کبھی کبھارپی لیتی ہوں ۔۔رنگ و نور سے دور ممتاز کو تنہائی ڈسنے لگی

کبھی کبھارپی لیتی ہوں ۔۔رنگ و نور سے دور ممتاز کو تنہائی ڈسنے لگی
 کبھی کبھارپی لیتی ہوں ۔۔رنگ و نور سے دور ممتاز کو تنہائی ڈسنے لگی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ”کوئی شہری بابو، دل لہری بابو ہائے رے کب باندھ گیا گھنگرو“ سے چھم چھم ناچتی اور مسرت کا اظہار کرتی ماضی کی صف اول کی ہیروئن ممتاز ” چھپ گئے تارے نظارے سارے“ کی طرح اپنی زندگی اور حقیقی جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ آج اپنی 65 ویں سالگرہ پر ان کا کہنا ہے کہ وہ خوشحال زندگی میں بھی بہت سی تنہائی محسوس کرتی ہیں۔ 60 اور 70 کی دہائی میں بھارتی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی ہیروئن ممتاز شادی اور فلمی دنیا سے کنارہ کشی کے بعد لندن میں مقیم ہیں اور ایک بھارتی اخبار نے ان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممتاز کہتی ہیں کہ زندگی صرف پھولوں کی سیج نہیں، اس میں زیادہ حصہ جدوجہد میں گزر جاتا ہے، میں نے 26 سال دن رات محنت کی، اپنے والدین کی فرمانبردار بیٹی تھی، جو کچھ کمایا ان کی ہتھیلی پر رکھا لیکن کبھی یہ نہیں پوچھا کہ میری دولت کہاں گئی۔ شادی کے بعد شوہر نے بہت سی آسائشیں اور خوشیاں دیں لیکن پھر بھی تنہائی محسوس کرتی ہوں کیونکہ ایک بیٹی فردین خان سے شادی کر چکی ہے، دوسری بیٹی بھی باپ کے ساتھ بزنس میں دنیا کے مختلف ممالک میں سفر پر رہتی ہے تو اکیلی میں کیا کروں؟ کس طرح دنیا بھر میں ان کے پیچھے پیچھے بھاگوں؟ ۔ان کا کہنا ہے کہ میں تنہائی میںکبھی کبھار تھوڑی پی لیتی ہوں لیکن شور اور کلب کی زندگی سے نفرت ہے۔ دو گھر ہونے کے باوجود میں انڈیا میں نہیں رہ سکتی، ممبئی مزید تنہا ہو جاﺅں گی۔ وہاں دوستوں کی حالت ایسے ہی ہے جیسے ہر طرف پانی ہی پانی ہو لیکن پینے کو ایک قطرہ نہ ہو کیونکہ میں ہر کسی کو بہت قریبی دوست نہیں بنا سکتی۔ ممتاز کا کہنا ہے کہ میں خود کو سیر اور ٹیلی ویژن دیکھنے میں مصروف رکھتی ہوں۔ ٹیلی ویژن پر تعلیم کے پروگرام اور خبریں دیکھتی ہوں جس سے پوری دنیا کے حالات سے آگاہ رہتی ہوں۔

مزید : تفریح