سندھ کی نئی کابینہ میں داخلہ کا قلمدان کسی کو بھی نہیں دیا گیا

سندھ کی نئی کابینہ میں داخلہ کا قلمدان کسی کو بھی نہیں دیا گیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ کی نئی کابینہ میں داخلہ کا قلمدان کسی کو بھی نہیں دیا گیا ہے ۔ یہ قلمدان فی الحال وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس رہے گا ۔ سہیل انور سیال کے پاس پہلے داخلہ کا قلمدان تھا ، اب انہیں زراعت کا قلمدان دیا گیا ہے ۔اس حوالے سے جب سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے ہفتہ کو مزار قائد پر صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ کیا سہیل انور سیال کی کارکردگی اچھی نہیں تھی کہ ان سے داخلہ کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے ؟ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سہیل انور سیال نے بہت اچھا کام کیا ۔ یہ وزیر اعلیٰ کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کس وزیر کو کیا قلمدان سونپے ۔ اس حوالے سے صحافیوں کو سوال بھی نہیں کرنا چاہئے ۔ سہیل انور سیال کی کارکردگی اچھی تھی ۔ اس لیے انہیں ایک اور محکمہ دیا گیا ہے ۔ نئی سندھ کابینہ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم قلمدان بھی ان وزراء کو نہیں دیئے گئے ، جو سابق کابینہ میں ان کے پاس تھے ۔ اس سے پہلے نثار احمد کھوڑو کے پاس تعلیم کا قلمدان تھا ، جو اب جام مہتاب حسین ڈاہر کو سونپا گیا ہے ۔ جام مہتاب حسین ڈاہر کے پاس پہلے صحت کا قلمدان تھا ، جو اب ڈاکٹر سکندر میندھرو کو دیا گیا ہے ۔ جام خان شورو کے پاس پہلے کی طرح بلدیات اور مکیش کمار چاولہ کے پاس پہلے کی طرح ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے قلمدان ہیں ۔ سابق کابینہ میں شامل دو اہم وزراء نئی کابینہ میں نہیں ہیں ، ان میں سر دار علی نواز خان مہر اور سید ناصر حسین شاہ شامل ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعہ کی شب سردار علی گوہر خان مہر کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کی تھی ۔ اس موقع پر سردار علی گوہر خان مہر ، سردار علی محمد خان مہر ، سردار محمد بخش مہر اور سید ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ گھوٹکی کے مہر سرداروں کے ساتھ کابینہ میں شمولیت کے معاملے پر فی الحال معاملات طے نہیں ہو سکے ۔ میر ہزار خان بجارانی بھی نئی کابینہ میں شامل نہیں ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...