عرب ریاستیں بھی حماس کے خلاف ہونے لگیں

عرب ریاستیں بھی حماس کے خلاف ہونے لگیں
عرب ریاستیں بھی حماس کے خلاف ہونے لگیں

  

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطین پر اسرائیلی بربریت کے خلاف امت مسلمہ عمومی طور پر اور عرب ممالک خصوصی طور پر خاموش کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مشہور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور متعدد تحقیقی اداروں کے ماہرین نے بتایا ہے کہ عرب ریاستیں اسرائیل کی مخالفت کیا کریں گی بلکہ وہ تو اسرائیل کی حمایت کر رہی ہیں اور ان ریاستوں میں سعودی عرب، مصر ، اردن اور متحدہ عرب امارات نمایاں ہیں۔مصنف اور صحافی ڈیوڈ پیٹرک کا کہنا ہے کہ عرب ریاستوں نے اسرائیل کی حمایت میں ایک اتحاد قائم کر رکھا ہے ۔جس کی سربراہی مصر کر رہا ہے اسی اتحاد اور اسرائیل کی حمایت کا نتیجہ تھا کہ کہ مصر نے جنگ بندی کی ایسی پیشکش کی کہ جس میں اسرائیل کی ہر بات مانی گئی جب کہ حماس کی کوئی بات بھی نہ مانی گئی۔ حماس نے اس پیشکش کو فوراً رد کر دیا اور اسرائیل نے فوراً قبول کر لیا لیکن مصر اب بھی بضد ہے کہ اگر کوئی بھی بات ہو گی تو اس پیشکش کے تحت ہو گی۔ واضح رہے کہ مصرنے تباہ حال فلسطینیوںکیلئے اپنی سرحد بھی بند کررکھی ہے اور حماس کی خفیہ سرنگوں کے خلاف بھی کاروائی جاری رکھی ہوئی ہے ۔دوسری جانب عرب ممالک کے اس عجب رویے کی بھی اہم وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ولسن سنٹر واشنگٹن کے دانشور اور معروف سیاسی تجزیہ کار ایرن ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ عرب ممالک فلسطینیوں کے نہیں بلکہ فلسطین پر اختیار رکھنے والی تنظیم حماس کے خلاف ہیں کیونکہ وہ اسے ملکوں اور شہریوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ مصر کا موقف ہے کہ حماس اس ملک میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور مصری پولیس ، فوجیوں اور شہریوں کی قاتل ہے۔ مصری تحقیق کاروں نے 2011میں سابق صدر محمد مورسی اور ان کے حمایتی رہنماو¿ں کو جیل توڑ کر رہا کر وانے کی ذمہ داری بھی حماس پر ڈالی ہے۔متعدد عرب ممالک حماس کو مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں دانشوروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک نہ صرف خاموش بلکہ درپردہ اسرائیل کے حمایتی بھی ہیںتاکہ وہ حماس کو ختم کر دے۔

مزید :

انسانی حقوق -