جماعۃالدعوۃ کا بھارتی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد پر احتجاج کا اعلان

جماعۃالدعوۃ کا بھارتی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد پر احتجاج کا اعلان

لاہور(خبر نگار خصوصی) امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ راجناتھ سنگھ کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ حکمران بتائیں بھارتی وزیر داخلہ کا استقبال کر کے کشمیریوں کے زخموں پر اور کتنا نمک چھڑکیں گے۔ قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے راجناتھ کی پاکستان آمد پر بھرپور احتجاج کرے گی۔کشمیر پالیسی کو کنفیوژن سے پاک کرکے واضح اور دوٹوک بنایا جائے۔ پشاور میں دہشت گردی کے بعد منعقدہ اے پی سی میں سخت فیصلے کئے گئے تو قوم حکومت کے ساتھ تھی۔اب اگر کشمیر پر بھی حکمران بہتر کردار ادا کریں اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں مضبوط پالیسی بنائیں تو قوم انکے ساتھ ہو گی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر نتیجہ خیز موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ غذائی قلت کے خاتمے کے لئے حکومت امدادی سامان کشمیر بھجوائے۔ ترکی سے فلسطینیوں کی مدد کیلئے فریڈم فوٹیلا چل سکتا ہے تو پاکستان سے مظلوم کشمیریوں کیلئے امداد کیوں نہیں جاسکتی۔ میڈیا کشمیر کے حوالہ سے قوم کی ذہن سازی کرے۔کشمیری شہداء کا خون ہمیں پکار رہا ہے۔انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب کرنے کیلئے سفارتخانوں کو متحرک کیا جائے ۔کشمیر کا مسئلہ تقریروں سے حل نہیں ہو گا جرأتمندانہ فیصلے کئے جائیں۔وہ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں سینئرصحافیوں، کالم نگاروں اوراینکر حضرات سے مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرؤف نے کشمیر کے حوالہ سے ملٹی میڈیا بریفنگ بھی دی۔ تقریب میں جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان محمد یحییٰ مجاہد بھی موجودتھے۔ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہاکہ جو حالات کشمیر میں ہیں کیا واقعی اس کا درد پاکستان میں محسوس کیا جا رہا ہے‘اس وقت یہ بہت بڑا سوال ہے؟۔سارے کشمیری آج سڑکوں پر ہیں۔خود مختار کشمیر والا دور پرانا تھا۔آج معاملہ آگے بڑھ چکا ہے۔تحریک کی قیادت نوجوانوں کے پاس ہے اور جو پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھاتا،پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگاتا ،کشمیرکی تحریک یا سیاست میں اسکا کوئی کردار نہیں رہا۔کشمیریوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ قوم اس وقت میدان میں ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اخبارات بند،سوشل میڈیا بھی بند کر دیا گیا۔ڈاکٹرز کو کشمیریوں کے علاج معالجے کے لئے جانے کی اجازت نہیں ملی۔کشمیرکے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا وکیل مانا لیکن یہاں کی صورتحال عجیب ہے۔کشمیر پالیسی میں کنفیوژن ہے ۔کشمیری متحد ہو چکے ہیں۔اگر یہاں کنفیوژن ہو گا تو تحریک نہیں بنے گی۔وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ سے لے کر عام آدمی تک ایک ہی بات کہے۔بانی پاکستان نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔اس پر ہماری پالیسی نہیں بنی بلکہ ہم پیچھے ہٹے۔19جولائی کو گلاب سنگھ کے سودے کو کشمیریوں نے رد کیا تھا۔ہمارے حکمرانوں کا فرض بنتا تھا کہ دنیا کو بتاتے کہ کشمیریوں کا جمہوری موقف قبول کیا جائے ۔لیکن پاکستان کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا اور انڈیا نے کشمیر کی تحریک کو دہشت گردی کی تحریک ثابت کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد انڈیا کو حوصلہ ہوا۔بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا گیا۔کشمیر کا نام لینے والوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جو یکسوئی کشمیر میں ہے وہ پاکستان میں بنانی ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کشمیر کے مسئلہ پر بڑی اے پی سی بلاتے۔پشاور میں دہشت گردی کے بعد فوج اور حکومت نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔سکولوں ،بازاروں میں دہشت گردی پر جو فیصلے ہوئے قوم حکومت اورفوج کی پشت پر کھڑی تھی اور کامیابی ملی۔کیا کشمیر کا مسئلہ پشاور میں دہشت گردی کے برابر نہیں؟۔کیا کشمیر کا مسئلہ پر ہم کھڑے نہیں ہو سکتے؟۔آج کشمیری پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے گولیاں کھا رہے ہیں۔پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن ہو نے والا ہے۔اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے میڈیا کو کردار ادا کرنا ہے۔چینلز انکو اہمیت دیں ۔کشمیر کی بات کشمیریوں کی زبان سے سنائی جائے اورحکومت پر دباؤ بڑھایا جائے کہ بڑا فیصلہ کیا جائے۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔پالیسی کی بنیاد یہ جملہ بنے گا تو بڑا کردار ادا کرسکیں گے۔انہوں نے مزیدکہاگوجرانوالہ،لاہور،کراچی میں کشمیریوں نے ووٹ دیے جو ووٹ دے سکتے ہیں وہ آزادی کے لئے کیوں کچھ نہیں کر سکتے۔قومی اسمبلی میں تقریر اور پھر کسی فورم پر کشمیر کے حوالہ سے بیان یہ کچھ نہیں۔ایسی موثر پالیسی بنائی جائے جو آزادی کشمیر پر منتج ہو۔انہوں نے کہا کہ سارک ممالک کی کانفرنس میں تین اگست کو راجناتھ پاکستان آرہا ہے جس کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔کشمیریوں نے اسے ملنے سے انکار کر دیا۔پاکستان میں یہاں فوٹو سیشن ہوں گے۔ملاقاتیں اور پروٹوکول ہو گا ۔ہم راجناتھ کا استقبال کر کے کشمیریوں کے زخموں پر کتنا نمک چھڑکیں گے۔سارک تو انڈیا کے خلاف ضیا ء الحق نے بنائی تھی جن ممالک پر انڈیا مظالم کرتا تھا۔لیکن پھر انڈیا نے اس پر قبضہ کیا ۔بھارتی حکومت کے عہدیدار ماضی میں پاکستان پر الزام لگا کر دورے ملتوی کرتے رہے۔اب کوشش کی جائے کہ کشمیریوں کا قاتل دہشت گردراجناتھ پاکستان نہ آئے۔اس کے پاکستان آنے سے ہم کشمیریوں کا اعتماد کھوئیں گے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا کشمیرکی تحریک کو دہشت گردی کی تحریک بنانے کے لئے میرا نام استعمال کرتا ہے ۔ممبئی کا واویلاکیا جاتا ہے۔جب الزام لگا تو انڈیا کے دباؤ پر مجھے گرفتار کیا گیا تھا،انڈیا نے آٹھ سو صفحات پر ڈوزیئر میرے خلاف بھیجے مگر لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ محض میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے ممبئی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ہائیکورٹ نے رہا کیا تو رحمان ملک نے سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کر دیا۔سپریم کورٹ سے بھی وہی فیصلہ آیا۔میں نے سارے فیصلے بانکی مون کو بھیجے کہ تم کس بنیاد پر پابندیاں لگاتے ہو۔اگر ملکوں کے نظام،عدالتوں کو تسلیم کرتے ہو تو یہ فیصلے تسلیم کرو۔انڈیا کے علاوہ کسی بھی ملک میں عدالت بناؤ ہم صفائی دیں گے۔لیکن بانکی مون نے صرف اتنا جواب دیا کہ خط موصول ہو گیا۔اسکے بعد کوئی جواب نہیں آیا۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ کلمہ کا رشتہ ہے۔پچیس برس میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔اسلام کے رشتے سے کشمیری پاکستانی ہیں ۔انڈیا کے26اضلاع کشمیر کی آزادی کی بات کر رہے ہیں۔آٹھ لاکھ بیس ہزار بھارتی فوج نوے لاکھ کشمیریوں پر روزانہ مظالم کے پہاڑ توڑتی ہے۔ہر گیارہ کشمیریوں پر ایک فوجی مسلط ہے۔گمنام لاشوں کی کوئی تعداد نہیں۔کشمیریوں کی تحریک اب بہت آگے ہو چکی ہے۔کرفیو کو بائیس دن ہو چکے ہیں۔کاروبار بند ہے،تعلیمی ادارے بند ہیں۔مگر کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...