کروڑوں ڈالر مالیت کے جدید ترین امریکی ہتھیار افغانستان میں ”گم“ ہوگئے

کروڑوں ڈالر مالیت کے جدید ترین امریکی ہتھیار افغانستان میں ”گم“ ہوگئے
کروڑوں ڈالر مالیت کے جدید ترین امریکی ہتھیار افغانستان میں ”گم“ ہوگئے

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی فوج افغانستان سے رخصت ہورہی ہے اور سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے افغان سیکیورٹی فورسز کو تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس عمل کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے کیونکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 63 کروڑ ڈالر (تقریباً 63 ارب پاکستانی روپے) کے ہتھیاروں کا کچھ پتا نہیں چل رہا کہ وہ افغان فورسز کو دئیے جانے کے بعد کہاں گم ہوگئے ہیں۔ افغانستان کو دئیے جانے والے جنگی سامان کی نگرانی کرنے والے سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار افغان حکومت کے مخالف جنگجوﺅں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پہلے ہی ان کے پاس پہنچ چکے ہوں، گمشدہ ہتھیاروں میں رائفلیں، پستول، مشین گنیں، گرینڈ لانچر اور شاٹ گنیں شامل ہیں جن کی کل تعداد 465000 ہے۔ امریکی محکمہ دفاع میں موجود کھاتوں میں ان ہتھیاروں کے اندراج میں بے شمار غلطیاں پائی گئی ہیں اور 43 فیصد سیرل نمبروں میں کچھ بھی نہیں لکھا گیا جس سے یہ بتا چلانا ناممکن ہوگیا ہے کہ یہ ہتھیار کہاں گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ساڑھے چار لاکھ سے زائد ہتھیاروں کا ریکارڈ نہ امریکہ کے پاس ہے اور نہ افغانستان کے پاس۔ واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان کی افغان حکومت کے خلاف کارروائیوں میں شدت آچکی ہے اور امریکہ کی رخصتی کے ساتھ ہی افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات بہت بڑھ گئے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -