محکمہ داخلہ اور دیگر اداروں کی لاپرواہی سے درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع

محکمہ داخلہ اور دیگر اداروں کی لاپرواہی سے درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع
محکمہ داخلہ اور دیگر اداروں کی لاپرواہی سے درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)باوثوق ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ سمند ر میں طغیانی کے باوجودمحکمہ داخلہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سی ویو اور دیگر مقامات پر نہانے پرعائد پابندی میں توسیع نہیں کی گئی جبکہ ڈپٹی کمشنر ساﺅتھ کی ازخود لگائی پابندی پر عمل در آمد کے لئے بھی متعلقہ اداروں نے نہایت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا۔سی ویو پر ڈوبنے والوں کی لاشیں تلاش کرنے کے لئے سی ویو پر ہیلی کاپٹرز کی مدد سے آپریشن جاری ہے اور اب تک23لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کی جانب سے گذشتہ ماہ سمند ر میں نہانے پر عائد پابندی کی مدت    17   جو لائی   کو ختم ہو گئی تھی اور سمند رمیں طغیانی کے باوجود سمندر میں نہانے پر دوبارہ پابندی نہیں لگائی گئی یعنی محکمہ داخلہ کی عدم دلچسپی کے باعث پابندی میں توسیع نہیں کی گئی۔ڈپٹی کمشنر ساﺅتھ نے محکمہ داخلہ کو دوبارہ پابندی کی درخواست کی تھی لیکن بار بار یاددہانیوں کے باوجود محکمہ داخلہ کا جواب نہ ملنے پر ڈپٹی کمشنر ساﺅتھ نے از خودپابندی عائد کر دی تھی تاہم اس پابندی پر عمل در آمد کرانے میں متعلقہ محکموں نے سختی سے کا م نہیں لیا اور پابندی کے احکامات صرف کاغذات تک محددو رہے جس کے نتیجے میں کل سے اب 23افراد کے ڈوب کر جاں بحق ہو نے کی تصدیق ہو چکی ہے۔یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ میڈیا پر محکمہ داخلہ کی اس غفلت کی خبریں نشر ہونے پر آج چھٹی کے روز محکمہ داخلہ سندھ کا دفتر کھول کر سمندر میں نہانے پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جا ری کر دیا گیا ہے۔

مزید :

کراچی -اہم خبریں -