فحش فلموں کی دنیا میں نادیہ علی وہ واحد نام جو اپنا تعلق پاکستان سے بتاتی ہے

فحش فلموں کی دنیا میں نادیہ علی وہ واحد نام جو اپنا تعلق پاکستان سے بتاتی ہے

لاس اینجلس( آن لائن )فحش فلموں کی دنیا میں نادیہ علی وہ واحد نام ہے جو اپنا تعلق پاکستان سے بتاتی ہے، اور مزید شرم کی بات یہ ہے کہ یہ اداکارہ حیا سوز فلموں میں بے حیائی کا کام بھی حجاب پہن کر کرتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مطابق حجاب پہن کر بے حیائی کرنے والی اس 25 سالہ فنکارہ کا کہنا ہے کہ اس کا خاندان اب بھی پاکستان میں آباد ہے۔ حیا سوز اداکارہ کہتی ہے کہ اس نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز ایک بیوٹیشن کے طور پر کیا، بعدازاں رقص بھی شروع کردیا اور جب دیکھا کہ حجاب پہن کر رقص کرنے سے گاہکوں کی بڑی تعداد اس کی جانب مائل ہوتی تھی تو حجاب پہن کر فحش فلمیں بنانے کا شیطانی خیال آیا۔نادیہ نے اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اس کے مذہب اور کام میں تضادات ہیں لیکن اس کے باوجود ڈھٹائی سے یہ بھی کہتی ہے کہ وہ بیک وقت اپنے مذہب پر بھی کاربند ہے اورفحش فلموں میں کام کرنا بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

بے حیائی کے سفر کے آغاز کے متعلق بات کرتے ہوئے نادیہ کا کہنا تھا کہ جب وہ سان فرانسسکو کے ایک سیلون میں کام کرتی تھی تو مالی پریشانی کی شکار تھی۔ ایک دن اس کی ایک سہیلی اسے فحش رقص کے لئے اپنے ساتھ لے گئی اور اس نے ایک گھنٹے میں ہی 500 ڈالر کمالئے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ایسا تھا گویا اس کا دیرینہ خواب سچ ہوگیا ہو اور اسے اس پر فخر بھی تھا۔ اس کے بعد فحش فلموں کی دنیا میں قدم رکھاتو یوں لگا کہ جیسے زندگی کا مقصد مل گیا ہو اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔نادیہ علی نے اپنے والدین کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا، ’’کسی بھی عام والدین کی طرح میرے والدین بھی نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی فحش فلموں میں کام کرے لیکن وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ میں یہ کیوں کررہی ہوں۔ میرا ان کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور میں انہیں ہر بات کھل کر بتادیتی ہوں۔ ‘‘جب اداکارہ سے پوچھا گیا کہ وہ بے حیائی کے کام میں حجاب کا استعمال کیوں کرتی ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ اس منفرد انداز کی وجہ سے ہی تو ان کی ویڈیوز کو لاکھوں افراد دیکھتے ہیں۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تمام تر تنقید اور موت کی دھمکیوں کے باوجود اپنے گاہکوں کی پسند کا خیال رکھے گی اور اسی انداز میں مزید فلمیں بناتی رہے گی۔

مزید : کلچر


loading...