میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی مالکان کی ذمہ داری، کارکنوں کی گروپ انشورنس کروائی جائے: مجیب الرحمٰن شامی

میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی مالکان کی ذمہ داری، کارکنوں کی گروپ انشورنس کروائی ...

لاہور(خبر نگار خصوصی) میڈیا ہاؤسز کی سیکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے ، صحافیوں کی انشورنس ہونی چاہیے ،خیبر پختونخواہ میں جس طرح صحافیوں کی لائف انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کی گئی ہے باقی تمام صوبوں کو بھی خیبر پختونخواہ کی تقلید کرنی چاہیے ،ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایک غیر سرکاری تنظیم انڈویجوئل لینڈ کے زیر اہتمام میڈیا ہاؤسز کی سیکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ صحافیوں کی ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران کیا۔ تقریب میں روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی ، ایڈیٹر پاکستان ٹوڈے عارف نظامی ، صدر لاہور پریس کلب محمد شہبازمیاں اور ایڈیٹر ڈیلی ٹائمز مہرتارڑ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس تربیتی ورکشاپ کی میزبانی کے فرائض این جی او کی منتظم سندس سیدہ اور معروف ٹی وی کمپیئر توثیق حیدرنے سر انجام دیے ۔،ورکشاپ کے تیسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کی ذمہ داری صرف مالکان کی ہی نہیں بلکہ مالکان اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، تمام صحافتی اداروں کے مالکان کیلئے لازم ہے کہ وہ صحافی کارکنوں کی گروپ انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کروائیں، دہشتگردی کے واقعات کی کوریج کے دوران صحافیوں کیلئے خصوصی ضابطہ کار طے ہونا چاہیے تاکہ ان کی زندگیوں کو لا حق ہونیوالے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ جس قدر ہو سکے دہشتگردی انتہاپسندی جارحیت اور فرقہ وارانہ فسادات پر محتاط پالیسی اختیار کریں تاکہ ان کے اپنے لیے سیکیورٹی کے مسائل پیدا نہ ہوں۔فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معمول کے جرائم امریکہ اور یورپ میں بھی ہوتے ہیں ڈکیٹی ،اغواء وغیر ہ جگہ جگہ عام ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں رات کی تاریکی میں بھی خوف نہیں ہوتا۔میں نے ایران میں ایک ریڈیو کے کارکن سے امن و امان کی صورتحال کے بارے میں استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں رات 11بجے ڈیوٹی ختم کر کے گھر جاا ہوں تو میر ی اہلیہ مجھے کہتی ہے کہ آپ فریش ہوں میں بازار سے روٹی لے آتی ہوں۔ہمارے ہا ں ماڈل ٹاؤن سے مال روڈ پر آنے کیلئے لڑکیاں گھبراتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ماحول میں احساس تحفظ ختم ہو گیا ہے جرم کہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن امریکہ اور لندن میں مجرم قانون کی گرفت میں آتے ہیں اور انہیں سزائیں بھی ملتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی،انتہاپسندی اور فرقہ واریت آپس میں بہنیں ہیں ۔ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں پسیماندہ ہیں جو دہشتگردی جیسی عفریت سے مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔آزادی فکر اور اظہار خیال کی ضرورت تو تب پیش آئے گی جب انسان کا وجود ہوگا ۔جان کا تحفظ پہلے ہونا چاہیے۔9/11کے بعد امریکہ نے اپنی تمام فورسز کی قوت مجتمع کی اور وہ اب بھی مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں اور اس کے بعد کوئی واقعہ نہیں ہوااور ہم طویل عرصے تک کوئی ٹھوس سیکیورٹی پالیسی نہیں بنا سکے۔اس امر پر غور کی ضرورت ہے کہ بدلتے حالات میں عدلیہ اور پولیس کا کردار کیا ہونا چاہیے معمول کی عدالتیں دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔پاکستان میں 2013تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی اور ایکشن پلان کیا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم نے آپریشن لیول پر کامیابیاں حاصل کیں ۔دہشتگردی وبا ء کے طور پر سامنے آئی ہے ،میڈیا ہاؤسز بھی اس کی زد میں ہیں ان کا تحفظ کیسے ہونا چاہیے اس کا انحصار میڈیا ہاؤسز کی پالیسیوں پر ہے۔دہشتگردی کے خلاف جو اداے کھڑے ہوتے ہیں خطرہ صرف انہیں ہے کیونکہ خطرہ لینا ہماری غیر ت اور پیشے کا تقاضہ ہے فاٹا جیسے جن علاقوں میں خطرات منڈلا رہے ہیں وہاں ٹھوس اقدامات ہونے چاہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک آزادی اظہار کا تعلق ہے تو بات کرنے کا سلیقہ ضرور ہونا چاہئے۔میڈیا ہاؤسز کی سیکیورٹی بنیادی طور پر مالکان کی ضرورت ہے ۔حکومت سے بھی اس سلسلہ میں بات کی ہے کہ کارکن اور مالک کی تربیت ہونی چاہیے کہ ہنگامی حالات میں فرائض کس طرح ادا کرنے ہیں ۔دہشگردی کے واقعات پر کوریج پربھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔خود کش حملوں اور دھماکوں کی 24گھنٹے کوریج کی وجہ سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں 40سال بعد بھی اپنے آپ کو طالب علم سمجھتا ہوں اور روزانہ 10ہزار لفظ ضرور پڑھتا ہوں ،میں نے حکومت سے کہا کہ وہ چھوٹے اداروں کا انشورنس پریمئیم خود ادا کرے اور اشتہارات سے پریمیم کی رقم کاٹ لے ۔ورکروں کی کسی صحافی تنظیم نے آج تک کارکنوں کے تحفظ کی بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ہماری پولیس آج بھی کالونئیل ہے ۔ہماری پولیس کو بھی فوج جتنی آزادی ہونی چاہیے ۔بیوروکریسی کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے حکمران وراثتی حکمرانی قائم کر رہے ہیں دستور کے تابع چلیں گے تو کام بنے گا۔چیف ایڈیٹر روز نامہ پاکستان نے کہا کہ ہمارے ادارے کے کارکن بھی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں ہم نے ان کے لواحقین سے ہر ممکن تعاون کیا تمام کارکنوں کی 10فیصد تنخواہیں بڑھائی ہیں مزید اضافہ بھی کریں گے انہوں نے انڈیجوئیل لینڈ کے توثیق حید ر سے کہا کہ وہ وفد بنا کر میڈیا مالکان کو ملیں اور میڈیا ہاؤسز کی سیکیورٹی کے حوالے سے تجاویز پیش کریں ۔ ڈیلی پاکستان ٹوڈے کے چیف ایڈیٹر عارف نظامی نے کہا کہ جس طرح خیبر پختواہ کی حکومت نے صحافیوں کی انشورنس کی ہے باقی صوبوں کو بھی تقلید کرنی چاہیے ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو مکمل تحفظ دیا جائے۔ لاہور پریس کلب کے صدر محمد شہباز میاں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں ، جو صحافی مالکان کو اربوں روپے کما کر دیتے ہیں ان کی زندگیوں کی حفاظت کیلئے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی جا رہی ، بدقسمتی سے صحافتی تنظیموں میں وہ اتحاد نظر نہیں آرہا جو کہ ہو نا چاہیے اور اسی کا خمیازہ وہ بھگت رہے ہیں ، جب تک صحافتی تنظیمیں اکٹھی نہیں ہوں گی اس وقت تک صحافی کارکنوں کے حقوق کا استحصال ہو تا رہے گا۔ ایڈیٹر ڈیلی ٹائمز مہر تارڑ نے کہا کہ صحافیوں کو سیکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کے لیے ضروری ہے لیکن صحافیوں کو بھی معاشرے میں ذمہ داری سے کام لینا چاہیے تاکہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوسکیں کہ ان کو حکومت سے اپنی سیکیورٹی کا مطالبہ کرنا پڑے ۔ تقریب میں کالم نگار ڈاکٹر حسین پراچہ،روز نامہ پاکستان کے ڈائریکٹر اشفاق رؤف، نعیم مصطفےٰ ، ارشد محمود،محمد ابراہیم ،شہزاد چوہدری، کرنل(ر)طارق صدیقی،نازیہ جبیں اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...