سندھ، نئے وزیراعلیٰ کا اعلان اور ان سے توقعات!

سندھ، نئے وزیراعلیٰ کا اعلان اور ان سے توقعات!

سندھ کے سابق وزیر خزانہ جوان سال سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ منتخب ہو کر حلف اٹھایا اور چارج بھی سنبھال لیا ہے، سید مراد علی شاہ نے کوشش کی کہ اپنے پیشرو سید قائم علی شاہ کی طرح اتفاق رائے سے منتخب ہو جائیں، لیکن متحدہ اپوزیشن کی جماعت تحریک انصاف نے ایسا نہ ہونے دیا اور ان کو انتخاب کے امتحان میں ڈال دیا، ایوان میں متحدہ اور دوسری اپوزیشن جماعتوں نے رائے دہی سے گریز کیا، حمایت یا مخالفت میں ووٹ نہ دیا۔ البتہ مسلم لیگ(ن) کے دو اور فنکشنل لیگ کے ایک رکنِ اسمبلی سے ان کو حمایت مل گئی۔ یوں پیپلزپارٹی کے 85 اور مسلم لیگوں کے تین ووٹوں کی مدد سے وہ وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی نامزدگی اور انتخاب نے پھر سے سندھ پیپلزپارٹی کی صفوں میں اتحاد کی نشاندہی کی ہے، حتیٰ کہ ڈاکٹر ذوالفقا مرزا کے صاحبزادے حسنین مرزا نے بیرون مُلک سے واپس آ کر اعلان کر کے ووٹ دیا، یوں پارٹی کے اندرونی اختلاف پھر سے دب گئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی نامزدگی اور پھر انتخاب کے بعد حکمرانی میں تبدیلی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی ترجیحات میں تعلیم، صحت اور امن و امان شامل ہیں اور وہ تندہی سے کام کریں گے، ان ہاؤس تبدیلی پیپلزپارٹی کا استحقاق تھا جو اُس نے استعمال کیا۔

جہاں تک الزامات کا تعلق ہے تو سیاست دانوں کے خلاف لگتے چلے آ رہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اِس حمام میں سب ننگے ہیں، تاہم جب تک کسی کے خلاف کوئی الزام ثابت ہو کر جرم نہ بن جائے ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ البتہ نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے یہ توقع ضرور کریں گے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کر کے اسے ثابت بھی کریں۔ سید قائم علی شاہ کے دور میں کمزور حکمرانی کا تاثر موجود تھا ان کو ایک مضبوط اور اچھی حکمرانی کا تاثر پیدا کرنے کے لئے عملی طور پر محنت اور نگرانی کرنا ہو گی۔ یوں بھی شہری اور دیہی سندھ میں مسائل کے انبار ہیں، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے علاوہ جرائم بھی ہو رہے ہیں۔ کراچی کا مسئلہ بھی نازک اور رینجرز کے قیام، اختیارات اور دائرہ کار میں اندرون سندھ تک اضافے جیسے مسائل بھی ہیں۔ یہ سب نازک اور حساس معاملات ہیں، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سب جاننے کا تاثر دیا اور اچھی توقعات دلائی ہیں تو ہم بھی دُعا گو ہیں کہ وہ اپنے کہے پر پورا اتریں اور کامیابی حاصل کریں تاکہ کراچی اور سندھ میں امن اور سکون ہو، سید مراد علی شاہ کو اپنی جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی گفتگو پر بھی توجہ دینا ہو گی، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اصل کام غریبوں کی حالت بہتر بنانا ہے۔ یہ تو پیپلزپارٹی کا منشور بھی ہے۔ امید ہے اب یہ صرف نعرہ نہیں رہے گا عملاً بھی کچھ کرنا ہو گا،وہ یہ سب کر گزرے تو آئندہ 2018ء کا انتخابی مرحلہ بھی آسان ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...