ڈاکٹر کانگو وائرس کی بھینٹ چڑھنے والی نادیہ کا مرض ہی نہ جان سکے

ڈاکٹر کانگو وائرس کی بھینٹ چڑھنے والی نادیہ کا مرض ہی نہ جان سکے
ڈاکٹر کانگو وائرس کی بھینٹ چڑھنے والی نادیہ کا مرض ہی نہ جان سکے

  


لودہراں(نمائندہ پاکستان)کانگو وائرس سے جاں بحق ہونے والی نرسنگ سکول کی فائنل ائیر کی طالبہ نادیہ کے ورثا ء نے’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ DHQہسپتال لودہراں اور وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں کانگو وائرس کا مناسب علاج نہ ہے جاں بحق ہونے والی طالبہ کے خاندان کے مشتاق احمد بھٹہ نے بتایا کہ انکے خاندان کے چالیس افراد اس موذی مرض کے خوف میں مبتلا ہیں انہوں نے کہا کہ DHQہسپتال میں کانگو وائرس کی تشخیص کے لئے کوئی لیب نہ ہے انکے خاندان کے نمونے لئے گئے ہیں اور ابتدائی اندازوں سے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں جس سے ان لوگوں کو کنفرم نہیں ہو رہا کہ ان میں سے کسی شخص میں اس موذی مرض کے اثرات تو نہیں پائے جاتے انہوں نے بتایا کہ نادیہ کو عید کی چھٹیوں میں ڈیوٹی کے دوران سرنج لگنے سے انگلی سے خون بہا تھا جس کے تین روز بعد اسکی طبعیت خراب ہوئی تو DHQاورBVHہسپتال کے ڈاکٹر یہ تشخیص ہی نہیں کر پائے کہ اسے کانگو وائرس ہے اور وہ جاں بحق ہوگئی انہوں نے کہا کہ DHQ ہسپتال کا عملہ اپنی نااہلی چھپا رہا ہے نادیہ کو DHQہسپتال میں آنے والے کسی مریض سے یہ وائرس لگا ہے انہوں نے بتایا کہ متوفی نادیہ کا والد حقنواز محکمہ صحت کا ریٹائرڈ ملازم ہے انہوں نے کہا کہاایم این اے جہانگیر خان ترین سے ہم لوگ رابطہ کر رہے ہیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو رہا انہوں نے جہانگیر خان ترین سے مطالبہ کیا کہ انکے خاندان کے اسلام آباد ،کراچی کی بڑی لیب سے کانگو وائرس کے ٹیسٹ کرائے جائیں تاکہ انہیں کنفرم ہو کہ وہ اس موذی مرض میں مبتلا تو نہیں انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری طور پر انکے خاندان کے ٹیسٹ کرائے جائیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...