جماعت اسلامی نے راجناتھ سنگھ کی آمدروکنے کامطالبہ کردیا

جماعت اسلامی نے راجناتھ سنگھ کی آمدروکنے کامطالبہ کردیا

لاہور(خبر نگار خصوصی)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ حکومت بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کو سارک کانفرنس میں شرکت سے روک دے ۔دونوں ملکوں کی حکومتوں کو کان کھول کر سن لیناچاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا ، مذاکرات بے نتیجہ رہیں گے ۔ حکومت پارلیمانی وفد تشکیل دے جو اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اور گیارہ غیر مستقل ممالک میں جا کر کشمیر ایشو کو اجاگر کرے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد کے ہمراہ ناصر باغ میں 31 جولائی کو امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں لاہور سے واہگہ بارڈر تک آزادی کشمیر مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ ہم عوام کو جماعت اسلامی پنجاب کے زیراہتمام 31 جولائی کو لاہور سے واہگہ بارڈر تک ہونے والے آزادی کشمیر مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں ۔ آزادی کشمیر مارچ ان کشمیری نوجوانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ ہوگا جو بھارتی فوج کی گولیاں سینوں پر کھا کر بھی آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مشرقی پاکستان ، مشرقی پنجاب ، آسام اور کشمیر میں ظلم کی انتہا کر رہاہے ، جبکہ اقوا م متحدہ اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اقوا م متحدہ سمیت انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی ، بے حمیتی اور مسلم دشمنی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ عالم اسلام کو متحد ہو کر اپنے مسائل خود حل کرناہوں گے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ بھارت کے ساتھ ثقافتی طائفوں اور تجارتی لین دین کو معطل کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور کشمیر سے فوج واپس بلا کر جیلوں میں بند ہزاروں کشمیریوں کو رہا نہیں کرتا ، اس سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہونی چاہیے ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ آزادی کشمیر کی تحریک ہندو بنئے اور دہلی سرکار کی غلامی کی زنجیریں توڑنے کی تحریک ہے اور ہم اس تحریک میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔اس مو قع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پندرہ روزہ پروگرام بنایا تھا ۔ان دنوں میں سینکڑوں مقامات پر مظفر وانی شہید اور شہدائے کشمیر کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ مختلف شہروں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلسے جلوس اور مظاہرے کیے گئے اور پنجاب سمیت ملک بھر میں عوام کو آزادی کشمیر کی تحریک کی اہمیت کواجاگر کیا گیا ۔ انہوں نے ناصر باغ سے واہگہ بارڈر تک آزادی کشمیر مارچ کے روٹ کے حوالے سے بتایا کہ آزادی کشمیر مارچ پریس کلب ، گڑھی شاہو ، دھرم پورہ چوک ، صدر بازار ، گول چکر سے ہوتاہوا ہربنس پورہ انٹر چینج کے راستے واہگہ بارڈر پہنچے گا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...