پاک انگلینڈٹیسٹ کرکٹ سیریز2016ء 3اگست کو دونوں ٹیمیں برمنگھم کی گراؤنڈ میں آمنے سامنے

پاک انگلینڈٹیسٹ کرکٹ سیریز2016ء 3اگست کو دونوں ٹیمیں برمنگھم کی گراؤنڈ میں ...

پاکستانی شائقین کی توقعات مخمصے کا شکار

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا تیسرا میچ 3اگست سے برمنگھم میں شروع ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان جاری سیریز 1-1 سے برابر ہے۔ پاکستان ٹیم نے میزبان ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میچ میں 75رنز سے شکست دی تھی جبکہ انگلینڈ ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں کم بیک کرتے ہوئے پاکستان کو 330 رنز سے شکست دیکر سیریز 1-1 سے برابر کر دی تھی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا چوتھا اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ 11 اگست کو اوول میں کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 24 اگست کو ساؤتھمپٹن میں کھیلا جائے گا، دوسرا ون ڈے میچ 27 اگست کو لارڈز میں میں کھیلا جائے گا، تیسرا ون ڈے میچ 30 اگست کو نوٹنگھم میں میں کھیلا جائے گا، چوتھا ون ڈے میچ یکم ستمبر کو ہیڈ نگلے میں میں کھیلا جائے گا اور پانچواں اور آخری ون ڈے میچ 4 ستمبر کو کارڈف میں کھیلا جائے گا۔ سیریز کا واحد ٹی ٹونٹی میچ7 ستمبر کو مانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔ قومی کرکٹ ٹیم دورہ کے دوران آئرلینڈ کے خلاف بھی دو ون ڈے میچز کھیلے گی، پہلا ون ڈے میچ 18 اگست کو کھیلا جائے گا۔ آئرلینڈ کے خلاف ڈبلن میں ہی دوسرا ون ڈے میچ 20 اگست کو کھیلا جائے گا۔ قومی ٹیم انتظامیہ نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لئے ٹیم میں چند تبدیلیوں پرغورشروع کردیا ہے۔تاہم دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم نے تیسرے ٹیسٹ کے لئے تبدیلیوں کا فیصلہ کیاہے۔اوپنر شان مسعود اور تین لیفٹ آرم فاسٹ بولرز میں سے کسی ایک کی تبدیلی متوقع ہے۔ شروع ہونے والے پریکٹس میچ میں اکیس سالہ سمیع اسلم اوپن کریں گیاور دونوں رائٹ آرم فاسٹ بولرز عمران خان اور سہیل خان بھی میچ کا حصہ ہوں گے۔دو روزہ میچ میں اچھی کارکردگی سمیع اسلم اور ایک پیسر کو ٹیسٹ ٹیم میں جگہ دِلا سکتی ہے۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی سب سے بڑی خامی اوپننگ بلے بازی ہے۔ پچھلے دس سالوں میں پاکستان نے سترہ جوڑیاں آزمائیں ، ایک بھی کامیاب نہ ہوسکی ، بہتر رینکنگ کے باوجود ایشیا سے باہر صرف دو سیریز گرین شرٹس کے نام ہوئیں۔ بلے بازی قومی ٹیم کی سب سے بڑی خامی مانی جاتی ہے مگر تاریخ کے ورق پلٹیں تو یہ مرض بہت پرانا لگتا ہے۔ بیس سے زائد ٹیسٹ میچز کھیلنے والے اوپنرز میں اب تک محض چار بلے باز 40سے زائد کی اوسط سے رنزبنا سکے ۔ سب سے کامیاب سعید انور جب کہ دیگر تین میں شعیب محمد ، حنیف محمد اور محمد حفیظ شامل ہیں۔ 2006ء سے اب تک پاکستان نے 17اوپننگ جوڑیوں کو آزمایا گیا۔کمال یہ ہے کہ ایک بھی کامیاب جوڑی قرار نہیں پائی۔ آخری مرتبہ سعید انور اور عامر سہیل کی جوڑی حریف ٹیموں کے لئے پریشانی کا سبب رہی۔ سلیکشن میں عدم تسلسل نے اس مرض کو ہرا رکھا اور مر ض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اب ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان تیسرے نمبر پر ضرور ہے مگر ایشیا سے باہر ٹیم پاکستان نیوزی لینڈ اور زمبابوے کے خلاف ہی محض دو سیریز جیت سکی ہے۔انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کی تشکیل کے لئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اظہر علی،سرفرازاحمد اور مکی آرتھر سمیت قومی اے ٹیم کی انتظامیہ سے ملاقات کر کے ٹیم کی تشکیل پر مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر انضمام الحق نے انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ٹیم کی تشکیل کے لئے قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی ،ٹی ٹوئنٹی کپتان سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ ہیڈ کوچ مکی آرتھر سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ چیف سلیکٹر نے انگلینڈ میں موجود قومی اے ٹیم کے کوچز باسط علی اور کبیر خان سے ملاقات کرکے نوجوان کھلاڑیوں کی کار کردگی پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔پی سی بی ذرائع کے مطابق دورہ انگلینڈ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جاہد علی ،سعود شکیل ،میرحمزہ اور حسن علی کے نام انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لئے زیر غور آئیں ہیں۔دوسری طرف ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سلیکشن کمیٹی سے انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں دو آل راؤنڈرز شامل کر نے کامطالبہ کردیا ہے۔ جس کے بعد ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکوڈ میں بطورآل راؤنڈر عماد وسیم، محمد نواز اور حسن علی کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب کپتان مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد بلے بازوں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل کے پر شعبے میں پاکستان کو آؤٹ کلاس کیا اور میچ میں 330 رنز سے فتح اس بات کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ ہماری بیٹنگ مایوس کن رہی ، ایک اچھی وکٹ پر 198 اور 234 رنز بنا کر ہم میچ نہیں جیت سکتے۔قومی ٹیم کے کپتان نے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید بہت زیادہ اوورز کرنے کی وجہ سے وہ تھک گئے تھے۔یاسر شاہ لارڈز ٹیسٹ میں دس وکٹیں حاصل کر کے عالمی نمبر ایک بالر بن گئے تھے، لیکن اولڈ ٹریفورڈ میں انہیں ایک وکٹ کے لئے266رنز کی پٹائی برداشت کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ یاسر بہت بڑا فرق تھے، لیکن وہ ایک مضبوط کرکٹر ہیں اور اگلے ٹیسٹ میچ سے قبل جانچنے کی کوشش کریں گے کہ غلطی کہاں ہوئی۔پاکستان کے لئے ایک اور بڑا مسئلہ اوپنرز محمد حفیظ اور شان مسعود کی کارکردگی ہے۔1996ء کے بعد سے کوئی بھی پاکستانی اوپننگ جوڑی انگلینڈ کے خلاف اس کے ملک میں نصف سنچری شراکت قائم نہیں کر سکی اور اس دورے میں اس جوڑی کی جانب سے سب سے بڑی 38رنز کی شراکت لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں قائم کی گئی تھی۔اب تک ٹاپ آرڈر کے تمام بیٹسمین ٹیسٹ سیریز میں ایک بھی نصف سنچری اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، مجموعی طور پر 16اننگز میں محمد حفیظ، شان مسعود، اظہر علی اور یونس خان نے 299 رنز صرف 18 رنز کی اوسط سے جوڑے ہیں۔پاکستان کے پاس محمد رضوان، سمیع اسلم اور افتخار احمد کی شکل میں اسکواڈ میں مزید بلے باز موجود ہیں اور انہیں جمعے سے ووسٹرشائر کے خلاف شروع ہونے والے ٹور میچ میں آزمائے جانے کا امکان ہے۔مصباح نے کہا کہ ہمارے چند ٹاپ آرڈر بلے باز اچھا آغاز کرتے ہیں، لیکن اسے بڑے سکور میں تبدیل نہیں کر پا رہے، یہی بہت بڑی کمی ہے اور ہمیں بڑے سکور کرنے کی ضرورت ہے۔مصباح نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی ایک خوبی مشکل صورت حال سے ابھرنا بھی ہے،کھلاڑیوں میں صلاحیتیں ہیں،امید ہے کہ کم بیک کرتے ہوئے بہتر کھیل پیش کرینگے، کپتان نے کہا کہ ایجبسٹن میں نیا میچ اور نیا امتحان ہو گا، وہاں کی سلو وکٹ پر کارآمد حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔فاتح قائد الیسٹر کک نے کہا کہ ٹیم نے لارڈز کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر جس انداز میں پاکستانی بولرز اور خاص طور پر یاسر شاہ کا سامنا کیا، ہمارے لئے یہ بڑی خوش آئند بات ہے،روٹ نے نمبر 3پر بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے کردار سے انصاف کیا، انہوں نے کہا کہ پچ میں پیس اور بانس ہمارے بولرز کے لئے سازگار تھا جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جوئے روٹ نے کہا کہ الیسٹرکک نے بہتر بیٹنگ سے میرے لئے مثال چھوڑی، خوش ہوں کہ کارکردگی ٹیم کے کام آئی۔

آئی سی سی نے نئی ٹیسٹ ریکنگ جاری کردی، پاکستان کے یاسر شاہ پہلی سے پانچویں پوزیشن پر آگئے، بیٹنگ میں بھی یونس خان کی رینکنگ بھی گر گئی ہے ۔اولڈٹریفورڈ میں پاکستانی کھلاڑی نے سوائے نقصان کے کچھ نہ اٹھایا،میچ گنوایا،وکٹیں گنوا دیں،اب رینکنگ بھی گرادی۔ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود یاسر شاہ سیدھا پانچویں پوزیشن پر پہنچ گئے،انہوں نے دوسرے ٹیسٹ میں 63اوور میں 266رنز دیئے اور صرف ایک ہی وکٹ لے پائے۔ اس خراب کارکردگی کے بعد ان کی رینکنگ میں چار درجے تنزلی آگئی۔ویسٹ انڈیز کے خلاف سات وکٹیں لینے والے بھارت کے روی چندر ایشون پہلے نمبر پر پہنچ گئے، بولنگ رینکنگ میں جیمز اینڈرسن دوسرے سٹیورٹ براڈ تیسرے اور ڈیل اسٹیں چوتھے نمبر پر آگئے۔صرف بولنگ ہی نہیں بیٹنگ رینکنگ میں بھی پاکستان کے یونس خان ساتویں سے دسویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ مصباح الحق آٹھویں نمبر پر موجود ہیں ، اس فہرست میں آسٹریلیا کے سٹیو اسمتھ بدستور پہلے نمبر پر ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...