غیر قانونی مذبحہ خانوں کا خاتمہ نہ ہوسکا ، مضر صحت گوشت کی فروخت عام

غیر قانونی مذبحہ خانوں کا خاتمہ نہ ہوسکا ، مضر صحت گوشت کی فروخت عام

 لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں جعلی اور غیر قانونی مذبحہ خانوں سے لاغر ،بیمار اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ضلعی انتظامیہ ،لائیو سٹاک اور فوڈ اتھارٹی ملکر بھی جعلی مذبحہ خانوں کا خاتمہ نہیں کر سکی اس وقت شہر لاہور میں 400پرائیویٹ اور غیر قانونی مذبحہ خانے قصاب مافیا چلا رہا ہے جن میں سے زیادہ تر کنٹونمنٹ بورڈ ،واہگہ ٹاؤن ،عزیز بھٹی ٹاؤن ،شالیمار ٹاؤن ،مشتر ٹاؤن ،راوی ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن کی حدود میں ہیں جن کی اکثریت انتظامیہ کے علم میں ہے ۔مگر ان کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا جن میں روزانہ ایسے سینکڑوں جانور ذبح ہو کر ہزاروں من گوشت روزانہ شہریوں کے معدوں میں اتارا جا رہا ہے ۔دوسری طرف شہر کے اندر مردہ ، بیمار اور کم وزن والی مرغی کا گوشت بھی کھلے عام فروخت ہو رہا ہے جس کو کھانے سے شہری پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ایسا مردار اور بیمار جانوروں کا گوشت زیادہ تر پبلک پوائنٹس پر واقع ہوٹلوں ،کنٹینوں ،تکہ کباب کے پوائنٹس ،برگر اور شوارما بنانے والے استعمال کر رہے ہیں یہاں تک کہ ٹولنٹن اور بادامی باغ مارکیٹ سے مردہ گوشت فروخت کرنے والے درجنوں چکن فروش جن کی دکانوں سے مردہ مرغی پکڑی گئی ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے مگر ان کی تفتیش نہ تو مکمل ہو سکی اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد یہ دیدہ دلیری سے دوبارہ دھندہ کر رہے ہیں بتایا گیا ہے کہ شہر میں پرائیویٹ مذبح خانوں میں جانور ذبح کرنے پر پابندی ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔مگر اس وقت دیڑھ سو کے قریب مذبح خانے کنٹونمنٹ بورڈ اور عزیز بھٹی ٹاؤن کی حدود میں کھلے عام چل رہے ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں جانور ذبح کئے جاتے ہیں ایسے مذبح خانوں کا مرکز بیدیاں روڈ کاہنہ کاشہ چونگی امر سدھو ،راوی پار آباد یاں ،باٹا پور ،جلو ،اڈہ چھبیل ہیں۔اس حوالے سے کمشنر لاہور عبداللہ سنبل کا کہنا ہے کہ مردہ اور لاغر جانوروں کے نام پر گوشت کی فروخت کسی صورت بھی قبول نہیں ہے ان کی روک تھام فوڈ اتھارٹی ،لائیو سٹاک اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔جس کی کوتاہی ثابت ہوئی اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی سخت ہدایات ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کروائیں گے کسی کو ایسا گوشت فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے مانیٹرنگ کا نظام سخت کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...