادا نہیں کر رہی اگر یہ ادائیگی کر دی جائے تو بڑی حد تک بحران پر قابو پایاجا سکتا ہے۔ مختلف علاقوں میں موصولہ اطلاعات کے مطابق لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج جاری رہا ۔ لاہور میں دن بھر مظاہروں کے بعد رات کو بھی مظاہرین سڑکوں پر آ گئے جنہوں نے گلشن راوی میں لیسکو کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور املاک کو آگ لگا دی۔ بعض دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے کئے گئے ۔ مظاہرین نے اس امر پر شدید احتجاج کیا کہ دن بھر مسلسل گھنٹوں بندش کے بعد عین افطار کے وقت پر بھی بجلی بند کر دی گئی۔ سرگودھا میں مظاہرین نے مختلف سڑکیں بلاک کرکے ٹریفک کی روانی معطل کردی جبکہ پولیس نے سرگودھامیں 257 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیااور توڑپھوڑ کے دوران تین افراد زخمی ہوگئے۔پھلروان میں منگل کو دوسرے روز بھی ہڑتال رہی اور شہریوں نے تھانے کا گھیراﺅکرلیااور مظاہرین نے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تھانے کے باہر تصادم ہوا اور پولیس نے فائرنگ کی۔ سالم انٹر چینچ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرنے والے 57نامزد افراد سمیت 257مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومتی اتحادی جماعت اے این پی کے کارکنوں نے بھی لوڈ شیڈنگ کیخلاف مطاہرہ کیا ۔ لکی مروت میں شہریوں نے توانائی بحران کے خلاف احتجاج کیااور توڑ پھوڑ کی جس سے تین افراد زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتارکرلیا۔اٹک میں بھی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پھلروان کے قریب جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔فایصل آباد کراچی اور آزاد کشمیر میں بھی لوڈ شیڈنگ کیخلاف مظاہرے کئے گئے ۔

مزید : لاہور