اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس آج عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ میں ہو گا

اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس آج عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ میں ہو گا

لاہور(خبر نگار خصوصی)اپوزیشن جماعتوں کا قومی مشاورتی اجلاس آج 31 جولائی بروز اتوار عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں سہ پہر ہو گا۔ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے حکمت عملی طے کر لی ہے جس کا اعلان سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری آج 31 جولائی کو اپوزیشن جماعتوں کے مشاورتی اجلاس کے بعد کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران انصاف کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ 2 سال گزرجانے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا اور نہ موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ملے گا کیونکہ موجودہ حکمران خود سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث ہیں۔ قاتل حکمرانوں نے غیر جانبدارانہ تفتیش ہونے دی اور نہ ٹرائل ہونے دے رہے ہیں اس لیے ہمارا موقف یہ ہے کہ آرمی چیف ہمیں انصاف دلوائیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ نے اس موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تمام جماعتوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہتے ہیں کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے شہدائے ماڈل ٹاؤن کا ساتھ دیں۔ اگر ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو طاقتور حکمران اپنے سیاسی مفادات کیلئے کمزور عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے رہیں گے۔ پاکستان عوامی تحریک سندھ کے صدر اور سنٹرل کور کمیٹی کے ممبر مخدوم ندیم ہاشمی، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر، فیاض وڑائچ اورسردار شاکر مزاری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور آئین و قانون کے مطابق انصاف مانگ رہے ہیں۔ 2 سال گزر جانے کے بعد بھی ہمارے 14 شہید اور 90 سے زائد زخمیوں کو انصاف نہیں ملا ۔ہم انصاف کے اداروں سے پوچھتے ہیں کہ 17 جون 2014 ء کے دن ہمارے 14 کارکنوں کو کس جرم کی پاداش میں قتل اور 90 سے زائد کو عمر بھر کیلئے معذور کیا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی ادارے نے انصاف نہیں دیا،اب ہمارے پاس انصاف کیلئے سڑکوں پر آنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ایف آئی آر آرمی چیف نے درج کروائی وہی ہمیں انصاف دلوائیں گے۔ مخدوم ندیم ہاشمی نے کہا کہ سربراہ عوامی تحریک آج کے اجلاس کے اختتام پر آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔وہ جو بھی اعلان کرینگے کارکن اس پر لبیک کہیں گے۔فیڈرل کونسل انہیں پہلے ہی فیصلوں کا اختیار دے چکی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...